07 ستمبر 2023

لوگ کیا کہیں گے ۲

کچھ لوگ اپنے تصورات  یا اپنے ڈراؤنے خوابوں میں اب بھی لوگوں کو دروازوں کی آڑ میں کھڑے ہو تاکنے۔ آنکھوں آنکھوں میں اشاروں سے یا سرگوشیوں میں اپنے بارے میں باتیں کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ بظاہر ان کے تصورات کا سوفٹویئر اپڈیٹ ہوئے کافی روز ہو چکے ہیں۔ اتنے مصروف دور میں کس کے پاس یہ سب کرنے کا وقت ہوتا ہے؟ 

اب تو شائد وہ کھڑکی سے فوٹو لے لیتے ہیں۔ مسئلے پر ہماری جذباتی تقریر ابھی پوری طرح شروع بھی نہیں ہوئی ہوتی کہ وہ ٹیکسٹ پر ہمارے بارے میں سب کچھ کہ کر باہم ہنس بھی چکے ہوتے ہیں ۔اگر لوگوں کا کہنا آپ کا بھی مسئلہ ہے تو بلا تخصیص تمام واٹس ایپ گروپ جوائن کرلیں۔ کیونکہ باتیں اب وہیں ہوتی ہیں۔ لیکن کیا یہ باتیں واقعی ہوتی ہیں؟ اور ہمارا ان سے کیا لینا دینا ہے؟ 

عموماً تو دو ہی قسم کی باتیں ہو سکتی ہیں۔ یا ہمارے حق میں یا پھر ہمارے خلاف۔ ہمارے حق میں ہونے والی گفتگو عموما ہمیں اچھی لگتی ہے ہمیں لگتا ہے ہم اہم ہیں، قبول کیے جارہے ہیں۔ مقبول ہیں۔ ہمارے خلاف ہونے والی باتیں حوصلہ شکن ہوتی ہیں۔ ہم ریجیکٹڈ محسوس کرتے ہیں۔ ہمیں لگتا ہے ہمییں تنہا کردیا گیا ہے۔ 

ہم تعریف تو پسند کرتے ہیں خواہ جھوٹ ہی ہو کیونکہ اس میں ہمارے کسی پہلو کو ویلڈیٹ کیا جاتا ہے۔ ہماری کسی خوبی اور قابلیت کا علی الاعلان اقرار کیا جاتا ہے۔ لیکن ہم تنقید پسند نہیں کرتے خواہ وہ سچ ہی ہو کیونکہ اس میں ہماری کسی کمی کا اشارہ ہوتا ہے۔تنقید ہماری نااہلیت اور خامیوں کی برسرعام گواہی لگتی ہے۔ اور تنقید تعریف سے کہیں زیادہ دیر پا ہوتی ہے۔ ہزار تعریفیں ایک طرف اور دوسری طرف کوئی سی ایک تنقیدی آواز جو ہماری دکھتی رگ پر رکھ دیتی ہے۔ 

پانچ سات برس کی عمر سے ہی ہم تعریفوں اور تنقیدی تبصروں میں فرق کرنا سیکھ لیتے ہیں۔ تبھی سے ہمیں منفی تبصروں میں پنہاں طاقتور خطرے کا بھی ادراک ہونا شروع ہوجاتا ہے۔ جیسے اپنی پتنگ کٹنے پر کوئی دور چھت سے للکارتاا ہے تو ایک دفعہ باہر آ۔۔ یہ تنقید ہمارے کمفرٹ زون سے باہر آنے کا گویا انتظار کر رہی ہے۔ ہمارا دماغ ہمیں خطرے سے بچانے کے لیے کبھی دوبارہ اس سمت نہیں جاتے دیتا۔ اس کام کے بارے میں سوچتے بھی نہیں جس پر لوگ کچھ کہ سکتے ہیں۔ کیا اب ہم محفوظ ہیں ؟ یا درحقیقت اب ہم محصور ہیں؟ 

لیکن یہ کوئی غیر حقیقی خوف تو نہیں ہے۔ کئی بار روزانہ کا کوئی عمومی برا تجربہ ہمارے پورے دن کا بیڑہ غرق کر سکتا ہے۔ مجھے اس پر اور بھی حیرت ہے کہ اتنے نازک احساسات کے ساتھ ہم نے پہلے تو سوشل میڈیا ایجاد کر لیا ہے اور اب لوگوں کو بلاک کرتے رہتے ہیں۔  لیکن بہرحال تنقید کا ہمیں فائدہ بھی ہے۔ ہمارا دماغ اس تنقید کا جتنا بھی خوف ہمارے اندر پیدا کرتا ہے اس سے قدرتی طور پر ایک تحریک بھی پیدا ہوتی ہے جو ہمیں مقابلہ کرنے پر اکساتی ہے۔اور جب ہم دوسروں کو غلط ثابت کرنے۔ یا پھر اپنی اصلاح کی خاطر اس تنقید کو ٹھنڈے دماغ سے سوچتے ہیں تو زیادہ منطقی طور پر چیزوں کا جائزہ لینے کے قابل ہوجاتے ہیں۔ لیکن تعریف کے نقصانات سے کیسے بچا جاسکتا ہے اور  تنقید کو کیسے اپنے فائدے میں استعمال کیا جاسکتا ہے  اس پر انشأاللہ آئیندہ پوسٹ میں۔ والسلام


کوئی تبصرے نہیں: