‏نثری نظم لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
‏نثری نظم لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

03 اپریل 2023

کام جاري ہے


امکان کی بارگاہ میں 
بے ترتیب ہنگام کا بے توازن رقص
خود شناسائی کی بے کار لے پر ڈولتے
بے مقصد موھوم امیدوں کے پیر
۔عدم کے صحن میں
مستحکم تضادات اور دکھ دیتی ادھورگی 

تکمیل کی داستان بننے کا
فطرت کاایک اپنا ہی طور ہے۔


       

 نظم کے لیے کتاب دیکھیں 

دریچوں میں جگنو

رافعہ خان

17 مارچ 2023

ایک ناکام بحالی


ایک ناکام بحالی
 an unsuccessful resuscitation
 میری شام، مری سحر۔۔
وقت میرے، کہیں اور بہا لے جامجھے

تحریک کی اجنبی لہریں
دل کچھ اور ڈبو رہی ہیں میرا
جل چکی نبضوں کے برقی احیا کی بے سود کوششیں    
اپنے قدموں پر جھکتے، لڑتے خود سے
یہ شائد آخری لڑائی ہے میری

مکمل نظم کے لیے کتاب دیکھیں 

دریچوں میں جگنو

رافعہ خان

14 فروری 2023

ماں کی وراثت


کیا ہم اس کی رجائیت اور مسکراہٹ
اورمحبت اور مروّت
اور صبر اورسخاوت کو
وراثت میں برابر بانٹ سکتے ہیں ؟

  

نظم کے لیے کتاب دیکھیں 

دریچوں میں جگنو

رافعہ خان

14 جنوری 2023

Far, Far Away


In a Galaxy Far, Far Away

 دور کی ایک کہکشاں پر۔۔

کئی نوری سال بعد

ہم پہلے مل چکے ہیں۔

تم اب بھی ستارے بیچتے ہو؟



مکمل نظم کے لیے کتاب دیکھیں 

دریچوں میں جگنو

رافعہ خان

17 فروری 2020

جب تم منزل پہ پہنچو گے

جب خزاں رت زرد چہرہ لیے مجھ کو ملنے آئے گی
جب پتے سرد ہواؤں کے خوف سے پیلے ہو ہو کر
باغ میں ہر سو بکھریں گے
سارے پیڑ تشنہ لبی سے رفتہ رفتہ سوکھیں گے
تم اپنی منزل پہنچو گے
میں تم کو یاد کروں گی اور خزاں سے ہاتھ ملاؤں گی۔

_________

سچ ادھورا ہے ابھی

رافعہ خان

22 اپریل 2019

ناسٹلجیا

میں خود کو کتنا بھی روز مرّہ کے سانچے میں ڈھالوں
حقیقت پسندی سے جینے کی کتنی بھی کوشش کرلوں
تمہارا تصور ہمیشہ میرے ساتھ رہتا ہے
مجھ سے بات کرتا ہے۔

_______________

سچ ادھورا ہے ابھی

رافعہ خان

12 فروری 2018

وہ دن آج کی مانند نہیں تھے


تجھے ملنے سے پہلے ۔ ۔
صبحیں اور شامیں بالکل ایک جیسی تھیں
شفق کے رنگ مدہم تھے
پرندے شور کرتے تھے
راتیں سب کی سب خاموش ہوتی تھیں
بہت بےکار سی دنیا تھی یہ اس لمحے سے پہلے
جب آرزو نے دامن دل تھاما تھا۔



مکمل نظم کے لیے کتاب کا ڈاؤنلوڈ لنک دیکھیں۔

__________

سچ ادھورا ہے ابھی

رافعہ خان


13 مارچ 2017

تمہاری آنکھیں

تمہاری آنکھیں کوئی کائینات ہیں
جس میں کوئی انجانی دنیا منجمد ہو۔
یا کوئی سمندر۔
جس میں انسان گم ہو گیا ہو۔
یا محبت کا صحرا۔
جہاں اک معجزہ رقم ہو رہا ہو۔
یا کوئی راستہ۔
جو خلا سے تمہارے دل تک جا رہا ہو۔

مکمل نظم کے لیے کتاب کا ڈاؤنلوڈ لنک دیکھیں۔

__________

سچ ادھورا ہے ابھی

رافعہ خان


10 فروری 2016

تو محبت ہوگئی تم کو

تو محبت ہوگئی تم کو۔۔۔
تو اس خوش فہمی کو ابھی دل بھر کر جی لو تم
کہ اکثر انسانوں کو محبت کی خوش فہمی عمر بھر نہیں ہوتی
نہ دل میں درد اٹھتا ہے

16 دسمبر 2015

اشتباہ

چراغ جان سسک سسک کر جلتا رہا
انتشار ذات میں کوئی سہما ہوا سا واقعہ
بدرنگ لباس کی دھجی بنا جھولتا رہا
سوچ کے پیڑ کی سوکھی ہوئی ایک شاخ سے۔۔
اشتباہ خودی میں تھیں ہماری ذات پر
ہمارے منتظر وجود کی دستکیں ہمیں پہ تھیں،



مکمل نظم کے لیے کتاب دیکھیں 

دریچوں میں جگنو

رافعہ خان

27 اگست 2011

27 جولائی 2011

سامنے صرف راستہ ہے

اب خواہ چہرے پہ اپنا شناخت نامہ رکھ کر
پاؤں کے چکر سے رستہ ناپو
خواہ سیاہ راتوں میں روپہلے تصور آنکھوں میں چھپا کر
جذبوں کے سفر پر نکلو
چلتے رہو ۔ ۔ 

اب خواہ محبتوں کا اولین بہار لمحہ جیو جو قوس ِ قزح
کے ہزار لمحوں سے حسیں تر ہے
کائینات کے ہونے کا یقیں بن گیا ہے
خواہ کاغذوں پر چھپے بارشوں کے سارے وقفوں
گرتے پتوں۔ خزاؤں کے نقاب کے ابھرے تار گنتے رہو
چلتے رہو ۔ ۔ 

مکمل نظم کے لیے کتاب کا ڈاؤنلوڈ لنک دیکھیں۔

__________

سچ ادھورا ہے ابھی

رافعہ خان


06 جولائی 2011

22 جون 2011

میں ایک جھوٹ جیتی ہوں

میں ہوا کے کان میں اپنے خواب کہتی ہوں
ریت پر تصویریں نقش کرتی ہوں
پانی کے ورق پر اپنے راز لکھتی ہوں۔

میں تم سے کچھ نہیں کہتی
تم کب اس کو سمجھو گے ۔۔

مکمل نظم کے لیے کتاب دیکھیں 

دریچوں میں جگنو

رافعہ خان

16 فروری 2011

میں اور اب نہیں جیوں گی

نئے آسماں کے نیچے
نئی زمیں پر
نئے خواب نہیں بنوں گی
نئے موسم نہیں گنوں گی

مکمل نظم کے لیے کتاب دیکھیں 

دریچوں میں جگنو

رافعہ خان

12 جولائی 2010

سچ ادھورا ہے ابھی۔ انتساب


 لفظ کاش کے نام

جس کا سہ حرفی وجود
محبت سے نفرت تک
آرزو سے حسرت تک
سب ریاضتوں کا عنوان رہا ہے
کلمہء افسوس ہے مگر
حرف دعا بھی ہے۔

__________

سچ ادھورا ہے ابھی

رافعہ خان


22 جون 2010

ناپرساں


اس بولتے شہر میں میرا غم کون کب سنے

میرے شہر کے سارے لوگ، 

خود اپنے ارادوں کی نا قدری کی داستانیں بیان کرتے 

اس زمانے کی آگہی کے جرم سناتے

لوگوں کی جہالت کے غم مناتے ، بولتے مسکراتے جا رہے ہیں

سبھی کو اپنا غم سنانا ہے ابھی

راستوں میں ٹھوکریں کھاتے قدموں کے زخموں کے قصے

حکایت زندگی رقم کرتے خونچکاں ہاتھوں کی داستانیں

میرا غم کون کب سنے؟؟


__________

سچ ادھورا ہے ابھی

رافعہ خان


11 جون 2010

سچ ادھورا ہے ابھی

ابتدائی طور پر یہ دیباچہ میں نے پہلے ایڈیشن کی اشاعت کے وقت لکھا تھا۔ ایپل بک پر موجود نئی ای بک میں یہ تحریر شامل نہیں ہے۔ اس لیے اسے یہاں بلاگ پر شائع کیا ہے۔

 پیش نظم ۔سچ ادھورا ہے ابھی 

یہ میرا دوسرا مجموعہ کلام ہے۔ دوسرا قدم۔ جستجوئے آرزو میں کبھی تو ایک ہی جست میں قصہ تمام ہو جاتا ہے لیکن کبھی انتظار کی، پہچان کی، کوششِ پیہم میں صدیاں بیت جاتی ہیں۔ دوسرا قدم رکھنے کی جگہ ہی نہیں ملتی۔ خیالوں کا قریہ قریہ جھانک لیا جاتا ہے، جذبوں کے سمندر کے سمندر پار ہو جاتے ہیں، لفظوں کا پیمانہ لبریز ہو جاتا ہے، پھر وقت کی گنجائش ہی ختم ہو جاتی ہے، دوسرا قدم رکھنے کی جگہ ہی نہیں ملتی۔ ناتمام افسانہ کوئی موڑ دے کر تہ کردیا جاتا ہے۔ میرے ساتھ لیکن نہ پہلا معاملہ ہے نہ دوسرا۔ بلکہ ایک ایسی صورت ہے جہاں ہر اٹھتا قدم ارتقاء کی اک کڑی بن جاتا ہے۔ درجہ بدرجہ مقصود حقیقی کی طرف لے جاتا ہے۔

10 مئی 2010

خوابوں کی داستاں

ازل سے انساں کی چاہت
روشنی کے سارے خواب
تاریکی کی عنایت ہیں
انہیں ہم تیرگی ہی میں دیکھتےہیں
تیرگی ہی میں چاہتے ہیں
اور جشن کی روشنی میں
خواب زدہ زخمی آنکھیں لیے
اپنی تاریک ریاضتیں بھول کر
سب کے ہمراہ مسکراتے ہیں

__________

سچ ادھورا ہے ابھی

رافعہ خان