‏sachAdhura لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
‏sachAdhura لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

12 جولائی 2010

سچ ادھورا ہے ابھی۔ انتساب


 لفظ کاش کے نام

جس کا سہ حرفی وجود
محبت سے نفرت تک
آرزو سے حسرت تک
سب ریاضتوں کا عنوان رہا ہے
کلمہء افسوس ہے مگر
حرف دعا بھی ہے۔

__________

سچ ادھورا ہے ابھی

رافعہ خان


22 جون 2010

ناپرساں


اس بولتے شہر میں میرا غم کون کب سنے

میرے شہر کے سارے لوگ، 

خود اپنے ارادوں کی نا قدری کی داستانیں بیان کرتے 

اس زمانے کی آگہی کے جرم سناتے

لوگوں کی جہالت کے غم مناتے ، بولتے مسکراتے جا رہے ہیں

سبھی کو اپنا غم سنانا ہے ابھی

راستوں میں ٹھوکریں کھاتے قدموں کے زخموں کے قصے

حکایت زندگی رقم کرتے خونچکاں ہاتھوں کی داستانیں

میرا غم کون کب سنے؟؟


__________

سچ ادھورا ہے ابھی

رافعہ خان


10 مئی 2010

خوابوں کی داستاں

ازل سے انساں کی چاہت
روشنی کے سارے خواب
تاریکی کی عنایت ہیں
انہیں ہم تیرگی ہی میں دیکھتےہیں
تیرگی ہی میں چاہتے ہیں
اور جشن کی روشنی میں
خواب زدہ زخمی آنکھیں لیے
اپنی تاریک ریاضتیں بھول کر
سب کے ہمراہ مسکراتے ہیں

__________

سچ ادھورا ہے ابھی

رافعہ خان


09 فروری 2010

جب محبت جھٹکی جاتی ہے

اڑتی سوچیں پر سمیٹے خیال افق پر گم ہو جاتی ہیں
دل اک تسلسل سے سانس گنتا
رکنے لگتا ہے

24 جنوری 2010

شکست کا شمار

اس برس سے پہلے کا برس
بھر اس سے پہلے
یا اس کے بعد
یہ سارے سال
تاریخیں، دن، گھڑیاں، ثانیے
نرم روی سے مجھے شمار کرتے گزر رہے ہیں
اور میں انکو گن رہی ہوں
مگر میں پہلے تھک جاؤں گی
۔

__________

سچ ادھورا ہے ابھی

رافعہ خان