26 ستمبر 2023

اللیلیساٹ آئسفرڈ ۔ گرین لینڈ


گرین لینڈ کی ویسٹ کوسٹ پر آرکٹک سرکل سے قریبا تین سو کلومیٹر شمال میں اللیلیساٹ آئسفرڈ واقع ہے جس کا لفظی ترجمہ آئس برگ ہی بنتا ہے۔ یہ ان چند گلیشیرز میں سے ہے جس کے ذریعہ گرین لینڈ کی برف پگھل کر سمندر تک پہنچتی ہے۔ ہر دم پگھلتی آئس شیٹ اور تیزی سے بہتی برفانی ندی کا اونچی چٹانوں کے بیچ سے پگھلے برفانی تودے لیے سمندر میں اترنے کا ایسا منظر یہاں گرین لینڈ کے لیے ہی مخصوص ہے جس کی وجہ سے یونیسکو نے اسے عالمی ثقافتی ورثے میں شامل کر دیا ہے تاکہ یہاں کی قدرتی خوبصورتی کو محفوظ کیا جائے اور ٹوٹتے پگھلتے گلیشیئر کو قریب سے دیکھنے کی رسائی بھی فراہم ہو سکے۔ 

اگر تم کچھ وقت یہاں گزارو گے تو سمجھ جاؤ گے کہ واقعی چٹانوں، برف اور سمندر کے اس وحشی مگر دلکش امتزاج اور بہتے گلیشیرز سے پیدا ہونے والی ڈرامائی آوازیں بلاشبہ قدرتی حسن کا ایک یادگار اثاثہ مرتب کرتی ہیں۔ ویسے اسی فیصد برف سے ڈھکے گرین لینڈ کا نام شائد انسانی ذہن کی خود فریبی اور خوش امیدی کی ایک عجیب مثال ہے۔ پھر بھی پچھلے تمام گوشواروں کے پس منظر میں گلیشئرز پگھلنے کی رفتار میں انتہائی اضافہ ہوچکا ہے۔ اور آج یہ دنیا کے تیز ترین اور فعال گلیشیئرز میں سے ایک ہے۔ ہو بھی سکتا ہے ایک دن انسان اپنی چشم تصور کا معجزہ دیکھے۔ گرین لینڈ میں چاروں طرف ہریالی پھیل جائے۔ پھول کھلے ہوں پات ہرے ہوں۔ لیکن تب تک شائد باقی دنیا کا ایک بڑا حصہ زیر آب آ چکا ہوگا۔ 

کچھ لوگوں کے لیے یہاں کا اصل حسن سورج کے چڑھنے اور ڈوبنے میں ہے۔ آسمان پر پھیلے خوبصورت سرخ نارنجی رنگ یا ناردن لائیٹس۔ برف پر ان کا بے مثال انعکاس دید طلب نگاہوں کی راحت و تسکین کا سامان ہیں۔ زور و شور سے گرتے گلیشئیرز بھی سماعتوں میں کچھ ہیبت و ہنگام بن کر اترتے ہیں جو ہم تادیر نہیں بھلا سکتے۔ کچھ اور لوگوں کو صبح سویرے پانی میں کھیلتی وہیلوں۔ سیلز اور آس پاس اڑتے بیسیوں مختلف پرندوں کا حسن متاثر کرتا ہے۔ مجھے بھی یہ سب دلکش لگتا ہے۔ لیکن گرین لینڈ میں میرے دل پر اصل گرفت ایسی رات کا سمندری نظارہ ہے جس میں برف ہلکی روشنی میں صرف سفید دکھتی ہے۔ اور سمندر صرف سیاہ یا گہرا نیلگوں۔ 

سیاہی کے پس منظر میں دور تک پھیلے گلیشیرز کے ٹکڑوں پر میں جتنی دیر نگاہ جماتا ہوں مجھے لگتا ہے میرا دل بھی چھوٹی چھوٹی ٹکڑیوں میں بٹ رہا ہے۔مجھے لگتا ہے یہ منظر جانے میرے لاشعور کی کسی یاد کا حصہ ہے۔ جیسے میں نے ہزاروں بار اس کو اپنے خوابوں میں دیکھا ہے۔ دنیا میں ایسی مانوس جگہیں کم ہی ہوتی ہیں جن کو دیکھ کر ہمیں ایسے لگے کہ ہم صدیوں تک یہاں رہ چکے ہیں جیسے ہم یہیں پلے بڑھے ہیں۔ رفتہ رفتہ حقیقت اور خیال کی درمیانی لگیر دھندلانے لگتی ہے۔ شائد ہمارے خیالات بھی سمندر میں چھپے سائرن کی مانند ہوتے ہیں۔ وہ ہمیں ہمارے ہی تصورات سے شکار کرتے ہیں۔ ہماری من بھاتی شکل میں سامنے آتے ہیں ہمارے دل پسند نغموں کی زبان میں بات کرتے ہیں۔ سفر سے آزردہ مسافر ۔ تھکن زدہ ملاح کی اس سحر کے آگے کیا پیش ہے۔ وہ خود ہی اپنے پتوار چھوڑ دیتے ہیں ۔ ان کی کشتیاں سمندری چٹانوں سے ٹکرا کر پاش پاش ہو جاتی ہیں۔ ڈھونڈنے والوں کو پھر انکا کبھی کوئی نشان نہیں ملتا۔

۔۔۔۔
ہچ ہائیکر کی کہانی


کوئی تبصرے نہیں: