22 ستمبر 2023

ژانگ جیاجی فارسٹ

تمہیں میں ژانگ جیاجی فارسٹ کے بارے میں بتاؤں ؟ مگر میں جو بھی بتاؤں گا حقیقت اس سے بہت الگ اور بلند و بالا ہے۔ ستونوں کی سی سیدھی کھڑی چٹانیں اپنی ہریالی میں لپٹی ایک وسیع احاطے پر پھیلی ہوئی ہیں۔ کئی لوگ ہیں جو اسے دو چار دن کی چھٹی میں پورا دیکھنا چاہتے ہیں۔ وہ قطاروں میں لگے ۔ اپنے اپنے نقشے اور بروشر تھامے سامنے پھیلی فطرت کو کاغذ پر چھپی مختصر تصویروں اور ناموں سے ملانے کی میچنگ گیم میں مصروف نظر آتے ہیں۔لیکن تم قدرت کے اتنی تندہی و تفصیل سے صدیوں میں بنائے شاہکار کو چند گھنٹوں میں کیسے سراہ سکتے ہو؟ اس پرہیبت حسن کا تقاضا تو یہ ہے کہ تم وقت نکال کر آؤ۔ یا وہیں بس جاؤ۔ 

یوانجیآجی مجھے اس پارک میں سب سے زیادہ خوبصورت لگا۔ مجھ جیسے لوگوں کے لیے جو سیدھے بنے راستوں سے ہٹ کر فطرت کے کچھ اور قریب جانا چاہتے ہیں۔ اس کے سیدھے رستے سے گزر کر الگ پگڈنڈیاں بھی ہیں۔ اور کچھ خطرناک قدرتی پل بھی ہیں جہاں سے ہم بلندی کے نظاروں کو قریب سے سراہ سکتے ہیں لیکن زمین کو دیکھنا خوفزدہ بھی کرتا ہے۔ کوارٹز کے انہی ستونوں میں سکائی کالم بھی ہے جس کی بنا پر ایوٹار میں تیرتی چٹانوں کا خیال بنایا گیا تھا۔ 

میں اس کو اپنی روح میں جذب کرنا چاہتا ہوں لیکن جوں جوں میں وہاں وقت گزارتا جا رہا ہوں یہ جگہ میرے حواس کو اپنے قبضے میں کرتی جارہی ہے۔ اور مجھے یہ لگنے لگا ہے کہ کچھ بھی اپنی جگہ پر نہیں ہے۔ جیسے ایک آہستہ خرام مقناطیسی قوت زمین اور چاند اور سورج کی جگہیں بدل رہی ہو۔ دن اور رات کی ترتیب غلط ہونے لگی ہے۔ ہزاروں یادیں اصلی چہرہ پہنے تصور میں بن اور مٹ رہی ہیں۔ ہر لمحہ  خود  میں ایک خط ہے جو ایک قصہ ارسال کرنے پر مصر ہے۔ میں جیسے ایک ساتھ ریت کے ٹیلوں سمندر کی گہرائیوں اور پہاڑوں کی چوٹیوں سے یہ الفاظ لکھ رہا ہوں۔ میری  تلاش کبھی نہ ختم ہونے والا سفر ہے۔ میں نے اس تلاش کو اپنے چاروں طرف اوڑھ لیا ہے۔یا پھر اس نے مجھے چاروں طرف سے گھیر لیا ہے۔ 

یوں لگتا ہے یہ تمام لوگ جو یہاں ہیں وہ بھی اس تلاش میں میرے شریک ہو چکے ہیں۔ہم سب اس عظیم خوبصورتی کو پوج رہے ہیں جس کے سامنے ہم دل میں سرنگوں ہیں۔ گھٹنوں کے بل گر چکے ہیں۔ ہمارے سانس سینوں میں رک جاتے ہیں اور ہمارے دل جذب سے دھڑک اٹھتے ہیں۔ ہر ایک سیکنڈ میں یہ لمحہ ہزاروں بار ہم پر گزر رہا ہے۔ تمہیں یوں لگے گا یہی وہ مقام ہے جہاں ہم ہار جاتے ہیں۔


۔۔۔
ہچ ہائیکر کی کہانی


کوئی تبصرے نہیں: