شمٹ سکیل پر ایک انچ بڑی بلٹ اینٹ کے کاٹے کو لیول فور کی درد تسلیم کرتا ہے یعنی “خالص، شدید شاندار درد “ جو جلتے کوئلوں پر پاؤں میں تین انچ کھبے کیل کے ساتھ چلنے کے مترادف ہے جو چوبیس گھنٹے رہتا ہے۔ شمٹ اس درد کو فہرست میں درد زہ سے اوپر رکھتا ہے اور اس میں جھگڑنے کی کوئی بات نہیں کیونکہ کسی عورت نے آج تک شائد اپنے خالص شاندار اور شدید درد کی تفصیلات ٹھیک سے ریکارڈ نہیں کرائیں جو شروع تو بچے کی پیدائش کے دوران ہوتا ہے
زمین کے سب سے زیادہ بنجر اور خشک گوشے میں یکایک پھول ہی پھول کھل جائیں تو یہ ایک قابل دید مقام بن جاتا ہے۔ چلی کے صحرائے اٹاکاما میں یہ واقعہ کبھی پانچ سات سالوں میں اکا دکا بار ہو جایا کرتا تھا لیکن بڑھتی ہوئی بارشوں کے نئے معمولات کی وجہ سے اب دنیا کا خشک ترین صحرا ہر سال ہی گلابی، ارغوانی اور پیلے نارنجی رنگوں کے قدرتی پھولوں کی تزئین سے بھرے تختوں میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ آسٹرل بہار کا یہ عجیب رجحان پھولوں والا صحرا ( ڈیزیرٹو فلوریڈو) کہلاتا ہے۔
گرین لینڈ کی ویسٹ کوسٹ پر آرکٹک سرکل سے قریبا تین سو کلومیٹر شمال میں اللیلیساٹ آئسفرڈ واقع ہے جس کا لفظی ترجمہ آئس برگ ہی بنتا ہے۔ یہ ان چند گلیشیرز میں سے ہے جس کے ذریعہ گرین لینڈ کی برف پگھل کر سمندر تک پہنچتی ہے۔ ہر دم پگھلتی آئس شیٹ اور تیزی سے بہتی برفانی ندی کا اونچی چٹانوں کے بیچ سے پگھلے برفانی تودے لیے سمندر میں اترنے کا ایسا منظر یہاں گرین لینڈ کے لیے ہی مخصوص ہے جس کی وجہ سے یونیسکو نے اسے عالمی ثقافتی ورثے میں شامل کر دیا ہے تاکہ یہاں کی قدرتی خوبصورتی کو محفوظ کیا جائے اور ٹوٹتے پگھلتے گلیشیئر کو قریب سے دیکھنے کی رسائی بھی فراہم ہو سکے۔
اولمپک نیشنل پارک میں کچھ بہت ہی خوبصورت ٹریلز ہیں۔اگر تم لیک کریسنٹ کی ہائیک چنو گے تو اس میں لگا بندھا کچھ نہیں گویا ہم اپنے اڈوینچر کا انتخاب کرنے کے لیے آزاد ہیں۔ساحل تک کی لمبی واک یا طلوع آفتاب کا نظارہ دیکھنے کو اکثر سیاح یہاں تادیر رکنے کا انتخاب ضرور کرتے ہیں۔ آج یہاں سے کیپ الاوا، سٹورم کنگ پہاڑ کی ٹریل کی جانب سفر کر رہا ہوں۔ لیکن کل میں ہوہ دریا کی ٹریل پر تھا جو پارک کے پیسفک شمال میں واقع ہے۔
تمہیں میں ژانگ جیاجی فارسٹ کے بارے میں بتاؤں ؟ مگر میں جو بھی بتاؤں گا حقیقت اس سے بہت الگ اور بلند و بالا ہے۔ ستونوں کی سی سیدھی کھڑی چٹانیں اپنی ہریالی میں لپٹی ایک وسیع احاطے پر پھیلی ہوئی ہیں۔ کئی لوگ ہیں جو اسے دو چار دن کی چھٹی میں پورا دیکھنا چاہتے ہیں۔ وہ قطاروں میں لگے ۔ اپنے اپنے نقشے اور بروشر تھامے سامنے پھیلی فطرت کو کاغذ پر چھپی مختصر تصویروں اور ناموں سے ملانے کی میچنگ گیم میں مصروف نظر آتے ہیں۔لیکن تم قدرت کے اتنی تندہی و تفصیل سے صدیوں میں بنائے شاہکار کو چند گھنٹوں میں کیسے سراہ سکتے ہو؟ اس پرہیبت حسن کا تقاضا تو یہ ہے کہ تم وقت نکال کر آؤ۔ یا وہیں بس جاؤ۔
اس ہفتہ میں ساؤتھ ڈکوٹا میں بلیک ہلز کی ٹریلز پر سفر کر رہا تھا۔۔ بلیک ہلز نیشنل فارسٹ بہت سی وادیوں میدانی قطعوں، باغوں، ندیوں اور جھیلوں پر مشتمل ہے ۔ اسکا نام لکوٹا زبان میں پاہا ساپا سے اخذ کیا گیا ہے۔ یعنی پہاڑ جو سیاہ ہیں۔ بیشتر پائن کے درختوں سے ڈھکی یہ پہاڑیاں، اردگرد کی ہریالی سے جب کئی ہزار فٹ اوپر اٹھتی ہیں تو دور سے سیاہ ہی نظر آتی ہیں۔ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ اس حسن کا اصل جادو اس کی پتھریلی تشکیل اور ناقابل یقین جنگلی حیات اور سحر انگیز جنگلی درختوں میں مضمر ہے۔ مگر روح میں اترنے والے اثر کو سمجھنے کے لیے تمہیں یہاں خود آنا پڑے گا۔ اور ممکن ہو تو یہ سفر خزاں میں کرو۔
پھر یہ ہوا کہ عوام الناس کے لیے سو ڈیڑھ سو سال سے خوشی دولت کے حصول اور ریل پیل کے ساتھ ہی منسلک ہوکر رہ گئی۔ دولت زندگی کی آسائشوں کے حصول میں مددگار ہے ۔ آسائشیں تن آسانی اور لطف اندوزی کے لیے وقت مہیا کرتی ہیں۔ دولت معاشرے میں طاقت، اثر رسوخ، قبولیت، مقبولیت وغیرہ کی سہل فراہمی ممکن بناتی ہے۔ اور انسان پچھلی چند صدیوں میں باہمی استحصال، قتل و غارت اور سفاکیت میں تاریخ کے ایک بدترین دور سے گزرے ہیں۔ ان کا اپنی انسانی عظمت، روحانی و معاشرتی اقدار پر سے اعتبار شائد اٹھنا ہی تھا۔ تاہم اپنی جنیاتی بنت کی وجہ سے کسی نیوکلیس، کسی مرکزی خیال کے گرد پھیرے ڈالتے رہنا انسان کی مجبوری ہے۔ مادیت سے وابستہ خوشی بہت روز تک ایک نیا مرکز رہا۔ غم عشق گر نہ ہوا غم روزگار ہوا۔
ویسے تو خوشیوں کے تعاقب کا فلسفہ نوعِ انسانی کے لیے نیانہیں ہے۔ ھیڈونزم کا اخلاقی مفروضہ کہتا ہے کہ انسانی زندگی کا اصل مقصد کامل خوشی کا حصول ہے، خواہشات کی بے تکان تکمیل، لذت پرستی۔ نراوان کی خواہش ۔ زندگی کا مزہ صرف میٹھے میں دیکھنا۔ ہر قسم کی منشیات ۔ اسی مفروضے کی اشکال ہیں۔ اور انسان مختلف ادوار میں مختلف طریقوں سے مصروف بھی رہا ہے۔۔
کبھی کبھی ہم اتنے خوش ہوجاتے ہیں کہ ہم محسوس کرنے لگتے ہیں کیا اتنی خوشی ممکن بھی ہے؟ کیا اتنی خوشی جائز ہے؟ کیا اس سے زیادہ خوش ہونا ممکن ہے؟ کیا خوشی کی کوئی حد بھی ہے ؟ کیا یہ کچھ روز ہمارے ساتھ ٹہرے گی؟ کیا ہم اس کے حقدار ہیں بھی ہیں یا ہمارا کوئی تکہ لگ گیا ہے۔ یہ تمام باتیں اپنی جگہ صحیح۔ لیکن خوشی ایک جذباتی کیفیت ہی تو ہے اور بجا کہ اس کا کوئی پیمانہ نہیں ، اس کی حد بندی کرنا ممکن نہیں ہے۔ لیکن اپنی ہالف لائف سے آگے جانا اس کے لیے کیسے ممکن ہوسکتا ہے؟
تیرہ ریاست ہائے متحدہ امیریکہ کا متفقہ اعلامیہ، جب انسانی واقعات کے دوران، ایک گروہ کے لیے ضروری ہو جاتا ہے کہ وہ ان سیاسی تعلقات کو تحلیل کر دیں جنہوں نے انہیں دوسرے سے جوڑ رکھا تھا ہے، اور زمین کی طاقتوں کے درمیان اپنا ایک الگ اور مساوی مقام اختیار کریں جس کا قانون فطرت اور فطرت کے مالک نے انہیں حق دیا ہے، بنی نوع انسان کی آراء کے احترام کا تقاضا ہے کہ وہ ان اسباب کا اعلان کریں جو یہ علیحدگی اختیار کرنے کا باعث
کچھ سوشل میڈیا ایپ اپنے فوٹو فلٹر کے ساتھ آتی ہیں، لیکن زیادہ تر لوگ فون فوٹو ایپ ہی سے تصاویر کو فلٹر اور ایڈٹ کر لیتے ہیں۔ اگر بہت ہی زیادہ شوق ہو تو یورکیم یا فن کیم وغیرہ۔ اصل مقصد یہ ہوتا کہ تصویر سے غیر ضروری حصے نکال کر اس کو بہترین طریقے سے پیش کیا جائے تاکہ زیادہ پسندیدہ ہو۔ میں سوچتی ہوں گفتگو کا بھی ایک فلٹر ہونا چاہیے جو باتوں سے غیر ضروری فقرے حذف کردے اور صرف پسندیدہ حصے باقی رہ جائیں۔
لوگوں کی رائے کی کئی اقسام ہو سکتی ہیں۔ جیسے عوام کی رائے، قانون کی رائے، ماہرین کی رائے ۔غیروں کی رائے۔ اپنوں کی رائے ۔ ذہنی طور پر ہم قانون اور ماہرین وغیرہ کی رائے کو ماننے میں زیادہ پس و پیش نہیں کرتے کیونکہ سب ہی مان رہے ہوتے ہیں اور نہ ماننے کے نتائج و عواقب بھی پیش نظر ہوتے ہیں۔لیکن ہمارے اپنے (جیسے گھر خاندان والے دوست احباب) اور غیر (جیسے اگلے محلے والے دفتر و کاروبار والے، دوسرے جاننے والے، کزن کا سسرال) جب کوئی رائے دیتے ہیں تو اس کی اہمیت ہمارے دماغ میں مختلف طریقے سے رجسٹر ہوتی ہے۔
کچھ لوگ اپنے تصورات یا اپنے ڈراؤنے خوابوں میں اب بھی لوگوں کو دروازوں کی آڑ میں کھڑے ہو تاکنے۔ آنکھوں آنکھوں میں اشاروں سے یا سرگوشیوں میں اپنے بارے میں باتیں کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ بظاہر ان کے تصورات کا سوفٹویئر اپڈیٹ ہوئے کافی روز ہو چکے ہیں۔ اتنے مصروف دور میں کس کے پاس یہ سب کرنے کا وقت ہوتا ہے؟
لوگ کیا کہیں گے جاننے کا مجھے ہمیشہ سے شوق رہا ہے۔ اسی لیے جب بھی میں سنتی ہوں لوگ کیا کہیں گے تو میں پوری کوشش کرتی ہوں کہ اس کی کچھ تفصیلات حاصل کرسکوں لیکن مجھے بال کی کھال اتارنے کا الزام دے کر اکثر لوگ چپ کرادیتے ہیں۔ ورنہ ایک سخت سی نظر مجھ پر ڈال کر کہتے ہیں کیسا احمقانہ سوال ہے۔ آپ کو خود نہیں معلوم کیا؟ مجھے معلوم تو نہیں لیکن میں لوگوں کی طرف سے کچھ نہ کچھ اچھا برا سوچ کر خود کو مطمئن کرنے کی کوشش کرتی رہتی ہوں۔ اور یہی لوگوں کی باتوں کے خوف کا پہلا مسئلہ ہے۔
ہم سب کی ایک عدد رشتہ دار یا آنٹی ایسی ہوتی ہیں گی جن کے پاس ہر مشکل کا ایک آزمودہ وظیفہ ہوتا ہے۔ دلیل کے طور پر ایک متاثر کن کہانی بھی۔ وہ مصر ہیں کہ میں ادھر ادھر کی باتیں نہیں کرتی ۔اور ویسے بھی یہ قرانی دعائیں ہیں۔ اللہ کے نبیوں نے مانگی ہوئی ہیں۔ رب انی ۔ بس ایک دفعہ شروع کرو ۔ تہجد یا فجر سے پہلے ،عصر یامغرب کے بعد وغیرہ ۔ ابھی چالیس دن نہیں گزریں گے کہ کام جو بھی ہو۔۔ بس نیت نیک ہونی چاہیے۔ اور ہم سب ہی عقیدت میں قریبا ان کے ہاتھوں کو چومنے والے ہو جاتے ہیں۔ اور اکیس روز میں نئے آپ، نئی زندگی ۔ کے فارمولے بیچنے والوں کے لیے بھی ہمارے کچھ ایسے ہی جذبات ہوتے ہیں۔
مختلف ادارے آسٹریلیا اور یورپ کے بعد امیریکہ میں بھی مینٹل ہیلتھ فرسٹ ایڈ کو ایک اہم ریسورس قرار دیتے ہیں۔ خصوصا جن اداروں کا تعلق براہ راست کمیونٹی ڈیویلپمنٹ یا ٹین ایجرز یا نوجوانوں سے بنتا ہے کسی نہ کسی طور ضرور اپنے کارندوں کو یہ تربیت دینے کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔کئی لوگ اسے فرسٹ ایڈ کا ایک حصہ قرار دینا چاہتے ہیں۔ کیونکہ اب نوعمر اور کمسن بچوں میں نفسیاتی مسائل کے رجحانات بہت تیزی سے بڑھتے جارہے ہیں۔ نیشنل ہیلتھ کے ڈیٹا کے تحت ہر پانچ میں ایک نوعمر یا نوجوان کسی نہ کسی دماغی صحت کے مسئلے کا شکار ہے۔ دماغی مسائل اور اوورڈوز ٹین ایجر اموات کی ایک بڑی وجہ ہے۔
کمفرٹ زون کا اصل مفہوم تو راحت کدہ بنتا ہے لیکن وہ ایک ادارے کا نام ہے پھر آرام کدہ سوجھا وہ بھی ایک ادارے سے متعلق ہے۔ کل گوگل نے اس کو ذہنی آسائش کا دائرہ کہا تھا لیکن چونکہ آسائش بھی فارسی کا لفظ ہے تو کدہ کے ساتھ اس کا مرکب جائز ہے۔ یہ آسائش کدے ہماری دماغی طبع اور جسمانی رویوں کی ایسی رہائش گاہیں ہوتی ہیں جہاں ہم خود بھی سکون سے زندگی بسر کرتے ہیں اور دوسروں کو بھی اس مداخلت سے باز رکھتے ہیں۔ ایسے نہیں کہ وہاں کوئی آ نہیں سکتا ۔ حالات و واقعات اور لوگ اکثر کوشش کرتے ہیں کہ اسے تہ و دوبالا کرتے رہیں۔ لیکن ہمارے بہت سے میکنزم ہوتے ہیں جس سے ہم ان حملوں کو ناکام بناتے رہتے ہیں۔
اکثر ہمارے کچھ بڑے بڑے خواب ہوتے ہیں ہیں۔ جیسے لوگوں میں شعور بڑھ جائے اور وہ انسانوں کی طرح رہنے لگیں۔ ۔ امن و سکون قائم ہو جائے۔ دنیا سے غربت۔ نسلی فسادات ۔احولیاتی آلودگی کا خاتمہ ہوجائے موسمیاتی تبدیلیوں عورتوں کے حقوق۔ باقی سب کے حقوق ۔۔ کو مناسب توجہ ملے وغیرہ۔