27 اگست 2011

خسارہ

ثبات فرسودگی ہے
تغیر جہد مسلسل ہے
سعی بے سود ہے

تیری آنکھ میں لپکتی زندگی کی قسم
ٹوٹے ہوئے اودے کانچ پر تیرا پیر ہے
تیرا اگلا قدم نہ تیری ہار ہے، نہ تیری جیت ہے
سانس لینے کی، آس رکھنے کی جو ریت ہے
اس کی پہلی منزل ہے تاریکیاں
تیرے امروز میں پابندیاں رات کی

مکمل نظم کے لیے کتاب دیکھیں 

دریچوں میں جگنو

رافعہ خان

4 تبصرے:

میرا پاکستان کہا...

واقعی سچ لکھا ہے اور خوب لکھا ہے۔

ali کہا...

very nice

عادل بھیا کہا...

:) بجا فرمایا۔ بے شک:
اس راہ میں کبھی کوئی بھی کہیں ٹھہرا نہیں۔
جو موجود ہے لحظہ لحظہ گھٹ رہا۔۔خسارے میں ہے

رافعہ خان کہا...

بہت شکریہ