06 دسمبر 2023

سوچیں

سوچیں گدھ بن گئی ہیں
اس جہاں فانی سے گزر چکے لمحوں کی 
نہ دفنائی ہوئی لاشوں پر دائروں میں منڈلاتی رہتی ہیں 

گزری باتوں کا مردہ وجود بھنبھوڑتی، نوچتی رہتی ہیں مسلسل 
مقدور بھر سیری کے پرلے درجے تک پرشکم ہوکر 
سوچیں۔ پھر اگلتی ہیں۔ جلدی میں نگلے لقمے۔ 
کریدتی ہیں ادھ کھائے لمحے۔ 
شائد کوئی پہلو  اوجھل رہ گیا ہو۔ 
کھاتی ہیں دوباره ۔ سہ بارہ 

پاس بیٹھے زندہ لمحے بے خطر گزر رہے تھے 
مگر اب بہت جھرجھرا کر 
 وہ اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہیں اپنی موت کے بعد کا منظر۔

 

کوئی تبصرے نہیں: