26 نومبر 2023

ہالیکالا نیشنل پارک


ہالیکالا نیشنل پارک ماوئی کی بلند ترین چوٹی ہے جو سطح سمندر سے قریبا دس ہزار فٹ بلند ہے۔ طلوع آفتاب یہاں کا سب سے خوبصورت نظارہ ہونے کی وجہ سے تم کہ  "سورج کا گھر" نامی یہ چوٹی اسم بامسمیٰ ہے۔ لیکن اکثر سیاح اس سفر کو محض سویرے کے دھانی بنفشی رنگوں کی خوبصورتی کی توقع سے وابستہ کرنے کی غلطی کرتے ہیں۔ کیونکہ خوبصورت دھوپ سے مرصع جزیرے کی وادی ہالیکالا کی ڈھلوانوں پر چڑھتے ہوئے  درجہ حرارت بتدریج یوں گرتا ہے کہ بالائی سطح تمہارا واسطہ عموما یخ بستہ ہواؤں اور بادلوں کے بگولے  سے پڑتا ہے۔ ویسے بھی نظارے کی بکنگ کے وقت موسم کی صحیح پیشین گوئی ممکن نہیں ہے۔ 

بہت لوگ اس بات سے بھی واقف نہیں کہ پارک اصل میں دو مکمل طور پر الگ الگ اضلاع پر مشتمل ہےاور ہر ایک کا اپنا داخلی راستہ ہے۔ دونوں اطراف کو اس کا اپنا وقت دئے بغیر تمہارا یہ سفر ادھورا رہ جائے گا۔ سمٹ کی سائیڈ میں خوابیدہ آتش فشاں پر پھیلی ایک بہت بڑی وادی ہے۔  جو دراصل ماحولیاتی کٹاؤ اور پانی کے بہاؤ سے بنی ہے۔ لیکن اکثر لوگ اسے آتش فشانی گھاٹی سمجھتے ہیں۔ یہ خود میں ایک ارضیاتی عجوبہ ہے۔ زنگالی مخروطی چٹانیں۔ انتہائی نایاب پرندے اور پودے۔ جیسے سلورسورڈ نامی پودے پوری دنیا میں صرف یہیں پائے جاتے ہیں۔ اس کے دوسری جانب کیپاہولو یا کوسٹل ڈسٹرکٹ،ہے جہاں بانس کے جنگلات اور جھرنے آبشاریں اور سرسبز میدانوں کے درمیان وقت رکا ہوا محسوس ہوتا ہے ۔ 

ہالیکالا پارک اپنے آس پاس بسے لوگوں کے دم قدم سے قدیم اور جدید ہ ثقافتی کہانیوں سے بسا ہوا ہے۔جو زمین کو اپنا اور وہاں بسنے والے پودوں پرندوں اور خود کو اس زمین کا محافظ سمجھتے ہیں۔ تم بھی کچھ عرصہ وہاں گزارنے کے بعد خود کو ان روشنی کے ساتھ بدلتے پرفریب رنگوں ، تیزی سے اڑتے بادلوں۔ پگڈنڈیوں۔ پرشور آبشاروں شاندار ستاروں  کے نظاروں کی کہانیوں کا اہم کردار سمجھنا شروع کردیتےہو۔ یعنی وہیں جہاں تم کھڑے ہو۔ ہزاروں سال پہلے کوئی اور لوگ کھڑے تھے۔ یونہی منتظر۔  یونہی دلوں میں کچھ ان کہی باتیں خوبصورت تحفوں کی شکل میں باندھے ہوئے۔ تبھی ایک دن تم اپنا فون اپنا کیمرہ ۔ اپنا لیپ ٹاپ بند کردیتے ہو۔ ایک ہی لمحے میں تم اپنی اصلی دنیا پیچھے چھوڑ دیتے ہو اور خوبصورتی کو دل سے تھامنے کی کوشش کرنے لگتے ہو۔  دیکھنے اور سننے لگتے ہو۔ یہ وہ لمحہ ہے جب تم حقیقتا یہاں پہنچے ہو۔ اس سے پہلے تو تم راستے میں ہی تھے۔

 اگر وقت تمہیں موقع دے تو قریبا گیارہ میل کے دشوار راستے سے نیچے کاویلیناؤ تک جاؤ۔ اور کسی بھی سرکاری مدد کی غیر موجودگی میں یہ دس بارہ گھنٹوں میں مکمل ہونے والی ایک کافی مشکل ٹریل سمجھی جاتی ہے۔ یہ کریٹر فلور یعنی گڑھے کا فرش ہے اور بلندی کا فرق قریبا پچیس سو فٹ ہے ۔ اپنی گہرائی میں خشک لاوے سے بنا یہ فرش پودوں جانوروں کی غیر موجودگی میں دنیا کا خاموش ترین مقام کہلاتا ہے۔ یہاں اتنا سکون اور خاموشی ہے کہ تمہیں اپنے دل کی ڈھرکن سنائی دینے لگتی ہے۔ اور اگر تم کم سیاحوں کے موسم میں آؤ تو تمہاری ہالیکالا سے ہی نہیں اپنی ذات سے ملاقات بھی ممکن ہے۔ اور یہی نظارے کا جادو ہے۔ بلاتا تو اپنی جانب ہے مگر  ملوا تم کو تمہی سے دیتا ہے۔



کوئی تبصرے نہیں: