04 اکتوبر 2023

یہ نظمیں آئینہ نہیں ہیں

یہ نظمیں آئینہ نہیں ہیں 
کہ ان میں ہمارے جذبوں کے رخساروں پر بکھرے 
رنگوں کے عکس نکھریں
نہ ٹہرا ہوا پانی کہ گہرائی میں جھانکیں تو ہمارے ہی چہرے
اک تابندہ جھلملاہٹ کی لو میں لرز رہے ہوں 

مگر شائد آسمان سے ٹوٹ کر گرتے ستارے 


مکمل نظم کے لیے کتاب دیکھیں 

دریچوں میں جگنو

رافعہ خان

کوئی تبصرے نہیں: