24 اکتوبر 2023

خوبصورتی

"اور کہانی کی اچھی بات یہ ہے کہ اسے کسی بھی نقطے سے شروع کیا جا سکتا ہے، اسے کسی بھی موضوع پر لکھا جا سکتا ہے۔ نہ تو پلاٹ کا حیرت انگیز ہونا ضروری ہے نہ ہی کہانی کا مربوط۔ کرداروں کا حقیقی اور جاندار ہونا اضافی ہے، گفتگو کا بامعنی و مدلل ھونا بےکار ہے۔۔ کسی فرضی سائنسی تھیوری، بوڑھے سیاستدان، خوبصورت لڑکی کو بنیاد بنا کر لمبی کہانی لکھی جاسکتی ہے۔" خوبصورت لڑکی کہتے ہوئے میں اسکی طرف دیکھنے کی غیر ارادی خواہش کو روک لیتا ہوں۔ اس کی خوبصورتی میں ایک مکمل ٹہراو ہے جیسے گہری پرسکون جھیل پر ٹہرا ہوا شام کا سورج۔ لیکن اس جملے پر منجمد ٹہراو پر ایک سلوٹ ہوا کے جھونکے سے پیدا ہوئی لہر کی طرح گزرےگی جو بے ارادہ نظر کو ایک طویل ٿانیہ کے لیے روک لے گی۔ اور میں خوبصورت لڑکی پر لمبی کہانی کے خلاف نہیں ہوں۔ لیکن ابھی، یہاں نہیں۔ اس پرنہیں۔ اب تم یقینا مجھے اعلی اصولوں والا گرو سمجھ لو گے۔ لیکن حقیقت یہ نہیں ہے۔

 حقیقت یہ ہے کہ یہ نظر جتنی سرعت سے مجھے متوجہ کرتی ہے اتنی ہی تیزی سے ہاتھ پکڑ کر مجھے بہت دور ایک اور یاد کے روبرو کھڑا کر دیتی ہے۔ کیا میں نے تمہیں کبھی بتایا ہے کہ مجھے وہاں کس شے نے باندھ لیا تھا۔ نہیں میں نے تمہیں یقینا اس کی خوبصورتی کے بارے میں نہیں بتایا۔ ہم لوگ جو سوچ اور خیال کی سلطنت کے گم شدہ ہوتے ہیں وہ صرف دکھائی دینے والے حسن کے اسیر نہیں رہ جاتے۔ خوبصورتی انہیں ششدر کرتی ہے۔ انسپائر کرتی ہے۔ وہ دوڑ کر اسے تھام لینا بھی چاہتے ہیں۔ مگر کچھ دیر کو۔ پر جو شے انہیں ہمیشہ کے لیے سحر زدہ کر چھوڑتی ہے وہ چیزوں کے سادہ پن کی کشش ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ ہم آج تک یہ نہیں جان پائے کہ روز مرہ کی زندگی میں ہر شے کیسے یوں آسانی سے تسلسل اور کفایت میں ڈھلی مصروف کار ہے۔ جتنا ہم دیکھنے سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں اتنا ہی محو و مبتلا ہو جاتے ہیں۔ میں اس کے جسم و جان، دل و دماغ کے لگے بندھے معمولات کے تسلسل میں محو ہوگیا تھا۔ وہ زندہ تھی۔ یا شائد زندگی تھی۔
(more we look more we are trapped, I was trapped in her functional routine of heart and brain, body and soul.. she was alive, or life.) 
۔۔۔۔۔۔
دھواں
رافعہ خان

کوئی تبصرے نہیں: