08 اکتوبر 2023

شہر نامہ

مرے بسملوں کی قناعتیں
جو بڑھائیں ظلم کے حوصلے
مرے آہوؤں کا چکیدہ خوں
جو شکاریوں کو سراغ دے
مری عدل گاہوں کی مصلحت
مرے قاتلوں کی وکیل ہے
مرے خانقاہوں کی منزلت
مری بزدلی کی دلیل ہے
مرے اہلِ حرف و سخن سرا
جو گداگروں میں بدل گئے
مرے ہم صفیر تھے حیلہ جُو
کسی اور سمت نکل گئے

کئی فاختاؤں کی چال میں
مجھے کرگسوں کا چلن لگا
کئی چاند بھی تھے سیاہ رو
کئی سورجوں کو گہن لگا
کوئی تاجرِ حَسَب و نَسَب
کوئی دیں فروشِ قدیم ہے
یہاں کفش بر بھی امام ہیں
یہاں نعت خواں بھی کلیم ہے
کوئی فکر مند کلاہ کا
کوئی دعویٰ دار قبا کا ہے
وہی اہلِ دل بھی ہیں زیب تن
جو لباس اہلِ ریا کا ہے
مرے پاسباں ، مرے نقب زن
مرا مُلک مِلکِ یتیم ہے
مرا دیس میرِ سپاہ کا
مرا شہر مالِ غنیم ہے

جو روش ہے صاحبِ تخت کی
سو مصاحبوں کا طریق ہے
یہاں کوتوال بھی دُزدِ شب
یہاں شیخِ دیں بھی فریق ہے
یہاں سب کے نرخ جدا جدا
اسے مول لو اسے تول دو
جو طلب کرے کوئی خوں بہا
تو دہن خزانے کا کھول دو
وہ جو سرکشی کا ہو مرتکب
اسے قمچیوں سے زبوں کرو
جہاں خلقِ شہر ہو مشتعل
اسے گولیوں سے نگوں کرو

مگر ایسے ایسے غنی بھی تھے
اسی قحط زارِ دمشق میں
جنہیں کوئے یار عزیز تھا
جو کھڑے تھے مقتلِ عشق میں
کوئی بانکپن میں تھا کوہکن
تو جنوں میں قیس سا تھا کوئی
جو صراحیاں لیے جسم کی
مئے ناب خوں سے بھری ہوئی
تھے صدا بلب کہ پیو پیو
یہ سبیل اہلِ صفا کی ہے
یہ نشید نوشِ بدن کرو
یہ کشید تاکِ وفا کی ہے

کوئی تشنہ لب ہی نہ تھا یہاں
جو پکارتا کہ اِدھر اِدھر
سبھی مفت بر تے تماش بیں
کوئی بزم میں کوئی بام پر
سبھی بے حسی کے خمار میں
سبھی اپنے حال میں مست تھے
سبھی رہروانِ رہِ عدم
مگر اپنے زعم میں ہست تھے
سو لہو کے جام انڈیل کر
مرے جانفروش چلے گئے۔


شہرنامہ۔ احمد فراز 

کوئی تبصرے نہیں: