10 اکتوبر 2023

گلوبل۔وار۔منگ

شروع میں تو زمینی آفات و ماحولیاتی اتار چڑھاؤ کی ذمہ داری سائنسدان زیادہ تر تلون مزاج شہاب ثاقب یا سورج کے کسی بڑے آتش فشاں پھٹنے وغیرہ پر ڈالتے رہے ۔۔لیکن وقت گزرنے کے ساتھ بدلتے موسموں میں سبھی کو انسانی ہاتھ نظر آنا شروع ہوگیا ہے۔ جیسا کہ سی ایم سی سی فاؤنڈیشن کا کہنا ہے ایک چنگاری جنگل کو جلانے کے لیے کافی نہیں ہوتی۔ جنگل میں اتنی بڑی آگ بھڑکنے کے لیے درجہ حرارت کی زیادتی۔ بارشوں کی کمی، خشکی سالی۔ درختوں پودوں گھاس وغیرہ کا سوکھا پن بہت سے عوامل مل کر کام کرتے ہیں۔ اکثر و بیشتر جنگلی حیات جلنے سے پہلے ہی مردہ ہو کر اتنی خشک ہوچکی ہوتی ہے کہ کسی بھی شدید گرم دن آگ پکڑنا عین ممکن ہوجاتا ہے۔ پہلے سمجھا جاتا کہ لوگوں کی لاپرواہی اس کی ذمہ دار ہے لیکن نئے ڈیٹا ٹرینڈ میں یہ واضح ہے کہ گو ان حادثات کی ابتدا کی شرح کم ہے مگر پھیلاؤ زیادہ اور قابو پانا اتنا ہی ناممکن۔ 

آب و ہوا کے بدلتے حالات سے ہمیں ماحولیاتی اور سماجی نظاموں کو وسیع پیمانے پر نقصان پہنچانے کی توقع ہے۔ جو صحت اقتصادی عدم مساوات خوراک اور پانی کی ترسیل و حفاظت بڑھتی ہوئی گرمی اور سردی سے زندگی کی مشکلات اور اموات کی تعداد میں اضافہ وغیرہ پر مشتمل ہو سکتا ہے۔ قطبی برف پگھلنے اور سمندر کی سطح میں اضافہ اور بڑھتے ہوئے سیلابوں اور زلزلوں سے بے گھر ہونے والے لوگوں کی تعداد پہلے ہی بڑھتی جارہی ہے۔ ایسی ہی وجوہات کی بنیاد پر تمام نوعِ انسانی۔ انسانی بہبود کے عالمی ادارے، ہماری حکومتیں، اور کاروبار گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج کو کم کرنے اور بہتری کی حکمت عملی نافذ کرنے کے لیے اقدامات کرنے پر سب سے زیادہ زور دے رہے ہیں ۔ یعنی قریبا ہر کوئی چاہتا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی سے وابستہ خطرات اور ان سے نمٹنے کے اخراجات کو کم سے کم کیا جاسکے ۔ 

لیکن ہماری روزمرہ زندگیوں کے بیشتر کام ایسے ہیں جن سے اس آلودگی میں صرف اضافہ ہی ہورہا ہے۔ گرین ہاؤس گیسیں جو موسمیاتی تبدیلی کا باعث بنتی ہیں جن میں کاربن ڈائی آکسائیڈ اور میتھین سرفہرست ہیں وہ گاڑی چلانے سے گاڑیاں بنانے تک۔ گھر گرم کرنےسے کھانا پکانے سے۔ پٹرول سے کوئلہ تک سبھی چیزوں کے استعمال کرنے سے پیدا ہوتی ہیں۔ زمین کو صاف کرنا اور جنگلات کاٹنا بھی کاربن ڈائی آکسائیڈ کو خارج کر سکتا ہے۔ زراعت، تیل اور گیس کے کام میتھین کے اخراج کے بڑے ذرائع ہیں۔ توانائی، صنعت، نقل و حمل، عمارتیں، زراعت اور زمین کا استعمال گرین ہاؤس گیسوں کا سبب بننے والے اہم شعبوں میں شامل ہیں۔ 

گلوبل نیٹ زیرو۔ عالمی خالص صفر؟۔ ماحولیاتی نصاب کا آئڈیل ہے جہاں دیے گئے وقت میں انسان کی پیدا کی ہوئی آلودگی کے اخراج اس کی ماحولیاتی صفائی کی کاوشوں کے برابر ہو جائے۔ کچھ لوگ اس صفائی میں تمام گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج اور کچھ اور لوگ صرف کاربن ڈائی آکسائیڈ کو شامل کرتے ہیں۔لیکن شاذ ہی لوگ جنگ کی تباہ کاریوں کو اس میں گنتے  ہیں کیونکہ  سب سے پہلے تو ان کے پاس اس کا قابل انحصار ڈیٹا نہیں ہے۔اور ویسے بھی جنگ اور امن کے بارے  میں بات اور احتجاج کرنا اب پرانا فیشن لگتا ہے۔ اور ماحولیات نسبتا نیا اور مقبول ڈیزائینر ٹرینڈ ہے۔میں ابھی یہاں زمین کے حصول کے لیے خود سے جنگلات جلانے اور ماحولیاتی تبدیلیوں کے منکران کا ذکر جان بوجھ کر نہیں کر رہی کیونکہ بات بے کار میں لمبی ہوجائے گی۔ 

یہ درست ہے کہ جنگ زدہ علاقوں میں ابھی اوزون کی آلودگی کو پوری طرح ماپا نہیں گیا۔ نہ ہی کسی نے ٹھیک سے سمجھنے کی کوشش کی ہے کہ ایک فیکٹری ہوا کو زیادہ آلودہ کرتی ہے یا ایک میزائل۔ صحت کو بم کے دھماکے سے زیادہ نقصان پہنچتا ہے یا پھر پیسٹی سائڈز سے جن کو اب پہلے سے زیادہ زود اثر بنانے کی ضرورت پڑے گی کیونکہ بڑھتے ہوئے درجہ حرارت سے مائیکروبی حیات اور زیادہ تیزی سے بڑھے گی۔ لیکن جرثوموں کی افزائش تو کٹتے ہوئے زخموں میں بھی بہت تیزی سے ہوتی ہے۔ پھر جب کسی طور یہ جنگ ختم بھی ہوجائے اور شہری بحالی اور آبادگاری کے مراحل شروع بھی جائیں تو ماحولیات کو کچھ نئے مسائل درپیش ہو ہی جاتے ہیں۔ 

یعنی اگر کچھ دیر کے لیے ان لڑائیوں میں ناشامل عوام اور بالکل حادثاتی طور پر مرنے والوں کو فراموش کردیں۔ اور زندہ رہ جانے والوں کی دماغی اور جسمانی صحت کو قابل رشک سمجھ لیں۔ تو ماحولیاتی اداروں کی سب سے بڑی شکایت یہ ہی ہے کہ لوگ اپنی اپنی جنگ کا فضلہ ٹھیک سے چھانے بغیر سمندر میں پھینک دیتے ہیں اور دوسرے لوگوں کے لیے جسمانی بیماریوں ذہنی اذیتوں میں بھی اضافے کا باعث بنتے ہیں۔ ان علاقوں کی کمزور نئی حکومتیں جو جنگی لینڈ فل پر نئی آبادگاریوں کی منظوری دیتی ہیں وہ زیادہ اہم مسائل یعنی آلودگی کم کرنے کے طریقوں، جنگلات کی افزائش، وغیرہ کے لیے اچھی پلاننگ نہیں کرتیں۔ یوں ان علاقوں میں فطری ماحولیاتی صفائی کی صلاحیت کم ہوجاتی ہے۔ 

ترقی پسند غیر جنگی علاقوں کے رہنے والے بہت سے سمجھدار بڑے اور بچے ماحولیاتی بہبود کے لیے بہت متحرک ہیں۔ وہ اورگینک سبزیاں اور پھل کھانے۔ ٹھنڈے پانی سے نہانے ۔ پانی کے ذخائر صاف رکھنے ۔ خطرے سے دوچار علاقوں اور جانوروں کو نامزد کرنے۔ جہازوں اور کاروں میں سفر کرنے ۔ نئے کپڑوں کی حوصلہ شکنی کرنے۔ پلاسٹک کو منسوخ کرنے۔ یعنی مکمل ریڈیوس ۔ ری یوز اور ری سائیکل کرنے ۔ کلین انرجی کو ہر جگہ رائج کرنے کے لیے وغیرہ کے لیے منظم گروپ بنا کر اپنی کوششوں میں لگے رہتے ہیں۔ وہ انسانی بقا کی اس اہم جنگ میں اپنا حصہ ڈالنا چاہتے ہیں۔ دنیا میں مثبت تبدیلی کے خواہشمند ہیں۔ مگر پھر کچھ ایسے بھی ہیں جو دور دراز ہوتی جنگوں میں جان سے گزرتے بچوں کو دیکھ کر احتجاج کے لیے باہر نکل آتے ہیں۔ ان کا من ہر شے کو آگ لگانے کو چاہتا ہے اور کبھی تو لگا بھی دیتے ہیں۔ یقینا یہ لوگ کلائیمیٹ چینج۔ گلوبل وارمنگ اور ماحولیاتی صفائی کو ابھی تک ٹھیک سے نہیں سمجھے۔ 

میرا ذاتی خیال ہے جیسے ہم ابھی تک جلے ہوئے پرانے درختوں کے تنوں تلے اگتے پودوں کے کاربن فٹ پرنٹ سے لڑنے کی اصل طاقت۔ یا اجڑے شہروں کے بچے کھچے باشندوں کی استبداد سے الجھنے کی اصل صلاحیت کو پوری طور سے نہیں سمجھ سکے ۔ ایسے ہی ہتھیاروں کی روز افزوں پیداوار اور جنگوں میں انکی بڑھتی ہوئی کھپت اور اس گلوبل وارمنگ اور بڑھتی ہوئی قدرتی آفات کا باہمی تعلق بھی فراہم شدہ محدود ڈیٹا سے پورے طور پر سمجھنا ممکن نہیں ہے۔ مجھے تو ایسے بھی لگتا ہے جب کہیں جنگ ہوتی ہے تو بہت دور سے کچھ تازہ ہوائیں۔بارشیں وغیرہ بے اختیار زخمی حیات کی طرف لپکتی ہیں کہ شائد وہ کچھ مداوہ کرسکیں۔ پھر بہت دور کے علاقوں میں گرمی بڑھ جاتی ہے اور وہاں قدرتی آگ پھیل جاتی ہے۔ ہاں ٹھیک ہے تتلی کے پر کی حرکت سے طوفان آنا ایک فرسودہ استعارہ ہے۔

تو پھر میرا سوال یہ ہے کہ اگر آدھی جگہ پر جنگ ہورہی ہو اور آدھی جگہ پر آگ لگی ہو تو ہم اوسطا کتنی کاربن اور میتھین روز سونگھیں یا جذب کریں تو ماحول ٹھیک رہے گا۔ یا پھر یہ کہ ہم ہتھیاروں کو انجام تک پہنچائے بغیر نیٹ زیرو کے مثالی معیار کا مذاق کب تک جاری رکھیں گے؟۔






کوئی تبصرے نہیں: