03 اکتوبر 2023

دریچوں میں جگنو

گو جگنو اندھیرے میں ہی دلکش لگتے ہیں لیکن بذاتِ خود اندھیرا ایک ڈراؤنا خواب ہے۔ روشنی کی عدم موجودگی، جذبہ و خیال کی قحط سالی وغیرہ اسی سیاہی کے وجود کے اشارے ہیں۔ اندھیروں میں ہم بہت جلد خود کو شکست خوردہ قرار دے کر ہتھیار ڈال دیتے ہیں۔ اندھیروں میں سب سے پہلے ہم اپنے خیالوں اور خوابوں اور جذبوں کی حوصلہ شکنی کرتے ہیں۔ اور جب وہ یکے بعد دیگرے ہمارا ساتھ چھوڑ رہے ہوتے ہیں اس وقت تاریکی ہمارے وجود میں اپنے حلیفوں کو بلا تاّمل مدعو کررہی ہوتی ہے۔ تنہائی، مایوسی، بے یقینی، تشکیک۔ اور یہ صرف آغاز ہے۔ 

لیکن اپنے ڈراؤنے خوابوں اور اندھیروں کے مقابل صرف ایک ہم ہی کھڑے ہو سکتے ہیں کیونکہ ہماری تنہائی کی جنگ لڑنا نہ تو کسی اور کے بس میں ہے اور نہ ہی کسی اور کی ذمہ داری۔ گو اس لڑائی کو لڑتے ہوئے ہم کبھی اکیلے نہیں ہوتے۔ گھنے اندھیروں میں دور ٹمٹماتی ذرہ بھر روشنی۔ یا کبھی ہمارے اندر ہی سے امڈتے انگار کی رفاقت ہمارے ساتھ ہوتی ہے۔ جیسے ایک لمبی سیاہ رات میں لڑی گئی اس لڑائی میں دکھائی دینے والی چھوٹی سی کرن بھی اپنے وجود کو منوا لیتی ہے۔ایسے ہی خیال کی خشک سالی میں ہر نظم اپنی جگہ ایک مقبول دعا ہوتی ہے جو ہم راہنمائی کے لیے 
راتوں کو مانگا کرتے ہیں۔




مکمل نظم کے لیے کتاب دیکھیں 

دریچوں میں جگنو

رافعہ خان
 

کوئی تبصرے نہیں: