31 اگست 2023

معذرت و معافی

ماضی کی ایک خصوصیت یہ بھی ہے کہ یہ ہماری غلطیوں کے لیے ہائی لائیٹر کا کام کرتا ہے۔ ہم جتنی بھی کوشش کرلیں۔ اپنی غلطی دل میں تو ہمیں ماننی ہی پڑتی ہے کیونکہ ہائی لائیٹ ہو چکی ہوتی ہے۔ لیکن ان غلطیوں کو ہم صرف آج کے نقطۂ نظر سے دیکھتے ہیں اور آج کے دیے ہوئے حالات میں خود کو قصوروار ٹہرا رہے ہوتے ہیں۔ ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ جب ہم نے یہ عمل کیا تھا اس وقت ہمارے حالات کیا تھے ۔ کن مشکلات یا واقعات و ترجیحات کے تحت ہم یہ فیصلہ کرنے پر مجبور تھے ۔ جب ہم نئے سرے سے کیس کھول کر خود کو کو کٹہرے میں ملزم بنا کر کھڑا کرتے ہیں۔ نئے قوانین کے تحت احتساب کر تے ہیں تو ہماری زندگی کے تمام چھوٹے بڑے غلط فیصلے می ٹو کرتے ہوئے انصاف مانگنے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ ہم بار بار ٹوٹتے ہیں اور شکستہ ہوتے چلے جاتے ہیں۔ لیکن یہ بھی سچ ہے کہ ہم سب ہی تھوڑے تھوڑے ٹوٹے ہوئے ہیں۔ سب کے پاس ناقابل معافی خطاؤں کے کچھ پلندے ہیں اور سب ہی ان کو بھول کر آگے بڑھنا چاہتے ہیں۔ لوگ تو شائد ایک دوسرے کی غلطیوں کو جتا ہی دیتے ہیں لیکن ہمارا رب کیسا غفور الرحیم ہے کہ اس نے ہمیں توبہ کا فلسفہ دیا ہے۔ جس میں دل سے معافی چاہنے کے بعد ساری سلیٹ صاف ہو جاتی ہے۔ ہمیں اپنے اعمال کے بدنما بوجھ سے نجات مل جاتی ہے۔ یہی لمحے ہوتے ہیں جب ہم میں لوگوں سے معافی مانگنے کی اور دوسروں کی خطائیں بھلانے کی ہمت آجاتی ہے اور ہم آگے بڑھنے کے لیے پھر سے ہلکے ہو جاتے ہیں۔ پھر سے کافی کی سوندھی خوشبو۔ دھوپ کی ہلکی تمازت، آسمان کے انوکھے رنگ ہمارے دن کو خوبصورت بنا دیتے ہیں۔ ہم کچھ دیر کے لیے دوبارہ جینے لگتے ہیں۔


کوئی تبصرے نہیں: