24 جون 2011

ایلس

”فورایور ٹوینٹی ون۔“ میرے ایک پسندیدہ سٹور کا صفحہ سامنے ہے۔میں نے شرٹس کے نئے رنگ دیکھے ۔ پھر میک اپ کےسٹور پر لپ اسٹکس کے شیڈز دیکھے ۔اگلے صفحے پر نئے ڈیزائینر ہینڈ بیگ دیکھ کر میری آنکھوں کی چمک بڑھ گئی۔ آنلائن شاپنگ میں چیزوں کے رنگ ۔ فیشن۔ سٹائل سب کچھ بالکل اپ۔ ٹو ڈیٹ ہوتا ہے آنکھیں بند کر کے بھی اٹھاؤ تو غلطی کا امکان کم ہے ۔ سٹورز میں تو کبھی کام کی چیز نہیں ملتی اور یہاں تو انتخاب ہی مشکل ہو جاتا ہے۔


میں اپنی کارٹ میں دیر تک ایک ایک کر کے چیز یں ڈالتی نکالتی رہی۔ پھر میں نے حتمی فیصلہ بعد پر چھوڑ دیا۔ ایک سیکشن سے دوسرے سیکشن میں جاتے جاتے مجھے وقت کا اندازہ کبھی نہیں ہوا بس اچانک احساس ہوا کہ کافی کا کپ کب کا ٹھنڈا ہو چکا ہے۔ اور سائیلنٹ پر کیے فون پر مس کالز کی تعداد چھ ہو چکی ہے۔ ناک پر ڈھیلے ہوتے گلاسز کو انگلی کی پور سے اوپر سرکاتی دور سے آتی جانی پہچانی گھنٹی کی آواز سن کر میں اچانک چونکی ۔

_________
انٹرنیٹ فورمز کے پس منظر میں لکھا گیا۔
تمام کردار اور واقعات فرضی ہیں۔


اپڈیٹ: 

یہ تحرير اور دوسرے افسانے پڑھنے کے لیے ذیل کی پوسٹ میں کتاب کا ڈاؤنلوڈ لنک دیکھیں ۔

_______________


پرانے افسانے

رافعہ خان


2 تبصرے:

Anonymous کہا...

بہُت اچھا لِکھا رافعہ،،،بہترین تحریر لگی آجکل کے حالات کے تناظر کو سامنے رکھ کر لِکھا ہے اور بہُت اچھا ،،،بہُت مزہ آیا پڑھ کر،،،،اچھی تحریر کی خُوبصُورتی ہی یہی ہے کہ آخِر تک دِلچسپی برقرار رہے درمیان میں کہیں تسلسل ٹُوٹنے نا پائے اور آپ کی اِس تحریر میں یہ خُوبیاں موجُود ہیں،،،،

شاہدہ اکرم

عادل بھیا کہا...

ماشاءاللہ کافی اچھا لکھ لیتی ہو آپ۔ آپ جس طرز کا لکھتی ہو بہت خوب اور عمدہ لکھتی ہو لیکن یہاں بھی وہی حالات ہیں جنکا زکر آپنے اپنی اس تحریر میں کیا۔ آپ جتنا اچھا لکھتی ہو تو میرے خیال سے تبصروں کی بھیڑ ہونی چاہئیے تھی آپکے بلاگ پر لیکن کم قارئین کی وجہ صرف آپکی تحاریر کی طوالت ہے۔ سب بس مختصر مختصر تحاریر پڑھ کر اپنے بلاگ کے ربط کے ساتھ تبصرہ کرنا چاہتے ہیں۔ خیر بیسٹ آف لک