چلو کہانی لکھیں۔
خواب اور خود فراموشی کے بیچ۔ نیند کی دہلیز پر
دیکھو۔ خیالوں کی روشنائی کیسے میرے ہاتھ دھندلا گئی ہے
چلو کہانی لکھیں۔
خواب اور خود فراموشی کے بیچ۔ نیند کی دہلیز پر
دیکھو۔ خیالوں کی روشنائی کیسے میرے ہاتھ دھندلا گئی ہے
جب کوئی لڑکی پوچھتی ہے کیا ہم صرف بچے پیدا کرنے کے لیے دنیا میں آئے ہیں تو سمجھ آتا ہے کہ یہ سوال معاشرتی ناانصافی کی ایسی زمین میں بوئے گئے انسانی احتجاج کے بیجوں سے پھوٹا ہے جس میں بچہ پیدا کرنا کسی نہ کسی طرح ایک کم تر درجے کاکام سمجھا گیا تھا۔ پھر نیم پختہ سماجی فلسفے ااس کو پانی دیتے ہیں یہاں تک کہ اکیسویں صدی کے باشعور خود آگاہ دماغ کا سوال بھی یہی ہوتا ہے آخر میں ہی کیوں؟؟۔۔ یہ عورت دماغ اپنی بے تاب تخلیقی توانائی سے چور۔ یہ سمجھنے سے قاصر ہے کہ اسے اور اس کی ہم جنسوں کو کس بنیاد پر پیدا ہوتے ہی باقی آدھی آبادی سے کم تر قرار دے دیا گیا ہے۔