29 جولائی 2023

حقیقت

real

 ”انبساط کے تمام لمحوں کا تاثر حواس پر قریبا ایک ہی سا ہوتاہے۔خواہ ان محسوسات کے مخرج الگ الگ ہی ہوں۔ کیا تمہارے سامنے ایک ہی حقیقت چہرے بدل بدل کر آتی ہے۔ یا ہرحقیقت ایک الگ سچائی کی مظہر ہے؟  کیا ہر شے اندر سے ایک جیسی ہے اور باہر سے الگ الگ۔

15 مئی 2023

بلاگ اپڈیٹ


 وہ محاورہ تو آپ نے سنا ہوگا۔ بیکار مباش والا۔ یعنی جب کرنے کو کچھ نہ ہو تو پرانےبلاگ کو دوبارہ سے اڈھیر کر سینا بھی ایک کام ہوتا ہے۔ بس اسی ادھیڑ بن میں بلاگ کچھ دن سے اپڈیٹ ہو رہا تھا۔ لیکن بات وہی ہےانسان کسی حال میں بھی خوش نہیں ہوتا۔ اور اسے ہمیشہ وہ سیٹنگ زیادہ اچھی لگتی ہے جو اس نے بلاگ پر اپلائی نہیں کی ہوتی اور اس ہی وجہ سے آج تک میں نے اس کو سادہ اور بے رنگ رکھا ہوا تھا۔ بہرحال مجھے اپنے توسط سے اس انسانی کمزوری کا بخوبی اندازہ ہے کہ کسی بھی تھیم پر میرا دو مختلف اوقات میں باہم متفق ہونا ناقابل عمل ہے۔ اس لیے اس میں نے اس تکلیف دہ عمل سے بالآخر خود کو آزاد کر ہی لیا۔ یعنی موجودہ شکل کو حتمی اپڈیٹ قرار دے کر  اس قصے کو ختم کرنے کی کوشش کی ہے۔ امید ہے یہ ختم ہی رہے گا۔ میرا اس کو مزید اپڈیٹ کرنے کا تو ارادہ نہیں ہے لیکن موجودہ شکل کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے۔ اور اس پراسس میں کوئی بروکن لنک نظر سے گزرے تو ضرور آگاہ کریں۔ 

03 اپریل 2023

کام جاري ہے


امکان کی بارگاہ میں 
بے ترتیب ہنگام کا بے توازن رقص
خود شناسائی کی بے کار لے پر ڈولتے
بے مقصد موھوم امیدوں کے پیر
۔عدم کے صحن میں
مستحکم تضادات اور دکھ دیتی ادھورگی 

تکمیل کی داستان بننے کا
فطرت کاایک اپنا ہی طور ہے۔


       

 نظم کے لیے کتاب دیکھیں 

دریچوں میں جگنو

رافعہ خان

21 مارچ 2023

پرانے افسانے

پرانے افسانے

پرانے افسانے ۔ ان چند کہانیوں پرمشتمل ہے جو میں نے کئی سال پہلے اپنے زیادہ تجرباتی تحریری منصوبوں کی ناکامیابیوں کے درمیانی وقفوں کی خاموش مشقوں کے دوران لکھے تھے۔ آن لائن یہ پہلے سے مختلف ویب سائٹ اور ویب میگزین میں شائع ہو چکےہیں ۔ پھر میرے اپنے بلاگ پر یہ وقت کےساتھ دوسری پرانی، وقتی و واقعاتی غیر سنجیدہ تحاریر کے درمیان گم ہو کر ذہن سے محو گئے ۔

17 مارچ 2023

ایک ناکام بحالی


ایک ناکام بحالی
 an unsuccessful resuscitation
 میری شام، مری سحر۔۔
وقت میرے، کہیں اور بہا لے جامجھے

تحریک کی اجنبی لہریں
دل کچھ اور ڈبو رہی ہیں میرا
جل چکی نبضوں کے برقی احیا کی بے سود کوششیں    
اپنے قدموں پر جھکتے، لڑتے خود سے
یہ شائد آخری لڑائی ہے میری

مکمل نظم کے لیے کتاب دیکھیں 

دریچوں میں جگنو

رافعہ خان