12/02/2013

کچھ باتیں ان کہی رہنے دو

`
کچھ باتیں ان کہی رہنے دو
کچھ باتیں ان سنی رہنے دو
سب باتیں دل کی کہہ دیں اگر
پھر باقی رہ جائے گا
سب باتیں ان کی سن لیں اگر
پھر باقی کیا رہ جائے گا
اک اوجھل بے کلی رہنے دو
اک رنگیں ان بنی دنیا پر
اک کھڑکی ان کھلی رہنے دو

منیر نیازی

11/12/2013

تاریخ فردا پر ایک نظر۔۔ ڈاکٹر علی شریعتی



۔"تاریخِ فردا" ایک نیا انقلابی پیرائہ خیال ہے۔ کیونکہ تاریخ کو ہم ہمیشہ سے ماضی کا عکاس سمجھتے رہے ہیں۔ لیکن آج کی دنیا شائد اس بات کا ادراک کر چکی ہے کہ انسان کو اپنے ماضی ہی کی نہیں فردا کی تاریخ بھی لکھنی ہوتی ہے۔ اس خیال کو پہلے سمجھ لیا جاتا تو تاریخ بھی ایک حقیقی سائنس کے طور پر لی جاتی۔ لیکن اس کی قدر تبھی بڑھے گی اور ماضی کے انسان کا مطالعہ محض تبھی سود مند ہوگا اگر ہم اس سے اپنے آج اور کل کو سمجھنے میں مدد لے سکیں۔ ہرتہذیب اور معاشرے میں تاریخ ماضی کو افراد کی بجائے ادوار کے حوالے سے بیان کرتی ہے۔ گو ان ادوار میں انسانوں کے خیالات اور میلانات ہی اس دور کی خاص ہیئت کی توجیہ ہوتے ہیں لیکن اس دور کی مفرد خصوصیات اور مقاصد ہوتے ہیں جو اسے سابقہ ادوار سے ممتاز کرتے ہیں۔

سو اگر ہر دور کو ایک مخروط تصور کرلیا جائے تو اس تصور کی بنیاد ہر کسی بھی معاشرے کا بغور جائزہ لینے سے مستقبل کی پیش گوئی ممکن ہے۔ مخروط یا کون کا نچلا حصہ پھیلا ہوا ہوتا ہے اور بالائی تکون بتدریج کم ہوتی جاتی ہے۔ ہر معاشرے میں عام افراد کون کی بنیاد پر ہوتے ہیں اور مفکر، علما، شعرا و ادباء اور فلسفیوں کا گروہ اس کا بلائی حصہ تشکیل دیتے ہیں۔ اس طرح معاشرہ کسی ایک عضو یا جسم یا فرد کی بجائے ایک خیال کے گرد گھومتا ہے۔ اور یہ بات انتہائی سادہ اور ابتدائی معاشروں سے لے کر آج تک ہر زمانے پر صادق آتی ہے۔ ابتدائی دور کے سفید ریش بزرگ اور وچ ڈاکٹرز کا گروہ ایسے ہی دانشور سمجھے جاسکتے ہیں جو اپنے معاشرے کی راہنمائی کا فریضہ سرانجام دیتے رہے ہیں۔ اور یہی آج کے دور میں ہے( یعنی فوکس گروپ، تحقیقاتی ادارے اور نظریاتی بنیاد وغیرہ)۔

لیکن یہ بات قابل غور ہے کہ بنیادی طبقوں اور دانشوروں کے ان گروہوں کے درمیان کوئی آڑ یا بندش نہیں ہے۔ لوگ بنیادی درجے سے کون کے اوپری حصہ تک ترقی پا سکتے ہیں اسی طرح دانشور عوام میں گھل مل سکتے ہیں۔ اس طرح ہر نئے دور کا عوامی حصہ پچھلے دور کے دانشور حصے سے وجود میں آتا ہے ان سے آگے ہوتا ہے۔ اسی طرح ہر دور کے مفکر خیالات کو درجہ بدرجہ ترقی دیتے ہیں یہی خیالات، سائنس اور معاشرے کی ترقی ہوتی ہے۔ اگر مخروط کی بالائی سطح پر خاطر خواہ دانشور موجود نہ ہوں تو معاشرے میں عام آدمی کی سوچ میں تبدیلی کا عمل بھی خاطر خواہ نہیں ہوتا اور وہ اپنے پرانے اعتقادات اور خیالات سے آگے نہیں بڑھتے جب تک رفتہ رفتہ نئے خیالات معاشرے میں پنپنا شروع ہو جائیں۔اس طرح کبھی کبھی تہذیبیں ماضی کے ادوار کے دانشوروں کے قلیل گروہوں کی تلقید میں بنتی نظر آتی ہیں۔

ہر دور میں مخروط کی انتہا پر ایسے نابغہ خیال موجود ہوتے ہیں جو حال کی دانشور کلاس سے اختلاف رکھتے ہیں، ان سے علیحدہ خیالات کے مالک ہوتے ہیں اور ان سے ہٹ کر سوچ سکتے ہیں۔ یہاں سے معاشروں میں کشمکش شروع ہوتی ہے۔ یہ لوگ گو بہت کم ہوتے ہیں لیکن ان کے خیالات اور نظریات میں تبدیلی کی خو ہوتی ہے۔ اس تبدیلی کی نفوذ پذیری کی رفتار آہستہ ہو تی ہے لیکن بلاشبہ یہ مستقبل کی تہذیب یا معاشرے کے دانشوروں کا پہلا دستہ ہوتا ہے یہ مستقبل کی تاریخ کے لکھاری ہوتے ہیں جن کے ادراک اور تصورات پر مستقبل کا انسان پروان چڑھتا ہے۔

۔ " نگاہی بہ تاریخ فردا"۔ ڈاکٹر علی شریعتی سے ماخوذ و تلخیص شدہ 

8/26/2013

میکڈونلڈز والوں نے اپنی مارکیٹنگ اور فرینچایز پالیسی کے تحت پوری دنیا میں اپنا برانڈ متعارف کروایا ہے۔ امیریکہ میں اس کی ایک وجہ خوراک کی زیادہ مقدار میں ارزاں اور فوری فراہمی کے ساتھ ساتھ اس کی سروس، طویل شاہراہوں پر ریسٹ ایریا کی موجودگی اور بچوں کے لیے خصوصی آفر اور کھیلنے کی جگہ وغیرہ شامل کرنا ہے۔ خوراک کے ذائقے اور معیار کی یہاں بالکل بات نہیں ہورہی۔ بہرحال اسکے بیان کردہ معیار کی ہر جگہ پر ایک سی فراہمی ہی سے اس کے نام کے ساتھ سروس کا ایک مخصوص تصور ذہن میں آتا ہے اور معمول سے ہٹ کر کچھ ہو تو بہت عجیب لگتا ہے۔ ابھی پچھلے دنوں سیر سے واپسی پر ایک جگہ ریسٹ ایریا میں رکنا ہوا۔ اس دن مقامی چھٹی نہیں تھی یعنی نارمل کاروباری دن تھا اس لیے وہاں رش نہیں تھا۔ باتھ روم کی صفائی دیکھ کر میکڈونلڈز کی دوہری پالیسی پر بہت ہی افسوس ہوا۔ آپ بھی دیکھیے۔


زیادہ تر چیزیں جیسے نلکا، ہاتھ سکھانے کا ڈرائر وغیرہ خودکار تھے جو بقول کسے "چائینہ سے دو پیسے کا موشن سنسر لگانے سے ہو جاتا ہے اگر کسی کو محنت کا شوق ہو"۔



اصل افسوس مجھے 'کمرے' کے شروع پر لگے نوٹس کو دیکھ کر ہوا۔۔ میں نے اس کی فوٹو لی تو فرش صاف کرتی لڑکی نے لاتعلقی سے نظر اٹھا کر دیکھا۔ اور پھر کام شروع کردیا۔ اور پاکستان میں باتھ روم کے دروازے کے ہینڈل ہر ایک سخت گیر دربان 'وردی' پہن کر کھڑا تھا۔ جب میں نے چھوٹی کی طرف اشارہ کرکے کہا اس کو باتھ روم جانا ہے۔ اس نے دوسری طرف منہ پھیرتے ہوئے کہا۔۔۔"باجی ۔۔ پانی نہیں ہے۔۔اورجب میں اس کو قائل کرکے اندر پہنچی تو کچھ کچھ پانی تھا۔ لیکن اس کے علاوہ کیا کچھ تھا۔۔۔۔ اس کو چھوڑیں 

7/04/2013

بادشاہت میں یہی مسئلہ ہے۔۔

چائے پینی ہے؟
 چلو چائے ہی پی لیتے ہیں۔
صبح صبح کیا ہوگیا ہے۔
بس زندگی۔۔ امید کی ایک کرن جو جاگی تھی وہ بھی قریب المرگ ہے۔
بادشاہت میں یہی تو مسئلہ ہے۔
بادشاہت۔۔ یہ تو تاریخی مینڈیٹ تھا۔
مینڈیٹ تو عوام دیتے ہیں نا۔
 تو۔
نہیں میرا مطلب۔ عوام کو تو معلوم ہی نہیں کہ وہ ہیں یا نہیں ہیں۔
لیکن وہ ہیں تو۔ کڑوڑوں لوگ ہیں۔
 لیکن ان کو معلوم نہیں ہے کہ وہ ہیں یا نہیں ہیں۔
 اور کیسے معلوم ہوتا۔ ووٹ تو ڈالا نا۔ پورے نا سہی آدھے تو اصلی ہوں گے۔
 بادشاہت میں یہی تو مسئلہ ہے۔
 مسئلہ یہ ہے کہ جسکو عزت ملتی ہے وہی سب بیچ ڈالنے کو نکل پڑتاہے۔
جس کا مال ہے اسے فکر نہیں تو دوسرے کو کیا فکر۔۔
 جس کا مال ہے وہ بے چارہ تو زندگی سے لاچار پھر رہا ہے۔ اپنے مسئلے مسائل میں الجھا ہوا۔
اگر کوئی اپنا مسئلہ نہیں بتائے گا تو دوسرے کو کیا علم۔۔
اور کیسے بتائے سب تو سامنے ہے۔ آنکھیں بند کرنے پر بھی چیخ رہا ہے۔
 میں بتاؤں کیسے بتائے۔ ہر شخص کو ایک پنسل اور ایک پیپر دے دو کہ اپنی قومی، معاشی و معاشرتی ترجیحات کی ایک فہرست بنائے اور اس میں پانچ سے دس باتیں لکھے۔
سو کروڑ ترجیحات سامنے آ گئیں۔۔ اب اس کو کیا کرنا ہے۔۔
مجھے یقین ہےاکثریت کی فہرست میں دس کی دس باتیں سیم ہونگی۔
 لیکن وہ نو رتنوں کو سمجھ نہین آئیں گی۔ اور لازمی اس میں بھی فراڈ نکل آئے گا۔
 لیکن ایسا کرنے میں حرج ہی کیا ہے۔ اور کیسا لگے گا۔ ہر شخص جو کچھ بول رہا ہے وہ پہلے اپنی لسٹ سنانا شروع کردے۔ ریڈیو پر کال کرے میری پسند کا گانا سنادیں۔ لیکن پہلے میری لسٹ سن لیں۔ کھانے کے چینل پر ۔۔میری بہن سے بات کریں لیکن میری لسٹ سن لیں پہلے۔ میڈیا پر جی میرا ایک سوال ہے آپ کے شو کے بارے میں۔۔لیکن میری لسٹ یہ ہے۔ بلاگ پر ۔ قومی مسائل کی ترجیحات کی فہرست۔ فیس بک سٹیٹس۔۔ دس اہم مسائل جو سب سے پہلے حل ہوں
 تمہارے ساتھ یہی مسئلہ ہے ۔۔لمبا چوڑا خیالی پلاؤ۔۔ ی
ہ اتنا خیالی بھی نہیں ہے۔
اور وہ بھی پالیٹیکس سے متعلق۔۔
یہ پالیٹیکس سے متعلق نہیں ہے۔ ہیومن سائینس ہے۔۔ ہاؤ ٹو سروائیو آ نیچرل ڈزاسٹر ود ٹیم ورک۔۔
ٹیم ورک کے لیے محنت کچھ زیادہ چاہیے ہوتی ہے
 یا تسلسل۔۔۔ اور تعداد۔۔
ہم کیوں بحث میں پڑ رہے ہیں۔ اس وقت میں کتنا سارا کام ہو سکتا تھا
تو ہم کو کیا آشنا کے کام سے پیارا ہے بیگانے کا کام
یا ہماری ترجیحات کی فہرست۔۔ ہمارا خاندان۔ ہمارا گھر۔ ہماری منقولہ و غیر منقولہ جائیداد۔۔ ہمارے۔۔
چچ۔۔ یہ تنگئ دامانِ تمنا ئے تو۔۔
حقیقت پسندی ایک آرٹ ہے ۔۔ کچھ لوگوں کے خوابوں کے لیے کچھ دوسرے لوگوں کو جاگنا پڑتا ہے
یہ فلسفہ نہیں کیا۔۔۔
فلسفہء حیات۔۔
 آہ۔ اور چائے چلے گی؟
یس پلیز۔۔ بائے دا وے بادشاہت کا کیا مسئلہ ہے؟
 پہلا جشنِ طرب مخالفین کے سروں سے سجتا ہے
 ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 تمام حقائق، واقعات اور مکالمات فرضی ہیں۔ کسی بھی قسم کی مطابقت محض اتفاق ہوگی۔ عوام، میڈیا اور مخالفین فرضی کردار ہیں اور وجود نہیں رکھتے۔بادشاہت اصلی ہے۔۔لونگ لو دا کنگ۔

6/13/2013

ایک کتاب

اگر میں ایک داستان گو ہوتی ۔۔ اور میں صرف ایک کتاب لکھتی تو میں کوئی ایسی داستاں لکھتی جو پڑھنے سننے والوں کو باندھ لیتی۔ جو کبھی پرانی نہ ہوتی۔ ہر انسان کے دل میں اتر جاتی اور وہ اس کو کبھی نہ بھول پاتے۔

اگر میں ایک نغمہ گر ہوتی۔۔ اور صرف ایک کتاب لکھتی تو میں اس میں ایسے نغمے بنتی جو ذہنوں پر جادو کر دیتے ، لوگ ایک ہی بار سن کر اس میں گم ہو جاتے اور پھر کبھی کسی اور نغمہ گر کی طرف متوجہ نہ ہوتے۔

اگر میں ریاضی دان ہوتی۔۔ اور میں صرف ایک کتاب لکھتی تو میں اس میں ایسے نظریے دریافت کرکے لکھتی کہ انسان رہتی دنیا تک اس پر ششدر رہ جاتے اور ان کو سمجھنے اور ان سے آگے نکلنے کی تگ و دو کرتے رہتے اور نہ کامیاب ہوتے۔

اگر میں سائنسدان ہوتی۔۔ اور صرف ایک کتاب لکھتی تو میں دنیا کی ہر حقیقت پر اتنی تفصیل سے روشنی ڈالتی کہ کوئی پہلو بھی نظر سے اوجھل نہ رہ جاتا اور انسان کبھی وہم و گماں کا شکار نہ ہوتے۔

اگر میں کسی بھی انسانی ہنر کی ماہر ہوتی اور اپنے ہنر پر صرف ایک کتاب لکھتی تو میں اس کو اپنا پہلا اور آخری اور مکمل کام سمجھ کر ایسے لکھتی کہ وہ ایک لازوال شاہکار بن جاتی۔ سدا پڑھی جاتی، سدا سمجھی جاتی۔

اوراگر میں ابتدا ہوتی، اور انتہا ہوتی، اگر میں نے لفظ بنایا ہوتا، اور میں نے ہی نطق بنایا ہوتا۔ اگر سائینس میرے خیال کا نام ہوتا، ریاضی میرے کام کو سمجھنے کی ادنی سی کوشش کو کہتے، اگر انسان اور جن میرا ہنر ہوتے۔ انسانوں کے ہنر میری عطا۔ اگر علم میری بخشش کا نام ہوتا اور میں صرف ایک کتاب لکھتی۔۔۔ تو میں حکمت کی کتاب لکھتی۔ میں اس میں اپنا بہترین ہنر استعمال کرتی۔ جو اس کو سنتا یا پڑھتا وہ اس کے دل میں اتر جاتی۔ ہر حقیقت کو ایسے بیان کرتی کہ وہ تمام زمان و مکاں کے لیے ازل سے ابد تک مکمل ہو جاتی۔ اتنی تہ دار ہوتی کہ انسان رہتی دنیا تک اس کو سمجھنے کی کوشش کرتے رہتے اور ہمیشہ ایک نیا رخ سامنے آ جاتا۔ اتنی روشن ہوتی کہ جن و انس کبھی وہم و گماں کا شکار نہ ہوتے۔ اتنی آسان ہوتی کہ کھلی دلیل کے سوا کچھ نہ لگتی۔ اتنی مکمل ہوتی کہ ہر دور میں اس سے آگے نکل جانے کے زعم میں رہ جانے والے ہر مرتبہ اس کو خود سے آگے پاتے۔ اگر میں صرف ایک ہوتی اور صرف ایک کتاب لکھتی تو میں صرف اپنے بارے میں لکھتی۔۔ کہ اس کو جو بھی پڑھے وہ جہاں سے بھی ہو صرف مجھ تک پہنچے اور مجھ میں گم ہو جائے۔

6/03/2013

سکرین لیس ڈے 6



پہلا سکریں لیس دن انہی سوالات سے الجھتے گزرا۔ ہر چیز رکی ہوئی محسوس ہو رہی تھی۔ اور آخری چند گھنٹوں تک اس کے ختم ہونے کے لیے شائد میں الٹی گنتی شروع کر چکی تھی۔ لیکن اہم بات جو مجھے دن کے آخر پر معلوم ہوئی کہ میرے تمام سوالات میں سے چند ایک ہی تھے جن کو جاننے کی مجھے حقیقت میں ضرورت تھی۔ یا شائد صرف ایک۔۔ آج موسم کیسا رہے گا، تاکہ میں چھتری اٹھا لوں۔ اس نکتہ کے واضح ہونے کے بعد ہی مجھے اس تجربے کو ایک ہفتے یا ایک مہینے تک لے جانے کی خواہش ہوئی۔ لیکن بہت جلد یہ بات واضح ہوگئی کہ میرا سکرین یوز بہت ہی پیچیدہ انداز میں میری زندگی میں دخیل ہے اور اس کو اتنی آسانی سے سراسر ختم کرنا ممکن نہیں ہے۔ لیکن چند مقامات پر اس کو کم یا محدود کرنا ضرور ممکن ہے۔ اس کے لیے میں نے اسکی مختلف کیٹیگریز بنائی جاسکتی ہیں۔ یعنی کام، تفریح، تعلقات عامہ اور تعلیم۔ اور ان کے لیے حقیقت پسندی سے کم یا زیادہ اوقات مقرر کیے جاسکتے ہیں۔

ان کے لیے الگ الگ اوقات مقرر کر لینے سے ان کے الگ الگ روٹین لوپ بن جاتے ہیں جس کی وجہ ہر روٹین سے ایک مختلف قسم کی تحریک وابسطہ ہو جاتی ہے۔ مثلا اگر گھر کے کام یا خریداری کے لیے انٹرنیٹ کا استعمال کرنا شروع کیا ہے تو اس میں چیٹنگ نہ شروع کی جائے تو کام بہت جلد اور بہتر طور پر ختم ہو جائے گا۔ اسی طرح اگر کچھ لکھنے کے لیے کمپیوٹر آن کیا ہے تو انٹرنیٹ کو مکمل طور پر بند رکھنے سے فوکس مل جائے گا اور کم وقت میں زیادہ لکھا جائے گا۔ سنگل ٹاسکنگ سے جو ارتکاز ملتا ہے اس سے کام کی کوالٹی بھی بہتر ہوجاتی ہے۔

اس کے علاوہ سکرین کے غیر ضروری استعمال کو کم کرنے کے لیے کچھ متبادل روٹین بھی اختیار کرنی ضروری ہے۔ اور اس کو پلان بنا کر بھی کیا جاسکتاہے۔ یعنی فلاں وقت میں ٹی وی دیکھنے کی بجائے میں یہ کتاب ختم کروں گی۔ یا فلاں وقت میں فیس بک پر لوگن کرنے کی بجائے میں فلاں دوست کی بیماری کا حال پوچھوں گی یا اس کے لیے کھانا بنادوں گی۔ خبریں سننے کی بجائے ویب ڈیزائینگ کا ایک پارٹ سیکھوں گی۔ اس طرح ہمارا دماغ اتنا مصروف ہو جائے گا کہ غیر حقیقی بوریت یا فرصت جیسے مسائل کی طرف توجہ خود بخود کم ہو جائے گی۔ مجھے ابھی تک کچھ مقامات پر مشکل محسوس ہوتی ہے۔ یعنی جہاں بھی میرے خیال میں ریوارڈ کا لیول ہائی ہوگا وہاں خودبخود دماغ ہتھیار ڈال دے گا۔ تاہم جہاں بھی میں اس کو اپنی زندگی کے اہم مقاصد سے ہم آہنگ نہ کر پاؤں، اس کو بدل دینا بہتر ہوگا۔ اور اس کے لیے صرف اس عادت کے پیٹرن کو جانچنا اور سمجھنا ضروری ہے۔ 

5/06/2013

سکرین لیس ڈے 5


اگر ہم ہر روز صبح ایک مخصوص وقت پر ۔ ایک مخصوص جگہ پر بیٹھ کرسکون سے سادہ پانی کا ایک گلاس پئیں، تو دس دن کے بعد ہم خودبخود اسی وقت پر اسی جگہ پر پانی کا گلاس لے کر بیٹھیں گے۔ اگرسادہ پانی کو شربت سے تبدیل کردیں تو ہمارا تجربے میں ذائقہ کا عنصر بھی پیدا ہو جائے گا۔ اسی طرح جتنی زیادہ حسیات اس میں مشغول ہوتی جائیں گی اس تجربے کا پرنٹ گہرا ہوتا جائے گا۔ گیارہویں روز اس کو نہ کرنے سے ہمارے ذہنی توقعات پوری نہ ہونے کا تاثر بننا شروع ہو جائے گا۔ آہستہ آہستہ اس کی شدت بڑھتی جائے گی۔ تین سے چھ ہفتوں تک مسلسل کرنے کے بعد ہم اس کو مس کرنا شروع کردیں گے۔

ہماری بیشتر عادات کے بننے اور پختہ ہونے کا بنیادی نکتہ تسلسل ہے۔ لیکن اس دوران دماغ شعوری اور لا شعوری طور پر تین مرحلوں سے گزرتا ہے۔ محرک، روٹین اور ریوارڈ۔ سکرین یوز میں بھی انہیں تین مرحلوں سے ہمارے استعمال شدہ وقت کے کم یا زیادہ ہونے کا انحصار ہے۔ ہر روز صبح میرے ذہن میں عموما اس قسم کے سوالات پیدا ہوتے ہیں، آج کے سیاسی، سماجی و دنیاوی حالات کیا ہیں۔ کیا کوئی نیا کرنٹ ایشو پیدا ہوا جس کے بارے میں مجھے باخبر رہنا چاہیے۔ پرانے ایشوز پر نئی اپڈیٹ کیا ہے، مجھے اس کے بارے میں جاننے والے ابتدائی لوگوں میں سے ہونا چاہیے۔ کس کی وال پر کس نے کیا لکھا ہے۔ آج سارا دن موسم کیسا رہے گا۔ ویک اینڈ پر موسم کیسا رہے گا۔ کیا اگلے ہفتے بچوں کے سکول میں کوئی ایکٹیوٹی ہے جس میں مجھے شرکت کرنی ہے۔ کوئی فریش سا سٹیٹس اپڈیٹ سوچنا چاہیے۔ کل میری پارٹی میں کس نے کیسا محسوس کیا۔ پرسوں فلاں کی پارٹی کا مینو کیا تھا۔ میں بور ہو رہی ہوں۔ کامیڈی چینل پر کیا لگا ہوا گا۔ کونسی نئی موویز آئی ہیں۔ معلوم نہیں نئی موویز کیسی ہیں ان کا پری ویو چیک کرنا چاہیے۔ میرے پاس ابھی کچھ وقت فارغ ہے۔ ابھی کچھ خاص کام نہیں اگر ہے بھی تو بعد میں ہو سکتا ہے۔اگر میں چائے کے کپ کے ساتھ تھوڑی سی براؤزنگ کر لوں تو کیا حرج ہے۔

اس میں سے کسی بھی سوال کے بعد میں اپنے دماغ کی طرف سے روٹین کی ہاں کی منتظر ہوتی ہوں، جس کے ہلکے سے اشارے پر مجھے اپنی مخصوص کرسی پر اپنے مخصوص ویب سائیٹس یا ٹی وی وغیرہ کے سامنے بس بیٹھنے کی ضرورت ہے۔ اس کے بعد روٹین کا لوپ میرے شعور کو مختلف قسم کو ریواڈز سے مطمعن کرنا شروع کر دے گا۔ یعنی مجھے معلومات حاصل ہو رہی ہیں۔ میں اپنے ساتھیوں کے ساتھ وقت گزار رہی ہوں۔ تفریح میسر ہے۔ وغیرہ۔

4/02/2013

سکرین لیس ڈے 4


ایسا نہیں ہے کہ تفریح وغیرہ میں سکرین کے استعمال نے اس کو ہمارے اختیار سے باہر کر دیا ہے۔ وقت کو کسی تنظیم کے بغیر خرچ کرنا ایک طرز زندگی ہوا کرتا ہے اور یہ ہمیشہ سے ایسا ہی ہے۔ جب ٹی وی نہیں تھا تو ریڈیو تھا۔ فیس بک نہیں تھی تو لوگ آس پڑوس میں گھنٹوں کےلیے نکل جاتے تھے یا رات رات تک دوستوں، سینما وغیرہ کے چکر ہوتے تھے۔ ٹیلیفون ہوا، موویز ہوئیں۔ یہ سب اپنے اپنے دور میں زندگی کی روٹین میں اثر انداز ہوتے آئے ہیں۔ لیکن ان کونقصاندہ کی بجائے کارآمد ٹولز کی طرح استعمال کرنا ہی ہماری اصل کامیابی ہے۔

سکرین یوزیج پیٹرن جان لینے کے بعد وقت کہاں جا رہا ہے کا صحیح اندازہ ہوسکتا ہے۔ اور اس سلسلہ میں کیا اقدام کیے جاسکتے ہیں اس پر غور ہو سکتاہے۔ آن لائن وقت کے استعمال کے لیے پیج ٹریکر وغیرہ سے بھی مدد لی جا سکتی ہے۔ سب سے پہلا قدم یہ ہے کہ کام، تفریح تعلیم وغیرہ کی کسی بھی ایکٹیوٹی کو مکس اپ نہ کیا جائے۔ ملٹی ٹاسکنگ وقت بچانے کی بجائے وقت کا ضیاع کا باعث بھی ہو سکتی ہے۔

 مزید اگلی پوسٹ میں دیکھیں

3/05/2013

سکرین لیس ڈے 3


ماہرین کے اندازے کے مطابق ایک عام صارف کا سکرین ٹائم دو گھنٹے سے زیادہ نہیں ہونا چاہیے۔ یعنی ایسے لوگ جن کا کام کمپیوٹر وغیرہ سے متعلق نہیں ہے۔ لیکن حیران کن بات یہ ہے کہ وہ لوگ جن کا کام سکرینز سے متعلق نہیں ہے وہ نسبتا کہیں زیادہ وقت سکرین پر صرف کرتے ہیں یعنی پانچ سے آٹھ گھنٹے عموما۔ ایسے یہ بہت زیادہ لگ رہا ہے لیکن اس کو بریک اپ کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ دو ٹی وی پروگرام، یا ایک مووی،(دو گھنٹے)۔ آدھ گھنٹہ کی ایک دو چیٹ(ایک گھنٹہ)، فیس بک پر چار پانچ لوگوں کی وال پر کمنٹ(تیس منٹ)۔،دس ایس ایم ایس(تیس منٹ)، پانچ چھ ٹیگ اور چند ای میل فارورڈ کرنے میں یہ وقت باآسانی خرچ ہو جاتا ہے ۔

پہلا سکرین لیس دن اس چیز کو سمجھنے میں مددگار ہوگا کہ ہمارا سکرین یوزیج پیٹرن کیا ہے۔ بار بار ان چیزوں کی طرف پلٹنے کو جی چاہے گا جو ہم شعوری یا لاشعوری طور پر سارا دن کرتے رہتے ہیں۔ ان کو نوٹ کر لینا بہتر ہے۔ اس کے بعد اس کو بریک اپ کرنے کا پلان بنانا آسان ہو جاتا ہے۔ سکرین ٹائم کو ہم بنیادی طور پر چار حصوں میں تقسیم کر سکتے ہیں۔
کام
تعلیم
تفریح
تعلقات عامہ

لیکن غور کیا جائے تو زیادہ وقت سکرین کے سامنے صرف کرنے والے افراد کا بنیادی فوکس تفریح اور تعلقات عامہ کے زمرے میں زیادہ آ جاتا ہے اور تعلیم اور کام میں کم۔ اس کی ایک مثال ایسے ہو سکتی ہے کہ میں اپنے گھر کے کام کے سلسلہ میں کسی ریسپی کو چیک کرنے آن لائن آؤں اور اس کے بعد گھنٹہ بھر ادھر ادھر کے سائٹ چیک کرتی رہوں یا دوستوں سے بات چیت میں پڑ جاؤں۔ اس طرح کوئی ریکارڈنگ لگانے کے لیے ٹی وی آن کروں پھر آدھ گھنٹہ خبریں سنتی رہوں۔

2/04/2013

سکرین لیس ڈے 2


بظاہر ایک سکرین لیس ڈے اس چکر سے نکلنے کے لیے ناکافی ہے۔ میں نے اس کو ایک ماہ تک لے جانے کا فیصلہ کیا تھا۔ لیکن ماننا پڑے گا کہ میں مکمل طور پر اس میں کبھی بھی کامیاب نہیں ہوئی اور نہ ہی ایسا کرنا چاہیے۔ کیونکہ اس سے مکمل طور پر کٹ جانا لانگ رن میں مکمل طور پر مفید نہیں ہے۔ ٹی وی سست دنوں کی اچھی تفریح ہے، ایس ایم ایس تیز ترین کمیونیکیشن ، خرید کی آن لائن سہولیات وقت کی بچت کا بہت بڑا ذریعہ۔ اور اس وقت کو ہم بہت سے بہتر کاموں میں استعمال کرسکتے ہیں۔ لیکن ان سکرین لیس ہفتوں کی کم کامیاب کوششوں میں میں نے بہت سی ایسی ایکٹیویٹیز کو تلاش کیا جن کی افادیت اس میں لگائے گئے وقت کے استعمال کے برعکس کم یا نہ ہونے کے برابر تھی۔ یا جن کے نہ ہونے سے میرے دماغ میں ایک غیر ضروری سوچ کم ہوسکتی ہے۔ تاکہ اس دماغی ریسورس کو کسی بہتر کام میں لایا جا سکے۔

کچھ عرصہ سے ویب پر نان سٹاپ موجودگی سے جو بے قاعدگی میرے ذہنی رویے میں آ رہی تھی اس کو منظم کرنے کے لیے یہ کوشش بہت کارآمد ثابت ہوئی۔ فیس بک، بلاگ اور ایسی دوسری چیزوں میں کم مصروفیت سے زندگی میں کچھ تبدیلی بھی لانے کی کوشش کی ہے۔ خصوصا ویب ایکٹیویٹیز کے لیے وقت مخصوص کر لینے سے میرا اپنے ارادہ اور خیال پر اختیار بڑھ گیا ہے جو کسی بھی شے میں حد سے زیادہ مشغولیت سے رفتہ رفتہ کم ہونا شروع ہو جاتا ہے۔

سکرین لیس وقت کی مصروفیات اور پلان اگلی پوسٹ میں شئیر کروں گی۔

1/07/2013

سکرین لیس ڈے 1


آئیڈیا پار سال بچوں کے سکول سے جنرل نوٹس والے نیلے کاغذ پر آیا تھا اور کسی طرح "غور طلب" والے ڈھیر میں دبا پڑا تھا۔ نیچے پنسل سے میرا ریمارک لکھا تھا۔
now this should be "ILLEGAL" .

ہرکام آخری کو، یا دو دن بعد یاد آنے اور مسلسل لیٹ فیس دینے، ملامتوں، معذرتوں اور مخاصمتوں سے پیہم گزرتے ہوئے وہ کاغذ مجھے ایک اچھا ایکسکیوز لگا۔ کرکے دیکھتے ہیں۔ ایک دن ہی کی تو بات ہے۔یوم سبت۔۔ اس دن ویسے بھی فرصت کم ہوتی ہے۔

لیکن سکرین اب ایک فارغ وقت کا مشغلہ نہیں ہے۔ ایک طرز زندگی ہے۔ اور طرز زندگی سے ایک دن کے لیے تو کیا، چند گھنٹوں کے لیے بھی نکلنا ممکن نہیں ہوتا۔ صبح سویرے "آج کا موسم" سے لے کر آج کیا پکائیں کی ریسپیز تک، آج کی تازہ خبر سے آج کی مووی تک سکرین زندگی میں اتنی دخیل ہو چکی ہے کہ زندہ رہنے کے دوسرے طریقوں سے ہم اب واقف ہی نہیں رہ گئے۔ کم از کم اپنی حد تک مجھے لگتا تھا کہ اگر ایک دن کے لیے بھی مجھ سے یہ سب، یا اس کا کچھ حصہ چھن جائے تو میری زندگی محال ہو جائے گی۔ سو سکرین لیس ڈے کا فیصلہ میرے لیے ایک مشکل اور بڑا فیصلہ تھا۔ شائد اسی لیے جب میں نے وہ کاغذ دیکھا، وہ دعوت کے دن سے سال بھر پرانا تھا۔ بہرحال وہ دن کسی طرح گزر گیا۔

اس روز مجھے اندازہ ہوا کہ کیسے جانے انجانے تمام وقت میں ٹی-وی، کمپیوٹر، سیل اور کیمرے کی سکرینوں کے درمیان سعی کرتی رہتی ہوں۔فیس بک، ٹویٹر، ایس ایم ایس ، بلاگ، خبریں اور ٹی وی سیریلز میرے دماغ کو ہر دم کیسے مصروف رکھتے ہیں۔ اور وہ بھی کس لیے۔۔ جس چیز کو میں انفارمیشن کولییکشن سمجھ رہی ہوں وہ اصل میں انفارمیشن ری سائیکلنگ ہے۔ یعنی ایک خبر ایک سائیٹ سے اٹھا کر دوسرے پر پیسٹ، ایک بار بار ٹیگ ہوئی پکچر دوبارہ ٹیگ، ایک ٹوئیٹر فیڈ کو شاندار سمجھ کر دوبارہ ٹویٹ، کسی کے لکھے بلاگ متفق ہوتے ہوئے اسی پر میری پوسٹ۔ چین میل، دوبارہ، سہ بارہ استعمال شدہ معلومات کو ہر بار نئے رنگ میں دیکھ کر نئے دن کا آغاز کرتے ہوئے نئے سرے سے جینا بھی ایک آرٹ ہے اورمیں اس میں ماہر ہو چکی ہوں۔