12/06/2012

کیا آپ بور ہورہے ہیں 3


اب اگر آپ کو یہ تو معلوم ہےکہ آپ کا دماغ کچھ بہتر اور نیا کرنا چاہ رہا ہے لیکن معلوم نہیں کہ موجودہ حالات میں ایسا کیا کیا جاسکتا ہے جس سے بوریت بھی دور ہو جائے، موٹیویشن بھی مل جائے ، نیا پن بھی اور کچھ سیکھنے کو بھی ملے اور مفید بھی ہو۔ ایسی کسی بھی مصروفیت یا مشغلہ کو فوری طور پر تو ڈھونڈ نکالنا ممکن نہیں لیکن ایسی کچھ مصروفیات ضرور ہیں جن سے دماغ کو مزید بوریت کی بجائے کچھ تحریک دی جاسکتی ہے۔ اس دوران نئے راستے سوجھ سکتے ہیں اور کوئی نہ کوئی ایسا آوٹ لیٹ مل سکتا ہے جو آپ کے ذہن سے حقیقی مطابقت رکھتا ہو۔

ایک جنرل لسٹ کچھ ایسے بنائی جا سکتی ہے

نئی کتاب
فوٹوگرافی
بلاگنگ
کنٹینر گارڈننگ
کرافٹ
کیلیگرافی
ابتدائی پروگرامنگ
گرافک ڈیزائین
میڈیٹیشن
فیورٹ موضوع پر ریسرچ
دور کےعزیزوں کی احوال پرسی
رضاکارانہ امداد
نئی ریسیپی کا تجربہ
آپکی لسٹ میں کیا نکات ہیں؟

نئی کتاب

نئی کتاب پڑھنے میں ویسے تو ہمیشہ لطف آتا ہے لیکن کچھ کوشش سے اس کو تھوڑا سا مختلف تجربہ بنایا جاسکتا ہے۔

دو یا دو سے زیادہ افراد مل کر ایک کتاب پڑھیں اور مرکزی کردار کے بارے میں اپنی رائے شئیر کریں
کتاب میں کچھ کمزور پہلو ڈھونڈیں اور ان کی بہتری کی تجویز سوچیں
کتاب کے مصنف کو کتاب کی تعریف اور کچھ اعتراضات کے بارے میں اپنی رائے سے آگاہ کرنے کی کوشش کریں : )۔
کتاب کے انجام کو پڑھے بغیر گیس کریں۔ یا اس سے اتفاق نہ کرتے ہوئے نیا انجام اپنے الفاظ میں لکھیں اور کتاب کے آخر میں چسپاں کردیں۔
کتاب کے مرکزی کرداروں کی جگہ تبدیل کردیں اور دیکھیں کہ وہ وہاں کیسے ردعمل ظاہر کریں گے۔

فوٹوگرافی

فوٹوگرافی ایک بہت پر لطف مشغلہ ہے۔ لیکن اس کو اگر ایک تھیم کے ساتھ کیا جائے تو اور بھی بہتر لگے گا۔ اس کے لیے کسی مشکل تھیم کی ضرورت نہیں۔ اور سیل فون کا یا نارمل ڈیجیٹل کیمرہ بھی کام دے سکتا ہے۔
کچھ آسان سی تھیمز ایسے ہو سکتی ہیں
ایک ہی جگہ کی مختلف اوقات اور مختلف روشنی میں ایک ماہ تک تصویر لینا
کلر تھیم کے ساتھ مقررہ تصاویر
ایک موضوع کے ساتھ تصاویر
ایک خیال کی تسلسل کے ساتھ تصاویر
تصاویر کو مختصر تحریر کے ساتھ آن لائن پوسٹ کرنا

بلاگنگ

بلاگنگ بہت تیزی کے ساتھ روائیتی انداز کے ویب سائیٹ کی جگہ لیتے جا رہی ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ بلاگز کا رائے عامہ میں حصہ مان کران کو کچھ اور بھی اہمیت دے دی گئی ہے لیکن اردو بلاگنگ کو دیکھا جائے تو موضوعات میں بہت زیادہ تنوع نہیں ملتا۔ ایسے لکھتا ہے اردو لکھاری یا اردو کا آں لائن قاری صرف سیاست، مذہب اور آئی ٹی کے مضامین ہی میں بنیادی دلچسپی رکھتا ہے اس کے علاوہ ادبیات کا شعبہ ایسا ہے جس میں سب سے زیادہ کام ہوا ہے۔ یعنی وافر مقدار میں شاعری ، افسانے اور ناول وغیرہ موجود ہیں۔ لیکن زبان کو پروان چڑھانے اور ترقی دینے کے لیے اس کا تعلق براہ راست زندگی سے ہونا ضروری تاکہ اس میں زندگی باقی رہے۔ بہت سے ایسے پہلو ہیں جن کے بارے میں اردو میں آن لائن مواد اتنا زیادہ موجود نہیں۔ آئی ٹی کے علاوہ سائینس اور طب کے دوسرے پہلو، سائیکولوجی، معاشرتی پہلو وغیرہ کے بارے میں بہت کچھ دریافت ہو چکا ہے اور اس کو اردو میں بھی موجود ہونا چاہیے۔ اپنے روز مرہ کے عمومی شوق اور مشغلوں کے بارے میں سادہ ترین زبان میں ایسے موضوعاتی بلاگ شروع کیے جاسکتے ہیں جس سے اردو کا ذخیرہ معلومات بھی بڑھے گا اور ہماری مصروفیت کا سامان بھی ہو سکے گا

اس موضوع پر مزید کسی اگلی پوسٹ میں۔۔

11/01/2012

کیا آپ بور ہورہے ہیں 2


یہاں میں روز مرہ کے روٹین کے کاموں کی بات نہیں کر رہی۔ اپنی ذمہ داریوں کو بوریت کی بھینٹ چڑھا کر ان سے پہلوتہی کرنا دماغی پوٹینشل کے عدم استعمال کی بجائے سستی اور بےکاری کا زائد استعمال ہے۔ لیکن پروفیشنل بوریت اس میں گنی جا سکتی ہے۔ یعنی اگر ہم کسی شعبہ میں کام کر رہے ہیں اور ہر روز کام کرتے ہوئے انتہا سے زیادہ بوریت یا موٹیویشن لیس محسوس کرتے ہیں تو یہ اس بات کا اظہار ہے کہ ہمیں کچھ وقت اپنے کام سے بریک لے لینی چاہیے اور اس فرصت میں سوچنا چاہیے کہ کیا ہم اسی کام پر واپس جانا چاہتے ہیں یا اپنی لائن میں کچھ تبدیلی کرنا چاہتے ہیں۔ یا اسی کام میں کچھ نیا اور ایڈوانس سیکھنا ہے کیونکہ ہمارا دماغ ہمیں کہیں آگے لے جانا چاہ رہا ہے۔

روزمرہ میں ہمیں اپنے دماغی پوٹینشل کو لمٹ کرنے کی بجائے مختلف قسم کی ایسی مصروفیات تلاش کرنی چاہیں جس سے ہماری ذات کو سینس آف اچیومنٹ ہو۔ کبھی کبھی بہت ہی سادہ سی مصروفیت اس اچیومنٹ کے اظہار کا آغاز بن جاتی ہے۔ جیسے ایک بچہ کاغذ کی ایک کشتی یا جہاز بناتا ہے پھر اس کو اڑانے یا ترانے کی کوشش کرتا ہے پھر سوچ میں پڑ جاتا ہے کہ اس کو کیسے بہتر بنائے۔ دماغی صلاحیت کو سمجھنے اور بڑھانے کے لیے ایسی ہی سادہ مگر مثبت اور پروڈکٹو مصروفیات کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس میں اچھی کتابیں پڑھنے، ان پر ڈسکشن کرنے سے لے کر ، اپنی مشغلوں کے بارے میں آسان سا بلاگ شروع کرنے تک بے شمار کام آ سکتے ہیں۔

10/04/2012

کیا آپ بور ہو رہے ہیں 1


کیا آپ بور ہو رہے ہیں؟ آپ پچھلے دو گھنٹے کے دوران "آپ کس رنگ کا کریون ہیں؟" قسم کے پرسنیلیٹی ٹسٹ لے لے کر اور ان کے رزلٹ فیس بک پر پبلش کر چکے ہیں۔ مختلف رسالوں کو الٹ پلٹ کر، کسی اچھی مووی کو تلاش کرکرکے، پرانی فیس بک البمز دیکھ کر اچھی طرح سے مایوس ہو چکے ہیں کہ دنیا میں کہیں بھی کچھ بھی نہیں ہو رہا اور اگر ہو رہا ہے تو آپ کے لیے بیکار ہے کیونکہ آپ اس کا حصہ نہیں ہیں۔ یا اگر کچھ ہو بھی رہا ہے تو بیکار ہے کیونکہ ہر چیز ویسے ہی بیکار ہے اورانتہا کی بوریت ہے۔۔۔ تو میرا خیال ہے آپ ایک انتہائی اہم ڈسکووری کر چکے ہیں۔

بور ہونا اصل میں ہمارے دماغ کا ایک سگنل ہوتا ہے کہ ہم جو کچھ کر رہے ہیں اس سے کہیں زیادہ اہم کام ہمارے واسطے کرنے کو موجود ہے۔ ہم اپنی کارکردگی سے نامطمعن ہیں، ہمارا دماغی پوٹینشل اس سے کہیں زیادہ ہے جتنا ہم اپنے روز مرہ کے کاموں میں صرف کر رہے ہیں۔ اصولاً ہم کو اس بوریت کے سگنل کو ٹریس آؤٹ کرکے دیکھنا چاہیے کہ ہمارا دماغ ہمیں کہاں لے جانا چاہ رہا ہے لیکن اس کے برعکس ہم بوریت کو بہلانا شروع کر دیتے ہیں۔ بیشتر اوقات ہم وقت گزاری کی کوئی ایسی مصروفیت شروع کر دیتے ہیں جو ہمارے پوٹینشل کی شدت سے کم تر ہوتی ہے۔ اس طرح دماغ مطمعن ہونے کی بجائے مزید بور اور آخر کار مایوس اور ڈپریسڈ ہو جاتا ہے۔ اکثر ایسا بھی ہوتا ہے کہ ہم بوریت سے سمجھوتا کر لیتے ہیں جیسے لمبے سفر میں ہم ایک ہی میگزین کو بار بار پڑھنے کی کوشش کرتے ہیں شائد اس بار کچھ نیا ہوگا۔

4/25/2012

اقتباس



Saint Anton was living in the desert when a young man approached him. "Father, I sold everything I owned, and gave the proceeds to the poor. I kept only a few things that could help me to survive out here. I would like you to show me the path to salvation." Saint Anton asked that the lad sell the few things that he had kept, and with the money buy some meat in the city. When he returned, he was to strap the meat to his body. The young man did as he was instructed. As he was returning, he was attacked by dogs and falcons who wanted the meat. "I'm back," said the young man, showing the father his wounded body and his tattered clothing. "Those who embark in a new direction and want to keep a bit of the old life, wind up lacerated by their own past," said the saint.
The master says: "Make use of every blessing that God gave you today. A blessing cannot be saved. There is no bank where we can deposit blessings received, to use them when we see fit. If you do not use them, they will be irretrievably lost. "God knows that we are creative artists when it comes to our lives. On one day, he gives us clay for sculpting, on another, brushes and canvas, or a pen. But we can never use clay on our canvas, nor pens in sculpture."Each day has its own miracle. Accept the blessings, work, and create your minor works of art today. "Tomorrow you will receive others." 


---

مگریہ بہت دل شکسگی کی بات ہے
۔؛ڈ۔۔ یہ شکستہ ہو تو عزیز تر ہے نگاہ آئینہ ساز میں
اورپھر مرہم بھی چوٹ لگنے کے بعد کام میں آتا ہے۔

4/11/2012

سوال

پہلے قطرے کو اکثر جلتی تپتی خشک زمین ہی ملتی ہے۔ لیکن پہلا قطرہ کچی مٹی میں سوندھی مہک جگاتا ہے۔۔ پہلا قطرہ ہی موسم بدلنے کی نوید لاتا ہے۔ پہلا قطرہ باقی سب قطروں کا رہنما ہوتا ہے۔۔ وہ ان کا استاد ہوتا ہے۔۔

اب استاد نے تو اپنا کام کر دیا۔۔ غیروں کے پھینکے پتھروں اور اپنوں کے پھینکے پھولوں سے اتنا تو کھل ہی گیا کہ سوال جتنا بھی سادہ ہو گنتی میں آتا ہے۔ اور گننے والے جانتے ہیں ایک سوال کرنے والا اگر صرف ایک ہو تو اس سے نمٹنا آسان، ایک ہزار ہو تو ممکن، ایک لاکھ ہو تو شائد مشکل اور ایک کروڑ سے بڑھ جائے تو ناممکن ہو جایا کرتا ہے۔ سو سوالوں کا دور عموما جواب ملنے تک چلا کرتا ہے

پر ہم کہاں اتنے کھرے کہ دوسری یمنی چادر، تیسرے بدیسی محل یا چوتھے سوئس اکاونٹ تک جا پہنچیں۔ ہم تو استاد کے طریقے پہ آسان سا سوال پوچھ لیتے ہیں۔

سوال:
پاکستان کے موجودہ آئین کے تحت کن اداروں/افراد کی قانون پر بالادستی تسلیم کی گئی ہے

سیاسی آمر
پشتینی حکمران
مسلح سیاح
انتظامی ادارے
عوام
میڈیا

روکنے والوں کو علم ہی ہے موجودہ دور کا سوشل میڈیا سوالوں کی جو بارش کو برسا سکتا ہے اسے روکنا مشکل ہے۔۔ اور کچی مٹی تو مہکے گی۔۔


سو استاد کے بقول : سوال کر کے جیو

3/20/2012

سگنیچر اٹیک

فورم پر آتے ہی طرح طرح کے سگنیچر استقبال کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ ازمنہ اولٰی میں، جب ہمیں معلوم نہ تھا کہ ہم چاہیں تو انہیں دیکھیں اور چاہیں تو نہ دیکھیں۔۔ ہم انہیں بار بار دیکھتے۔۔ اور ایک ایک سگنیچر پر کئی کئی انچ کا پڑاو کرتے۔ پوسٹ کے درمیان سگنیچر کی بجائے سگنیچر کے بیچ پوسٹ ڈھونڈنی پڑتی اور ایک پوسٹ سے دوسری پوسٹ تک جاتے جاتے دانش میں کئی گنا اضافہ ہوجاتا۔ اور پھر بار بار ہوتا ہی چلا جاتا۔ انٹرنیٹ کی دنیا میں پوسٹوں کو پڑھے بغیر جواب دینے کا رواج شائد انہیں سگنیچر کی وجہ سے ہے۔ نگاہوں کو خیرہ کردینے والی چمک دمک اور دانش ان کے اوپر دبی موہوم سی پوسٹ پر نگاہ ٹہرنے ہی نہیں دیتی اور لوگ متفق الیہہ سے کام وام چلا لیا کرتے۔

جب ہماری ساری دانش دانشوروں کے اقوال زریں کی مرھون منت ہو تو ہم ان سے کسی قسم کی کد نہیں رکھ سکتے اور اگر دانشوروں کو محفل میں آنے کی آزادی ہے تو شاعری کو منع نہیں کیا جاسکتا تو پھر فلمی ڈائیلاگز نے کیا بگاڑا ہے۔ مطلب پھر وہ کون ہے جس کو غم ہے کہ وہ ہماری محفل میں نہیں۔؟؟ ہمارا حال کچھ ایسا ہی ہوتا ہے جس کو ساری دانش مندی ایک ہی دن میں کھول کر پلانے کی کوشش کی جائے اور پھر اگلے دن ایک بڑے سے سرخ بینر پر لکھ کر لگا دیا جائے۔۔۔ اس تمام آگہی کے ساتھ ہی آپ کی ذمہ داری میں سو فیصد اضافہ کیا جاتا ہے۔ ہم گلے میں کچھ پھنسا نگلنے کی کوشش میں پوسٹیں پڑھنے کی کوشش کرتے ہیں جو کچھ ہی دنوں میں کہ رہی ہوں گی۔۔ ویسے خوشنصیب ہوتے ہیں وہ لوگ جو کبھی کچھ سیکھ بھی لیتے ہیں۔۔ قرب قیامت کی نشانیاں ہیں اور ہوشیار باش وغیرہ۔۔

جس سگنیچر نے ازمنہ وسطی میں والدہ حضور کی گھرکی کی یاد تازہ رکھی وہ ایک چوکور تھا۔ جس کے درمیان میں ایک کمپیوٹر تھا۔ اور اس پر لکھا تھا کیا آپ نے نماز ادا کر لی ہے؟ ہم دل ہی دل میں شرمسار ہوکر نفی میں سر ہلائیں گے تو جواب ملے کا تو کپمیوٹر بند کریں اور نماز ادا کریں۔ لیکن بات وہاں پر ختم نہیں ہوگی۔۔ ہر چند مینٹ کے بعد دروازے میں آکر یاددہانی کراتے جانے۔۔ ہمارا مطلب ہے ہر تیسری پوسٹ میں بار بار پوچھتے ہی جانے کے بعد دوسرے صفحے پر ہمارا صبر جواب دے جائے گا ۔ ہم اٹھ ہی جائیں گے۔ نماز پڑھ ہی آئیں گے اور والدہ حضور دروازے سے جھانکنا بند کردیں گی۔ یہ پرانی بات ہے۔

کچھ سگنیچر پڑھتے ہی کثیرالجہتی قسم کے منصوبے ہمارے دماغ میں کلبلانے لگتے ہیں۔ جیسے ماہنامہ ون اردو پڑھیے۔ اور اپنی تحاریر بھیجیے والی قسم کے۔۔ کچھ کو پڑھ کر ایکدم روتے ہیں۔ پھر کچھ کو پڑھ کر ایکدم ہنستے ہیں۔ پھر کوئی پوچھتا ہے۔۔ اے دانا انسان، تو پہلے تو سوچتا رہا۔ پھر رویا اور پھر ہنسا کیوں۔۔۔ ہم کنفیوز ہو جاتے ہیں کہ کیا جواب دیں۔ جب کچھ نہیں بن پڑتا تو بولتے ہیں یہ ایام کی گردش ہے جس پر پہلے ہم روئے پھر ہنسے۔ انسان ہوں ساغر و پیالہ نہیں ہوں میں۔ کچھ سگنیچر دانائی میں اتنے عمیق ہوتے ہیں کہ ان کا انت نہیں ہوتا۔ جیسے "تلاش ابھی جاری ہے۔۔" ایسا ہی ایک سگنیچر ہے۔۔ خاص خاص مواقع پر موقع کی مناسبت سے سگنیچر ہوتے ہیں جیسے عید پر عید مبارک۔ تو فردا فردا عید مبارک کہنے کی ضرورت نہیں پڑتی ۔ ہم اس کے حق میں ہیں کیونکہ اس سے ہمارا وقت اور توانائیاں دوسرے اہم کاموں (عیدی کے پی ایمز) کے لیے بچ جاتی ہیں۔

لیکن ذاتی طور پر ہمیں ایسے سگنیچر پسند ہیں جن میں ہماری صلاحیتوں کو چیلنج نہ کیا جائے۔ ہمیں کسی کام پر نہ اکسایا جائے، ہمیں کچھ سکھایا پڑھایا نہ جائے۔ نہ ذہن پر زور ڈالا جائے نہ انجام سے ڈرایا جائے۔ جی ۔۔ آپ بالکل درست سمجھے ہیں۔۔ ایک چپ۔۔ ہزار سکھ۔ یا کہیں زانو موڑ کر بیٹھ جا۔۔ زیادہ سوال جواب نہ کرقسم کے سگنیچر۔ ایک آدھی سطر والے جو جلدی ختم ہو جائیں تاکہ ہم جو پڑھنے آئے ہیں پڑھیں اور دنیا کے باقی کام دیکھیں۔ ہم دانشوروں کی طرح فارغ تھوڑا ہی ہیں کہ اقوال کے اطراف ہی میں زندگی تمام کردیں۔


----------
انٹرنیٹ فورم سگنیچر کے پس منظر میں لکھا گیا۔

استعمال شدہ سگنیچر:
ہر شخص کی ذمہ داری اس کی آگہی کے مطابق ہے
خوشنصیب ہیں وہ لوگ جن کو سکھایا جاتا ہے اور وہ سیکھ لیتے ہیں
کیا آپ نے نماز ادا کر لی ہے اگر نہیں تو کمپیوٹر بند کریں اور پہلے نماز ادا کریں۔
ماہنامہ ون اردو پڑھیے۔ /اپنی تحاریر بھیجیے
تلاش ابھی جاری ہے
عید مبارک
ایک چپ "ہزار" سکھ
کوئی فلسفہ نہیں عشق کا /جہاں دل جھکے وہیں سر جھکا
وہیں زانو موڑ کر بیٹھ جا /نہ کوئی سوال جواب کر

2/29/2012

بڑی تصویر کی چھوٹی تفصیلات

ہم کرہ ارض کے بے شمار ملکوں میں سے عمومی رقبے کے ایک ملک کی ایک منتشر سی قوم ہیں۔ لیکن ہم بڑے ہی سیاسی لوگ اور مذہبی لوگ ہیں۔ کسی نے ایک دفعہ ہمیں بتایا تھا۔ جدا دین سے سیاست ہو تو رہ جاتی ہے چنگیزی۔۔ اب گو ہمیں چنگیزی اتنی بری نہیں لگتی۔۔ چنگیز خان کے نام کے ساتھ خان لگتا ہے اور بہت سے ہر دلعزیز خان قومی افق پر چھائے رہے ہیں۔۔ ہمیں پسند رہے ہیں۔ پھر چنگیز خان نے ہمیں تیمور لنگ جیسا جی دارو دیندار سیاست دان بھی دیا۔۔ جس کے بارے میں بعد میں ہمیں بتایا گیا۔۔ مل گیا پاسبان کعبہ کو بت خانے سے۔۔ وہ سب ہم مانتے ہیں۔ لیکن دین کو سیاست سے الگ نہیں کرتے بالکل۔ اپنا دینی چینل کھولتے ہیں، سنتے ہیں۔۔ سر دھنے ہیں، پھر اپنا سیاسی خبروں کا چینل کھولتے ہیں۔۔ اپنے پسندیدہ ٹاک شو کے ہاتھوں کی گئی سر پھٹول دیکھتے ہیں۔ اور جب دماغ منتشر اور آنکھیں بھاری ہو جاتی ہیں توکچھ ہلکا پھلکا دیکھ لیتے ہیں۔

لیکن ہم ہمیشہ بڑی تصویر نظر میں رکھتے ہیں۔ دنیا کے چیدہ چنیدہ واقعات پر ہماری نظر رہتی ہے۔ ملک کے اہم سیاسی معاملات، معاشی اتار چڑھاؤ، فوجی غلطیوں کا کل اور آج ہمیں بہت اچھے طریقے سے یاد ہے۔ ہمیں بخوبی ادراک ہے کہ ہم ایک بہت اہم ملک ہیں۔ جس کا کام ہر سپر پاور کو۔۔ جن کو ہم ہی جیسے ملکوں نے سپر پاور کا نام دیا ہے۔۔ اپنی شمشیر کے بل پر پاس پھٹکنے سے روکنا ہے۔۔ ہماری انسپیریشن تو سب کو معلوم ہی ہے۔۔ یعنی بحر ظلمات میں گھوڑے دوڑا چکے ہیں۔ بڑے بڑے معاملات پر مسلسل غور کرتے رہنے کی وجہ سے ہم ہائیپراوپیا کا شکار ہوتے جارہے ہیں۔

ہائیپراوپیا یا فارسائیٹڈنیس طبی زبان میں نظر کی ایسی حالت کو کہا جاتا ہے جس میں قریب کی چیزیں واضح نہیں دکھتیں۔ سماجی زبان میں اسے ویژن کی اسی کمی سے منسوب کیا جا سکتا ہے جس میں ہمیں ایک دوسرے ملک میں ہوتے ہوئے کرکٹ میچ کی تفصیلات کا پورا علم ہوتا ہے لیکن یہ نہیں معلوم ہوتا کہ تین روز سے مسلسل ہونے والی دہشت گردی کے نتیجے میں ہونے والی مارکیٹ ہڑتال کی وجہ سے ہمارے ہمسائے کے پاس کل سے کھانے کا راشن ختم ہو چکا ہے۔ یا کچھ ایسے کہ ہم جانتے ہیں پاک چائینا کے اشتراک سے بننے والے نئے طیارے میں کون کون سی خوبیاں ہیں لیکن ہماری گلی میں چھوٹا سا گندے پانی کا جوہڑ ہمیں نظر نہیں آتا جس پر بھنبھناتی مکھیاں اور مچھر طرح طرح کی بیماریوں کا سبب بن سکتے ہیں۔ یا پھر یہ کہ کن سیاست دانوں کی ڈگریاں اصلی ہیں اور کن کی نقلی، لیکن بچوں کے سکولوں میں پڑھانے والے اساتذہ کو کوئی مدد درکار ہے ہمیں معلوم نہ ہو سکے۔

یہ تو نہیں کہ سکتے کہ سماجی طور پر ہم ایک بے شعور قوم ہیں یا یہ کہ ہم سوچنے سمجھنے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔ ہم ایسے نہیں ہیں کہ ہم نے دنیا دیکھی ہے۔ کیسی کیسی قومیں ہم نے دیکھی ہیں۔۔ سارا سارا دن سونے والی افیونی قومیں۔ ہر اصول کو بالائے طاق رکھ کر آزادیٔ ذات کا نعرہ لگانے والی ہپی قومیں، یا انسانوں کو شودر گردان کر زندگی کا حق نہ دینے والی تنگ نظر قومیں، یا عربی و عجمی کی تفریق کرنے والی گھمنڈی قومیں، یا طاقت کے نشے میں دوسروں کو زندہ نہ رہنے دینے والی متعصب قومیں۔ ہم ایسی قوموں میں شمار نہیں ہوتے۔ ہم شب بیدار، دیندار، روادار، مساوت پسند، عجز کو زندگی ماننے والی رحمدل، بہادر اور اصول پسند قوم ہیں۔ ہاں ایک چھوٹا سا مسئلہ ہو گیا ہے۔۔ ہم بڑے بڑے میورلز کو پرکھتے پرکھتے چھوٹی تفصیلات کو نظرانداز کرنے کے عادی ہو گئے ہیں۔ ہمیں اپنے ارد گرد کیا غلط ہے نظر نہیں آتا۔ اور اس صرفِ نظر نے ہمارے مسائل کی چھوٹی چھوٹی تفصیلات کو ایسا سیلاب بنا دیا کہ پوری قوم ہی اس میں بہ جانے کو ہے۔

ان تمام چھوٹی تفصیلات پر جن پر بڑے بڑے آرٹیکل نہیں چھپتے، ٹاک شوز نہیں بنتے اور دعوتوں میں گرما گرم بحث نہیں ہوتی، فردا فردا بیان کیا جائے تو ایک لمبا عرصہ درکار ہوگا۔ لیکن یہاں پڑھنے والے محض چند سو افراد ان باتوں پر سوچنا شروع کر دیں اور ان کو حل کرنے کا راستہ ڈھونڈ لیں تو ایک بڑی تبدیلی کا آغاز ممکن ہے۔ یہ مسائل ہماری روز مرہ زندگی میں صفائی ستھرائی، تعلیم کی حقیقی ترویج، امداد باہمی، وقت کی قدر اور سچائی سے ہی متعلق ہیں۔

بظاہر ہمارے بہت قریب موجود ان چھوٹے مسائل کو غور سے دیکھنے پر ان کا حل ناممکن لگتا ہے۔ کیونکہ ہم سمجھتے ہیں کہ ہماری حکومت نااہل ہے، اور ہمارے سیاستدان اپنی تجوریاں بھر رہے ہیں۔ اور دوسرے انتظامی ادارے اپنا کام ایمانداری سے نہیں کررہے۔ چلیں پھر بات یہیں سے شروع کرتے ہیں کہ ہم بدتر حالات کے آخری درجے پر ہیں۔ اور ہم نے اپنی بہتری کی ذمہ داری چند اشخاص کے سپرد کی تھی جو اس پر کام نہیں کر پا رہے۔ تو ایک چھوٹا سا سوال اٹھتا ہے۔ یعنی ایک شخص نے دوسرے سے کہا میں ڈوبنے لگوں تو تم مجھے بچا لینا۔ اور وقت آنے پر دوسرا شخص اس کو نہیں بچاتا تو پہلا شخص کیا کرے گا؟؟ کیا وہ آنکھیں بند کرکے ڈوبتا جائے گا؟؟ اور اگر وہ نہ ڈوبے اور کسی نہ کسی طرح بچ جائے تو کب تک وہ اسی دوسرے پر اپنے بچاؤ کے لیے انحصار کرے گا۔ جب زندگی پر داؤ لگ رہا ہو تو یہ جوا بار بار نہیں کھیلا جاتا کیونکہ انسانی سرشت میں سروائیول کی، خطرے سے لڑنے کی ایک فطری حِس رکھی گئی ہے۔ جس کا تعلق نسل انسانی کی بہتری سے بنایا گیا ہے۔

پتھر کے زمانے سے یہی حِس انسان کو اپنی حالت بہتر بنانے پر مجبور کرتی رہی ہے۔ انسان نے جب پہلی پہلی بستیاں بنائی تھیں تو ٹیم ورک وجود میں آیا تھا۔ وہی ٹیم ورک اب ایک محلے، ایک گلی، ایک شہر، ایک ملک میں کام آسکتا ہے۔ ہمارے ان چھوٹے مسائل کا حل ہماری مشترکہ کوششوں میں ہے جہاں ہم کسی بھی ان ریلائیبل شخص یا ادارے پر انحصار چھوڑ کر اختیار اپنے ہاتھوں میں لے لیں۔

ہم خود وقت کی پابندی شروع کرسکتے ہیں، وقت کی قدر میں اضافے سے ہمارے پاس بہت سا وقت بچ جائے گا جسے تعمیری سرگرمیوں میں استعمال کیا جا سکتا ہے

ہم خود اپنے محلے کو صاف رکھنے کا صفائی چارٹ بنا سکتے ہیں۔ سڑک ٹوٹنے یا لائیٹس خراب ہونے کی صورت میں پیسے جمع کرکے اسے خود ٹھیک کر سکتے ہیں۔

روزگار کے لیے ایک دوسرے کو اپنی کمپنیوں میں مواقع دے سکتے ہیں۔ شادیوں کے لیے انسانی سیرت کو معیار بناسکتے ہیں۔ ان کے انعقاد کے لیے ایک دوسرے کی مدد کر سکتے ہیں

ہم اپنے فارغ اوقات میں اپنے بچوں کے سکول میں رضاکار امداد دے سکتے ہیں۔ تاکہ اساتذہ پر کام کا بوجھ کم ہو اور وہ بہتر طریقے سے اپنے فرائض ادا کرسکیں۔

ہم مقامی ٹیمز بنا کر بچوں کے کھیلنے کے لیے جگہیں اور دوسرے وسائل مہیا کر سکتے ہیں۔

ہم کار پول کرکے ایک ہی کار میں ایک سے زیادہ افراد مختلف جگہوں پر جا سکتے ہیں جس سے ٹریفک کا رش کم اور وسائل کی بچت ہو

ہم بیماریوں کی روک تھام کے لیے خود ڈاکٹرز سے رابطہ کرکے کیمپ ارینج کر سکتے ہیں۔

ہم مقامی سکولوں کو ترویج دے کر اچھا سکول بنا سکتے ہیں۔ مل جل کر ان میں ضرورت کی چیزیں مہیا کر سکتے ہیں اور بڑے سکولوں کی بڑی فیسوں کی حوصلہ شکنی کر سکتے ہیں۔

جن لوگوں کے پاس جنریٹر یا متبادل بجلی کی سہولت مہیا نہیں ان کے لیے یہ سہولت مل جل کر خرید سکتے ہیں

مقامی وسائل جمع کر کے مہنگے وسائل زندگی خرید کر ارزاں قیمت پر فروخت کر سکتے ہیں۔ تاکہ کوئی شخص بھوکا نہ سوئے۔ کسی کی زندگی رائگاں نہ ہو۔

پہلے چھوٹے لیول پر ارگنائز ہوکر ہم چھوٹی تبدیلیاں لا سکتے ہیں اور پھر بڑی تبدیلوں کے لیے لڑ سکتے ہیں۔ تبھی ہم بہتر کے لیے بارگین کر سکتے ہیں۔

ان چھوٹی چھوٹی باتوں کے لیے کسی حکومت کی ضرورت نہیں ہوتی۔ ان کے لیے صرف ایک تعمیری جذبے کی ضرورت ہوتی ہے۔ احسان اور رواداری کی ضرورت ہوتی ہے۔ اپنی دو روٹی کو مل بانٹ کر کھانے، کھلے میں چٹائی ڈال کر علم بانٹنے اور سیکھنے، صفائی کو نصف ایمان سمجھنے اور صرف خدا پر توکل کرنے کا جذبہ جب بھی بیدار ہوتا ہے محض مٹھی بھر منظم لوگ دنیا کی سب سے بڑی سلطنت کی داغ بیل ڈالتے ہیں۔ پھر وہ لوگ کبھی نہیں ہارتے۔ اور ہاں۔ وہ بحر ظلمات میں گھوڑے بھی دوڑا دیتے ہیں لیکن اب ویسے سب میرین کا دور ہے۔

2/06/2012

کھیل تہذیب (سولائزیشن)۔

کمپیوٹر گیمنگ کے شائقین سولائزیشن کے نام سے بخوبی واقف ہوں گے۔ نقاد دو عشرے سے سٹریٹیجک گیمز کے زمرے میں اسے متفقہ طور پر سب سے زیادہ کھیلی جانے والی۔۔ یا سب سے زیادہ بکنے والی گیم قرار دیتے ہیں۔ چار ہزار قبل مسیح سے موجودہ دور تک کی تہذیب کو ہماری انگلیوں کی جنبش پر لا گرانے والا تہذیب کا یہ کھیل ہر کھیلنے والے کو اپنے وسیع کینوس، لا محدود امکانات اور مستند حوالوں سے موہ لیتا ہے۔

ابتدائی طور پر کھیل جیتنے کے زیادہ تر عوامل مطلق العنانی پر مشتمل تھے لیکن نئے ورژنز میں حتمی سکورنگ کو کثیر جہتی کر دیا گیا ہے۔ اب جیت سفارتی و سیاسی، سماجی و ثقافتی، تحقیقی و سائنسی بھی ہو سکتی ہے۔ لیکن اس میں کھلاڑی کو دوسری تہذیبوں سے بڑھ کرکچھ کر دکھانا ہوتا ہے۔ ویسے جیت کا ایک منظر نامہ یہ بھی ہے قوم کی آبادی کا حصہ پوری گیم کی آبادی میں قریبا پینسٹھ فیصد ہو، یا وہ اسی قدر رقبے پر قابض ہو جس کے نتیجے میں علاقے اور آبادی کے وسائل بھی اس کو مہیا ہو جاتے ہیں۔

لیکن یہ اتنا سادہ نہیں جتنا سم سٹی کا پہلا ہرا خالی قطعہ نظر آتا تھا۔ تہذیب کے قوانین دشوار، مخالف مشکل اور حرکات پیچیدہ ہیں۔ کمپیوٹر کے پیدا کردہ شہر آپ کے متوازی چلتے ہیں۔ ان کے لیڈروں کا رویہ پیداواری صلاحیت، عصری حکمت، فوجی ترجیحات اور توسیع پسندانہ عزائم کا ایک منفرد مجموعہ ہو سکتی ہے جسے سمجھنے کے بعد ہی کوئی بھی تہذیب اپنی بقا اور ترقی کے لیے ایک راستہ وضع کر سکتی ہے۔ مبصر کبھی کبھی اسے گاڈ گیم کہتے ہیں۔ لیکن تصویریں جتنی بھی حقیقی ہوں کھلاڑی کے اختیارات کو محدود کرنے کے لیے اندر ہی اندر کئی عوامل کام کرتے ہیں جن کوہر بار تھوڑا اور سمجھنے کے بعد پھر نئے سرے سے کھیلنے کے لیے تازہ دم ہونا پڑتا ہے۔

اپنے دشمن (اور دوست) چننے کے بعد جب ہم چار ہزار قبل مسیح سے اپنا سفر شروع کرتے ہیں تو ہمارے پاس ایک قطعہ زمین اور چند لٹے پٹے مسافروں کے علاوہ کچھ نہیں ہوتا۔ سب سے پہلا مسئلہ تو ظاہر ہے سیٹلمنٹ ہوتا ہے۔ جس کے ساتھ ساتھ شہریوں کے رہنے کھانے اور لٹیروں سے بچاو کا فوری انتظام کرنا ہوتا ہے۔ سٹی سٹیٹس کو ترقی دینے کے لیے چند بنیادی مطلوبات کی ضرورت ہوتی ہے۔ جس میں اطراف کی زمین کے وسائل کی دریافت اور ان کو استعمال میں لانے کے طریقے وضع کرنا اور علم کا حصول ہے۔ اس دوران دوسری قومیں بھی اپنی چال چلتی رہتی ہیں۔

گو کھلاڑی کی جیت میں اس بات کا بڑا ہاتھ ہے کہ اس نے کھیلنے کے لیے کونسی قوم چنی ہے اور اس کے ہمسائے کون ہیں کیونکہ کچھ قوموں کو جان بوجھ کر دوسری قوموں پر کسی نہ کسی طور برتری دی گئی ہے۔ لیکن قانون کو سمجھ لینے کے بعد کسی بھی قوم کو اوج کمال تک پہنچایا جا سکتا ہے۔ ویسے پہیے کی ایجاد سے نیوکلیر دریافتوں اور الفا سینچری تک کے خلائی سفر کو آسان کرنے کا ایک طریقہ یہ بھی ہے کہ کھیل کو ایزی پر سیٹ رکھا جائے۔ جلد یا بدیر منزل آ جاتی ہے۔

کھیل کی آسانی یا دشواری کا براہ راست تعلق کھلاڑی کے چنیدہ علاقے کے قدرتی ذخائر اور متعلقہ قوم کے تاریخی ورثہ اور پس منظر کے علاوہ دوسری قوموں کی عسکری و دیگر پیش رفتوں اور عوام کے نظم و ضبط اور خوشی سے ہے۔ لیکن ان تمام پہلووں کا فردا فردا جائزہ لینا بہتر رہے گا۔

شہر اور شہری

کچھ علاقے قدرتی وسائل میں قدرتی طور پر مالدار ہوتے ہیں۔ کچھ اناج وغیرہ کی پیداوار میں خود کفیل ہوتے ہیں مثلا دریاوں کے کنارے بسنے والی قومیں۔ ایسے مقامات پر بسنے والے شہروں کو باقی قومیتوں پر ایک مخصوص ابتدائی برتری حاصل ہو جاتی ہے۔ لیکن جوں جوں کھیل کو مشکل کرتے ہیں یہ عوامل کم ہو جاتے ہیں۔ دوسرا بڑا فیکٹرعوام کی قناعت پسندی ہے۔ آسان سیٹنگ پر عوامی خوشی کی مقدار زیادہ اور مشکل پر کم ہوتی ہے۔ ایسے ہی کسی دیے گئے درجے پر قانع شہریوں کی ایک مخصوص تعداد موجود ہوتی ہے۔

شہر اپنے اردگرد واقع ایک مخصوص حد کو متاثر کرتے ہیں۔ اور انہی مقامات پر خوراک کی پیداوار، نقل وحمل کی تشکیل وغیرہ کی جا سکتی ہے۔ اردگرد کے مقامات پر کام کرکے ان کو اپنی ضرورت کے مطابق قابل استعمال بنایا جاسکتا ہے۔ لیکن اس کا شہر کے حیطہء عمل میں ہونا ضروری ہے۔

شہروں کی بقا، پرداخت اور ترقی میں خوراک کی پیداوار سب سے اہم ہے۔ بلکہ اس کی آبادی کا اضافہ کا بھی پیداوار ہی سے راست تناسب کا تعلق ہے۔ خوراک کی پیداوار میں کمی یا خاتمے اور گوداموں کی تباہی وغیرہ سے شہر کی بقا کا حقیقی جواز ختم ہو جاتا ہے۔

جیسے خوراک شہر کے حجم وغیرہ کو بڑھاتی ہے، تجارت اس کو مستحکم کرتی ہے۔ تجارت اور لین دین کا پیداواری کھاتا ریسرچ، ریوینو اور اشیائے تعیشات کے زمروں میں حسب ضرورت تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ ایسے ہی شہریوں کو مختلف اقسام میں بانٹا جا سکتا ہے۔ جن میں کاریگر بنیادی حیثیت کا حامل ہے جو خوراک اور تجارت کرنے کے لیے ضروری ہے۔

اس کے علاوہ شہری سائنسدان، سول انجنیرز، محصول کنندگان اور پولیس پر مبنی ہوتے ہیں۔ شہریوں کو مخصوص شعبہ جات تفویض کرنے سے ان کا شہر کی بنیادی یا تجارتی پیداوار میں حصہ کم ہو جاتا ہے لیکن اس سے سائینسی اور ریسرچ کے منصوبوں اور پیداوار اور محصول اور تعیشات زندگی میں اضافہ ہوجاتا ہے۔ اہم نوعیت کی عمارات اور ونڈرز بنانے کی رفتار بھی بڑھ جاتی ہے۔ پولیس کا کردار شہری کرپشن کم کرنے کے لیے ضروری ہوتا ہے۔ دوسری طرف اگر شہر میں ان مخصوص کاموں کے وسائل، ذرائع یا مواقع کم ہوں تو اضافی شہری اینٹرٹینر بن جاتے ہیں۔ اور شائد دن رات سٹینڈ اپ کامیڈیز تیار کرتے رہتے ہیں۔

شہری مشنری، جاسوس یا سیٹلر بھی ہو سکتے ہیں۔ جن کو دوسرے علاقوں میں بیجھ کر متعلقہ فوائد اٹھائے جا سکتے ہیں۔ جاسوس مخالفین کے مشن کی معلومات لینے، پروپیگنڈا کرنے اور ان کے مشن سبوتاژ کرنے وغیرہ کے لیے بہت اہمیت رکھتے ہیں۔ سیٹلر نئے شہر بسانے کا کام کرتےہیں۔ مشنری مذہب کی ترویج کرتے ہیں۔ پوری مملکت میں ایک مذہب کی اکثریت کے فوائد ہیں۔ اور یہی مشنری دوسرے علاقوں میں کلچر فلپنگ کا کام بھی کرتے ہیں۔


شہریوں کی ایک بڑی تعداد کا کسی نہ کسی صورت خوش یا قانع ہونا ضروری ہے کیونکہ اگر ان کی ایک بڑی تعداد ناخوش ہوجائے تو سول ڈس آرڈر شروع ہو جاتا ہے۔ یہ شہر کو کمزور کرنے والا ایک بہت اندرونی فیکٹر ہے جو خوراک یا ریوینو کی کمی وغیرہ جیسے عناصر ہی کی طرح بالاخر شہروں کی بقا کو لاحق ایک بڑا خطرہ بن سکتا ہے۔ یہاں بھی ایک آسان شہر میں خوش یا قانع شہریوں کی تعداد زیادہ ہوگی اور ایک مشکل شہر میں ناخوش افراد بکثرت پائے جائیں گے۔

سول ڈس آرڈر یا خانگی انتشار میں خوراک کی پیداوار تو کم و بیش جاری رہتی ہے لیکن کسی قسم کی تجارتی یا سائینسی پیداوار وغیرہ ممکن نہیں رہتی۔ اور شہر کا انتظام زیادہ مشکل ہو جاتا ہے۔ فوری علاج کے لیے کھلاڑی سائینسی ریسرچ فنڈز کو کم کرکے تفریحی مواقع زیادہ کر سکتا ہے۔ لیکن اس کے دور رس نتائج میں ریسرچ کی رفتار کم ہو جاتی ہے۔ اس کے علاوہ ہر نئے شہر میں اچھے تفریحی مقامات یا جن کو ونڈرز کا نام دیا جاتا ہے کا اختیار استعمال کیا جاسکتا ہے۔ ایک طریقہ ملٹری فورس کا استعمال بھی ہے جس سے شہریوں کو ڈسپلن کیا جاتا ہے۔ لیکن ایسی صورت میں شہریوں کی خوشی میں خاطر خواہ اضافہ ممکن نہیں ہے۔

انتشار کے برعکس ایک اچھے منظم شہر میں شہری خوش ہوکر"وی لو دا کنگ ڈے" کا اہتمام کرتے ہیں جو آپس کی بات ہے ایک بہت ہی خوشکن احساس پیدا کرتا ہے۔ ایک شہر کے مالی ذخائر زیادہ ہونے اور کلچر مضبوط ہونے سے اس کا دائرہ اختیار خود بخود بڑھتا جاتا ہے۔

باقاعدہ فوج کے علاوہ شہر اپنا دفاع خود بھی کر سکتے ہیں۔ اور ناکامی کی صورت میں اسے لوٹا یا تباہ کیا جا سکتا ہے۔ تیسری صورت میں کٹھ پتلی شہر کا درجہ دیا جا سکتا ہے۔ آخری صورت میں گو اختیارات کی منتقلی نہیں ہوتی لیکن اس کے جملہ وسائل پر حملہ آوور کو اختیار ہو جاتا ہے۔

ثقافت، مذہب اور قومیت

ثقافت ایک طرح سے قوم کی سرحد کا تعین کرتی ہے۔ اور اسی کی مدد سے دوسرے شہروں، تہذیبوں وغیرہ پر اثر انداز ہوا جا سکتا ہے۔ اس سلسلہ میں کلچر فلپنگ کی اصطلاح سامنے آتی ہے۔ یعنی کسی علاقے کا کلچر اتنا بہترین بنا کر پیش کیا جائے کہ دوسرے ویسا بننے کی خواہش کرنا شروع کردیں۔ اس کی مدد سے ہمسایہ شہروں پر کسی بھی فوج کے بغیر پر امن قبضہ جمانا ممکن ہے۔ اور مفتوحہ شہر کی عمارات وغیرہ تباہ نہیں ہوتی۔ اس سے عالمی کمیونٹی میں کھلاڑی کو منفی کی بجائے مثبت ریپوٹیشن ملتی ہے۔ اس کا کلچر ٹوٹل زیادہ ہو جاتا ہے۔

مذہب تہذیب کا ایک اہم حصہ ہے۔ نئے ورژن میں مخصوص نوعیت کی عبادتگاہیں بنانے کی اپشن بھی رکھی گئی ہے تاکہ شہروں کے کلچر اور خوشی میں اضافہ کیا جا سکے۔ ایک جیسے مذاہب والی قوموں میں اتفاق رائے اور سفارتی تعلقات کی نوعیت بہتر ہوتی ہے۔ جبکہ مختلف مذاہب والی قوموں میں قدرتی دشواری رکھی گئی ہے۔ کسی مخصوص مذہب کے ایک شہر میں پھیل جانے کے بعد اسے ختم نہیں کیا جاسکتا۔ تاہم شہروں میں مذہب کی موجودگی بہت سے دورس فوائد کی حامل ہوتی ہے۔

قومیت بنیادی طور پر چنی گئی تہذیب سے متعلق ہوتا ہے۔ اسی نظریے کی بنیاد پر کھیل میں جنگ اور انقلاب وغیرہ کے عوامل کو پیچیدہ بنایا گیا ہے۔ ایک قوم کے شہری جہاں پیدا ہوتے ہیں اس سے فطری لگاو رکھتے ہیں اور جب ان شہروں پر قبضہ ہوتا ہے تو وہ نئے کلچر کا حصہ بننے میں وقت لیتے ہیں۔ جس کا انحصار اس نئی تہذیب کے کلچر کی مضبوطی پر ہے۔ کمزور کلچر ان لوگوں کو خود میں سمو نہیں پائے گا اور ان میں بغاوت ہونے کا خطرہ رہے گا گو وہ معاشرے میں اپنا کردار ادا کرتے رہیں گے۔ اسی طرح مقبوضہ فوج کی کارکردگی بھی مقامی فوج سے کم ہوتی ہے۔

تحقیق

سائینسی ترقی اور تحقیق کھیل کو آگے چلاتے رہنے کے سب سے بنیادی عوامل میں سے ایک ہے۔ اس کے بغیر رہنے سہنے کے نئے طریقوں سے واقفیت، نئے وسائل کی تلاش اور استعمال اور تجارت میں اضافہ ممکن نہیں۔ نئے ونڈرز کی تعمیر ممکن نہیں ہے۔ فوج کو نئے زمانے سے ہم آہنگ کرنا بھی ممکن نہیں ہے۔ اس کے بغیر دوسری تہذیبوں سے باعزت ڈیلینگ ممکن نہیں ہے۔

پرانے ورژن میں تحقیق اور ٹیکنالوجی کی تجارت، چوری اور تبادلہ وغیرہ موجود تھا۔ لیکن اس کو جوائینٹ ٹیکنالوجی وینچرز سے بدل دیا گیا ہے۔ باہمی امن سے رہنے والی تہذیبیں مساوی رقوم سے سائٰنسی منصوبے تیار کرسکتی ہیں جس سے ہر دو کو باہم فائدہ ہو اور اس کی معیاد ان کے درمیان موجود امن کے قیام تک ہے۔ اس کا دوسرا طریقہ اپنے مخالف کو کسی مہنگے منصوبے میں الجھا دینا ہے جبکہ کھلاڑی کو جنگ کی تیاری کے لیے وقت وغیرہ درکار ہو۔

ہتھیار، فوج اور جنگ

جنگ و جدل کے بغیر تہذیب کا کھیل ادھورا ہی رہ جاتا۔ نئے ورژن میں جنگ کو زیادہ حقیقی رنگ دینے کے لیے ایک گیم ٹائل پر ایک ہی یونٹ کو ٹہرانے کی گنجائش ہے۔ جس سے جنگ کو ایک بڑے خطے پر پھیلانے اور مورچہ بندی کا حقیقی تصور دینے میں آسانی ہو گئی ہے۔

کھلاڑی جتنا بھی امن پسند ہو، اپنے اطراف کی قوموں سے جتنے بھی امن معاہدے کرلے، جیتنے کی حکمت عملی کوئی بھی ہو جنگ درپیش ہو ہی جاتی ہے۔ یہیں سے اس کی یونٹس کو تجربہ حاصل ہوتا ہے۔ ہر مخصوص یونٹ کی حملہ اور دفاع کی ایک مخصوص صلاحیت ہوتی ہے۔ اور حملہ آوور کے سامنے اسی صلاحیت کا امتحان ہوتا ہے۔ علاقے کی دشواری، دریاوں کی موجودگی، قلعہ بندی وغیرہ کو کھلاڑی اپنے حق میں استعمال کرسکتا ہے۔ اور اس کے مخصوص بونس ہیں۔ مثلا پہاڑوں میں لڑنا میدانوں میں لڑنے کی نسبت دشوار ہے تو اس سے دفاع مضبوط ہوگا وغیرہ۔

چونکہ جنگ کی ہار جیت کا فیصلہ لونگ رن میں نقصانات کے تخمینے وغیرہ سے ہوتا ہے اس لیے کبھی کبھی ممکن ہے کہ بظاہر پسماندہ نظر آنے والے اپنی حکمت عملی یا اوپر بتائے گئے عوامل کی مدد سے جنگ کے حتمی فاتح قرار پائیں لیکن یہ بار بار نہیں ہوتا۔ کسی بھی دی گئی صورتحال میں اگر حملہ آوور تہذیب یا دہشتگرد (باربیرین) ٹیکنالوجی اور ہتھیاروں میں کھلاڑی سے بہتر ہیں تو اس کا مقابلہ صرف جوش و جذبے، ڈپلومیسی یا تاوان سے نہیں ہوسکتا۔ ایسے میں تلواروں سے لڑنے والے نائٹ نیوکلیر لانچر یا کروزمیزائل کی بمباری کا مقابلہ نہیں کر سکتے۔ پھر خواہ ہم اس علاقے پر چار سوسال سے حکمران ہوں یا چار ہزار سال سے، فوجی پسماندگی کے نتیجے میں ہماری امن پسند تہذیب صفحہ سکرین سے ایسے مٹ جاتی ہے جیسے کبھی تھی ہی نہیں۔

ایک یونٹ کی تیاری میں کافی وقت، محنت اور وسائل درکار ہوتے ہیں۔ تجربے کی بنیاد پر ان کے چار درجات ہوتے ہیں اور سب سے زیادہ تجربہ کاریونٹ ایلیٹ کہلاتی ہے جس کے ہٹ پوائینٹ پانچ ہیں۔ اسی یونٹ سے لیڈر اٹھتے ہیں۔ عملی جنگ کے وقت ان کی کارکردگی باقی یونٹ ہی کے برابر ہوتی ہے۔

اگر کھلاڑی اپنی فوج کو وسائل سے سپورٹ نہ کر سکے تو اس کویونٹ ڈس بینڈ کرنے پڑتے ہٰیں۔ ابھی تک کھیل میں ایسی فوج بنانے کی آپشن نہیں ہے جو اپنے بنائے ہتھیار بیچ کر یا امن دستے بھیج کر اپنے اخراجات کے لیے خود رقم مہیا کر سکے۔ کھیل کے تمام تر ریسورسز مرکزی ہیں اور وہیں سے نئے ہتھیار، ٹیکنالوجی کی فراہمی اور یونٹس کی تیاری وغیرہ کا اہتمام ہوتا ہے۔

گیم چیٹ اور کامیابی

کھیل میں ثقافتی اثرات، کرپشن، ناخوشی کے اضافہ، دہشت گردوں کے حملے، جاسوس، مشنری اور سٹی سٹیٹ (چھوٹی خودمختار ریاستیں) وغیرہ کو کمپوٹر کی سائیڈ سے کھلاڑی کے خلاف استعمال کیا جاتا ہے۔ دوسری طرف انہی عوامل کو کمپیوٹر اپنے حق میں استعمال کرکے پانسا اپنے حق میں پلٹ سکتا ہے۔ ایسے لگتا ہے اس کے شہری ہمیشہ زیادہ خوش، کرپشن ہمیشہ کم، جاسوس زیادہ مستعد اورکلچر زیادہ مضبوط نظر آتا ہے۔

کھیل کو جیتنے کے چند ہی طریقے ہیں۔ یا تو کھلاڑی ہر دوسری تہذیب کوملیامیٹ کر دے یا اپنی آبادی اور وسعت کے ذریعے دنیا کے چھیاسٹھ فیصد حصے پر قابض ہو جائے یا اس کا کلچر اتنا بااثر ہو کہ ہر شخص اس میں شامل ہونا چاہے یا سفارتی کامیابیاں اتنی بڑھ جائیں کہ یواین میں اسے لیڈر چن لیا جائے یا پھر سائینسی ترقی میں دوسروں سے بہت آگے نکل جائے۔

کھیلنے سے پہلے ہمارے نظریات تہذیب کے بارے میں کچھ سرسری ہوتے ہیں جیسے کہ ابتدائی تہذیبیں زیادہ تر دریاوں کے کنارے کنارے بسا کرتی ہیں۔ تاریخ کے بارے میں خیالات جذباتی تاریخی ناولوں کی گرد میں اٹے سے ہوتے ہیں۔ اور یہ درست ہے کہ تہذیبیں بستی ہیں پھر ریگزاروں سے اٹھنے والے بگولوں کے ہاتھوں اجڑتی ہیں۔ جنگیں شروع ہوتی ہیں پھر ہار جیت سے ختم ہوتی ہیں۔ لوگ مرتے اور جیتے ہیں۔ سرحدیں بنتی ہیں اور بگڑتی ہیں۔ لیکن اب بغیر پلاننگ اور وسائل کی سٹریٹیجک تقسیم کے کمپیوٹر سکرین کا ایک انچ کا قطعہ بھی زیادہ دیر تک آباد نہیں رکھا جا سکتا۔

غلطیوں کی اس کھیل میں گنجائش نہیں ہے۔ ہمارے مخالف(اے۔آئی)۔ حکمران شطرنج کے شاطر اور گھاک کھلاڑی کی طرح اپنی چال چلتے ہیں۔ بظاہر تمام قوانین پر عمل کرتے ہوئے۔ لیکن جب ہم دیکھ نہیں رہے ہوتے وہ جیت کے طویل المعیاد منصوبہ جات تیار کر رہے ہوتے ہیں۔ وہ اپنے شہروں کی بہبود کو بہتر سے بہتر بنا رہے ہوتے ہیں۔ جب ہم دیکھ نہیں رہے ہوتے وہ سائینس کی نئی دریافتوں کا اعلان کرتے ہیں۔ وہ سفارتی تاروپو میں الجھے ہوتے ہیں۔ پھر ہمارے حامی ہمارے مخالفین کے ساتھ کھڑے نظر آتے ہیں۔ ہمارے کلچر فلپ ہو جاتے ہیں۔ جب ہم دیکھ نہیں رہے ہوتے وہ جنگ کی پوری تیاری کیے سامنے آ کھڑے ہوتے ہیں۔ جب ہم دیکھ نہیں رہے ہوتے وہ کہیں نہ کہیں سے ہمیں کمزور دیکھ کر ایک آخری وار کرتے ہیں۔ پھر ہمارے شہر برباد، یونٹ ڈس۔بینڈ اور حکمران شہید اور لوگ بےآسرا ہو جاتے ہیں۔ ہم بے یقینی اور بے بسی سے کمپیوٹر سکرین کو دیکھتے ہیں۔ موسیقی کی لے کچھ اور اونچی کرتے ہیں۔ ہمت و حوصلہ دوبارہ جمع کرکے کھیل ری۔سٹارٹ کرتے رہتے ہیں۔۔۔ ورژن کوئی بھی ہو بنیادی اصول قریبا ایک سے ہیں۔۔۔ اینڈ گیمز آن

1/16/2012

سے نو ٹو لائیبریری۔

دسمبر کی اس کہر بھری صبح مجھے آتش فشانی منصوبہ (ہمم۔ پروجیکٹ وولکینو)کی یاد دہانی کرائی گئی۔ گرم گرم چائے کی اٹھتی بھاپ کے پیچھے سے جھانکتے میرے چہرے پر موجود سستی اور سردی کے تاثرات کی حقیقت سے پرانی واقفیت رکھنے کی وجہ سے اس نے خاموشی سے بیڈروم میں جاکر گہری نیند سوتے باپ سے ماہر ہیپناٹائزر کی طرح سکول آنے کا پکا وعدہ لے لیا۔ آہ۔ ان خاموش منصوبہ بندیوں سے مجھے کتنی چڑ ہے۔

احسن کی چھٹی تھی۔ جس کو سکول کی بجائے شاپنگ میں گزارنا زیادہ دلچسپ ہوتا مگر بہرحال۔ چھوٹی کا سکول دیر سے شروع ہوتا ہے۔ سو ہم دونوں (ہم تینوں! ) آتش فشاں پہاڑیاں بنانے کے لیے سکول پہنچ گئے۔ قریبا بیس بچوں کی اس کلاس میں ہمارے اور ایک استانی کے علاوہ پانچ والدین اور بھی موجود تھے جو ذوق شوق سے اخبار کے ٹکرے لئی میں ڈبو ڈبو کر سوڈے کی پلاسٹک بوتل پر چپکاتے بچوں کو اسسٹ کر رہے تھے۔ یعنی ادھر ادھر اڑتے میدے کے چھینٹے صاف کرنا اور لئی سے پیالوں کو دوبارہ بھرنا اور "اوہ سو کیوٹ" کہ کر بیچ بیچ میں فوٹو لیتے جانا۔۔ بننے کے بعد ان پہاڑیوں کو سوکھنا تھا۔ اور پھر ان پر پینٹ ہونا تھا۔ پھر ان میں بیکنگ سوڈا اور صابن وغیرہ بھرا جانا تھا۔ اور پھر آتش فشان پھٹنا تھا۔ لیکن وہ بعد میں ہوگا۔ چھوٹی سارا وقت کونے میں کھڑی ہوکر بڑی جماعت کے بچوں کو گھورتی رہی۔

پارکنگ میں داخل ہونے سے پہلے دونوں اطراف پر کھڑے لوگوں نے ہاتھ ہلا ہلا کر ہمارا استقبال کیا تھا۔ ہم نے مسکراتے ہوئے سر کے اشارے سے ان کا شکریہ ادا کیا۔ اور ہاتھ ہلا کر ہاٹ چاکلیٹ کو منع کیا۔ ہاں۔۔ میں بتانا بھول گئی اس روز قصبے میں سپیشل الیکشن تھا۔ ووٹنگ کے لیے اس سکول کا انتخاب کیا گیا تھا کہ باقی چاروں کی نسبت زیادہ وسط میں تھا اورپارکنگ بڑی تھی۔ حمایت کنندگان سخت سردی میں "سے یس" یا "سے نو" کے بورڈ پکڑے کھڑے تھے۔ ایک عمومی نظر کے جائزے سے ایک گروہ دوسرے سے عمر اور تجربے میں زیادہ دکھ رہا تھا اور جوش اور جذبے میں کم۔ لیکن تجربہ جوش سے جیت گیا۔ لائیبریری کی اس سال توسیع کا منصوبہ دوگنی اکثریت سے رد کردیا گیا۔

میں ووٹ نہیں دیتی۔ کیونکہ سب سے پہلے تو میں یہاں رہتی نہیں۔ نہیں میرا مطلب ہے میں یہاں رہتی تو ہوں لیکن یہاں کی شہری نہیں۔ نہیں میں یہاں کی شہری تو ہوں مگر میں پاکستانی ہوں۔ افوہ۔ میرا مطلب ہے۔۔ بہرحال۔۔ احسن کا خیال ہے کہ کل تنخواہ کا تیس فیصد ٹیکس میں دینے کے بعد انتظامیہ کا فرض بنتا ہے کہ ہر کام سے پہلے وہ ہماری رائے پوچھے اور اس کا احترام کرے۔ چاہے وہ چھ ملین جیسی قلیل رقم سے متعلق ہو۔ ایسے ہی قصبے کے باقی لوگوں کا خیال بھی ہے۔ اوران کا خیال یہ بھی ہے کہ اتنی خراب اکانومی میں کتاب کی عیاشیوں کے لیے قوم کے پاس پیسے نہیں ہیں۔ اور ہزار پر پچیس سینٹ کے حساب سے پراپرٹی ٹیکس کا اضافہ ٹھیک ٹھاک اضافہ ہوتا ہے۔ (سالانہ اسی ڈالر کے قریب !!!) کتاب کی عیاشی کے خاتمے ہی کی وجہ سے پچھلے سال قریبی کتاب کی دوکان بڑھا دی گئی۔ لوگ آجکل بہت سینت سینت کر خرچ کررہے ہیں۔

اور لائیبریری تو پہلے ہی اچھی خاصی ہے۔ موجودہ حالت میں بھی چھ ہزار افراد کی کتابی ضروریات پوری کرنے کی اہل ہے۔۔ اور اگر مطلوبہ کتاب نہ ہو تو آس پاس کی دس لائیبریریوں سے رابطہ کرکے منگوا دیتی ہے۔۔ لیکن پھر بھی اچھی اور بڑی لائیبریری کا مطلب ہے زیادہ کتابیں، اچھے سکول۔ ہاوس مارکیٹ اپ۔ زیادہ پراپرٹی ٹیکس اور قصبے کی ترقی۔ لیکن محصول دہندگان نے مزید ٹیکس کے خلاف رائے دی۔ قصبے میں سالوں سے رہنے والوں کی تنخواہیں ایک مقررہ مقام پر رکی ہوئی ہیں۔ ان کے خرچ طے شدہ ہیں اور اس میں اضافہ ان کی مشکلات میں اضافہ کر سکتا ہے۔ کم ٹیکس، زیادہ لوگ پھر زیادہ پراپرٹی ٹیکس اور قصبے کی ترقی۔

لیکن آپ سمجھ ہی چکے ہوں گے کہ قصبے کی ترقی میرا موضوع نہیں ہے۔ میں تو اس انتظامیہ کی تعریف میں رطب اللسان ہوں جو ہر کام اپنے شہریوں سے پوچھ کر کرتی ہے۔ ان کے پیسے پوچھ پوچھ کر خرچ کرتی ہے۔ مزید پیسے مانگنے سے پہلے بھی پوچھتی ہے۔ کیا اس کی وجہ سردی گرمی کی پرواہ کیے بغیر باہر نکل کر اپنے دیے ہوئے ایک ایک سینٹ کے استعمال سے آگہی اور احتساب کی ہمت رکھنے والے شہری ہیں یا اتفاقاً کچھ ایماندار لوگ منتخب ہوکر بڑے عہدوں پر آگئے ہیں؟؟