27 نومبر 2011

کوہان تو ہوگا۔۔۔



چائے پکنے میں کچھ ہی لمحے ہیں۔ ایسی پارٹیز میں عموما چائے خوب گاڑھی، تیز دودھ پتی پسند کی جاتی ہے۔ میں آ جمائے کھڑی ہوں۔ آج میں کوئی بھی غلطی نہیں کرنا چاہتی تھی لیکن پھر بھی کچھ نہ کچھ غلط ہوتا ہی جارہا ہے۔ "میں کچھ سوچنا نہیں چاہتی۔ کچھ لکھنا نہیں چاہتی، کچھ بولنا نہیں چاہتی۔۔" میں منہ ہی منہ میں خود کو مسلسل یاد دہانی کراتی جا رہی ہوں۔ بیٹھک سے روانی سےایک کے بعد ایک تازہ ترین خبروں کو آنکا جا رہا ہے۔۔ گول کمرے میں ڈرامے، کپڑے اور لوگ زیر بحث ہیں۔ لیکن میں دور ہی دور سے مسکرا کر اپنے شامل ہونے کا یقین دلا رہی ہوں۔۔" میں کچھ سوچنا نہیں چاہتی۔۔" میں نے دہرایا۔

بچے جرابوں کے بل پر ادھر سے ادھر پھسل رہے ہیں۔ اوپر نیچے دوڑ رہے ہیں۔ میں نے چند لمحے پہلے تشدد کی زیادتی کا بہانہ بنا کر سٹاروارز بند کردی تھی جس نے مختلف عمروں کے بچوں کو ایک ہی کمرے میں باندھا ہوا تھا۔ شور سے گھبرا کر میں نے دوبارہ ٹی وی آن کرکے کارٹون چینل میں ٹام اینڈ جیری لگا دیا۔ صرف کردار بدلے ہیں۔

چائے کی خوشبو اچھی لگ رہی ہے۔ لیکن یہ لپٹن نہیں ہے۔ میں دو کوس دور جا کر دو پیسے زیادہ دے کر پاکستانی یا مسلمان دکان سے سودا لانے کی کوشش کرتی ہوں لیکن وہ دو پیسے کبھی پاکستانی یا مسلمان کا نفع نہیں بنتے۔ میرے جانے پہچانے برانڈ وہاں ہوتے ہی نہیں۔ "ان کی مارکیٹ نہیں ہے۔۔" اکثر معلوم ہوتا ہے۔ "لیکن یہ برانڈ۔۔ "میں حلیم کے لیے دال ہاتھ میں لے کر بحث کرنے کا وقت نہ ہوتے ہوئے بھی سوال کر گئی تھی۔۔ "ارے بھئی دال تو دال ہے ، برانڈ جو بھی ہو۔" وہ کافی سیانی دوکاندار ہیں ۔۔ یہی دلیل انہوں نے پچھلی بار اردو کے مختلف نام کے بھی دی تھی۔۔"اردو تو اردو ہی رہے گی خواہ کوئی اسے ریختہ کہے یا ہندی۔۔" میں نظر چرا گئی تھی۔۔

سوال اب عمرانی یا سماجی نہیں رہا۔۔ اس محاذ پر فتح کا جھنڈا لہرائے تو کم و بیش تین عشرے بیت چکے ہیں۔ سوال اب خالص معاشیات کا ہے۔ سوال غربت کی اس انتہائی لکیر کا ہے جو ہمارے ملک میں اب بھی موجود نہیں۔ سوال سستے مزدوروں کا ہے۔ لیکن سوال کرنے کا میرے پاس وقت نہیں ہے یا حق ۔ اس پر میں ابھی نہیں سوچ سکتی۔۔

میں اس راستے سے بہت دور ہوں جہاں لوگ اپنی آپشنز اوپن ہونے پر خوش ہیں۔ ان کے سینما اب فنون لطیفہ کے نئے رنگین افق کی جانب نظر جمائے کھڑے ہیں اور کپڑوں، ڈراموں کی نئی کھیپ کی تیاری بھی سامنے ہوگی۔ لیکن مجھے نہ جانے کیوں لگتا ہے کہ اس خوشحالی سے راستوں کو کبھی فائدہ نہیں ہوتا۔ راستے تو بس راندہ، درماندہ اور پائمال ہوتے ہیں۔ راستے منزل نہٰں بنتے۔ ہاں سڑکوں کے ساتھ ساتھ بنے ایک رات کے موٹل، سفری بیت الخلاء اور چائے خانے، ٹرکوں کی سروس کے اڈے ایسے کاروبار پھلنے پھولنے کی ایک امید بھی ہے۔ اگر میکڈونلڈ والوں نے اس کا ٹھیکا پہلے سے نہ لے لیا۔۔ افوہ چائے ابلنے کو تھی۔۔ بچت ہو گئی

"ارے تم نے کچھ بات وات نہیں کی آج ۔۔" کسی نے شفقت سے ہاتھ میرے کندھے پر دھرا۔۔ "کچھ بولو تم بھی اس بارے میں۔۔"

"میں ۔۔ میں بھلا کیا بولوں؟؟" میں نے دل ہی دل میں دہرایا۔۔ کچھ نہیں بولنا ، کچھ نہیں سوچنا۔۔
"کچھ تو بولو۔ تبدیلی کے بارے میں کچھ کہو۔۔"
"میں کچھ کہوں تو مگر۔۔۔"
"مگر کیا؟؟؟"
"وہ ۔۔کوہان کا ڈر ہے۔۔"

ان کی شفقت بھری آواز اچانک بارعب ہوگئی۔۔ "کوہان کا ڈر ہے؟؟
دو ہزار سال کی لکھی اور  ہزاروں سال کی زبانی تاریخ نے بولنے والوں کو ایک بات ازبر کرادی ہے۔۔
 اپنے حق کے لیے تم جب بھی بولو گے۔۔ کوہان تو ہوگا۔"

01 نومبر 2011

اکتوبر میں برف باری


ویسے تو جون میں اولے بھی پڑتے ہیں۔ اور پاؤ بھر کے اولے گاڑی کی باڈی میں پانچ منٹ میں ان گنت نشان ڈال سکتے ہیں۔ اور تجربے سے ہم نے سیکھا ہے کہ ایسے غیر موسمی اور نامعقول حادثات کے بارے میں تمام معلومات پہلے سے رکھنی چاہییں تاکہ گاڑی کو وقت پر اندر رکھنے اور ایسے ہی کچھ دوسرے ضمنی مسائل کو دھیان میں رکھا جائے۔ لیکن اکتوبر میں برف باری نے پھر ہمیں اور ہمارے لینڈ سکیپ کو بے خبری میں جالیا۔

چار دن پہلے سے بچے "برف گرے گی" کا شور تو مچا رہے تھے بلکہ ایک دن تو کچھ تولہ بھر پڑی بھی تھی۔ گمان غالب تھا کہ کچھ ایسا ہی دوبارہ ہونے والا ہے تو مزید تفصیلات پر غور کرنے کی بجائے پوری تندہی سے عید کے اتوار یا پیر پر ہونے کے بارے میں غور جاری رکھا۔ اور اس کے جلو میں آنے والے کچھ دوسرے زمینی مسائل۔ ۔۔ہفتے کے روز دوپہر میں باہر گھومتے برف گرنی شروع ہوئی تو ہم نے سودا لینے کا ارادہ ترک کر کے گھر کی راہ لی کہ کل دوبارہ آ جائیں گے۔ واپسی پر گھر کے داہنی سمت کے سرخ رنگ کے ہودے پر برف کی ہلکی سی تہ جمی تھی۔۔ "اوہ تو یہ کہ رہے تھے۔ ہاو کیوٹ۔۔ فوٹو لیتے ہیں۔۔ عید کارڈ کے کام آئے گی۔

 لیکن اس بار وہ "بہت خراب موسم" اور آنکھیں پھیلا پھیلا کر کہا گیا "برف باری" واقعی بہت خراب موسم نکلا اور برف باری بھی کیوٹ نہیں بلکہ بارہ انچ سے اٹھائس انچ کے درمیان کہیں تھی۔ سرخ پودا برف باری کے بعد ایسا دکھتا تھا۔ شدید خراب موسم سے بائیس لاکھ سے زیادہ گھرانے متاثر ہوئے سو ہم اکیلے نہیں تھے جن کی چار روز تک بجلی نہیں تھی۔ اور بجلی جانا بھی کون سی نیوز ہے لیکن بس اتنی کہ گھر کا ہر کام بجلی ہی سے ہوتا ہے۔ بجلی کے چولہے، بجلی کے کلاک، بجلی کے فون(اب اس سب کو کون مس کرتا ہے۔۔ خصوصا چولہے کو) لیکن جب درجہ حرارت گرتا ہے تو پانی کے جمنے کا چانس ہوتا ہے۔ تقریبا فروزن پانی سے تیمم بھی کر ہی لیا لیکن اگر پانی سچ میں جم جائے تو گھروں میں پائپ پھٹ جاتے ہیں جس کو دوبارہ بنوانے کے بعد فطرت کے لاابالی پن کو سراہنے کی حس متاثر ہوتی ہے۔

خیر وہ حس تو پانچ ڈگری پر ٹھٹھرنے سے اور مسلسل بازار کی چائے پینے سے بھی متاثر ہوتی ہے۔ اس لیے احسن نے اپنے سائینسی دماغ کے استعمال سے دوسرے دن صبح سب سے پہلے گاڑی سے بجلی پیدا کی ۔(اس کا طریقہ کار کافی سادہ ہے۔۔ گاڑی کی بیٹری سے انورٹر کو جوڑا اور گاڑی کو سٹارٹ رکھا۔ اور انورٹر سے ایک لمبی تار لگا کر گھر میں لائے اور اس سے پیٹر اور ایک لیمپ آن کر دیا۔)

یہ آسان سا طریقہ ہے جو ہمیں پتہ لگا ہے ۔لیکن امید ہے کہ آپ اب یہ نہیں پوچھیں گے کہ گاڑی میں بیٹری کس جگہ ہوتی ہے۔ اور انورٹر کی کونسی سائیڈ بیٹری کی طرف کرنی ہے اور کونسی گھر کی طرف یا مزید یہ کہ ایک مخصوص انورٹر کتنے ایمپس پیدا کرتا ہے اور اس کو کس طرح مختلف چیزوں پر سوئچ کرنا ہے کہ حاصل جمع برابر ہو ان مخصوص ایمپس کے اور اگر نیٹ ان ہوگا تو بلب بند اور اگر واٹر پمپ ان ہوگا تو انٹرنیٹ بند اور وغیرہ وغیرہ۔۔۔۔ احسن کا میتھ ہمیشہ سے اچھا ہے۔۔ ؛ )

ہمیں اس دوران بہت سی اہم معلومات حاصل ہوئیں۔ مثلا:

اس علاقے میں اکتوبر میں برف باری تیس سال سے نہیں ہوئی۔ اور اتنی زیادہ تو شائد اس سے بھی زیادہ عرصے سے۔

برف بھی ہلکی اور بھاری ہوتی ہے۔ ویٹ یا گیلی برف کا بوجھ زیادہ ہوتا ہے۔

اکتوبر میں برف فطرت کے اپنے پلان کے بھی خلاف ہے کیونکہ ابھی درختوں کے پتے نہیں گرے تھے۔۔ خصوصاَ ہمارے درختوں کے جو اس لین میں سب سے آخر میں گرتے ہیں۔ اور گیلی بھاری برف پتوں کی موجودگی سے زیادہ سے زیادہ درختوں پر جمتی ہے اور یہ بوجھ درختوں کو چیر کر رکھ دیتا ہے۔ جگہ جگہ بجلی کے تار اور گھروں پر درخت گرنے سے نقصان کی شدت زیادہ ہے۔ اور ریکوری کا وقت بھی۔  لیکن آج بجلی واپس ہو گئی ہے سڑکیں صاف کی جارہی ہیں۔

کرائسس کے وقت لوگ اکثر اوور ری ایکٹ کرتے ہیں اسی لیے میرے بچے بھی معمول سے زیادہ بور تھے۔ اور ان کو ناشتہ بھی باہر سے چاہیے تھا حلانکہ ٹھنڈے دودھ میں سیریل ڈال کر کھانے میں بجلی کی ضرورت کہاں پڑتی ہے۔ ہاں ہم کو باہر جانا تھا کیونکہ چائے کے لیے بجلی چاہیے۔

خراب موسم میں فاسٹ فوڈ میں چائے لینے والوں کی قظاریں بہت لمبی ہوتی ہیں۔ سو اگر اس والے کیفے میں زیادہ لوگ ہیں تو اگلے والے میں بھی لوگ زیادہ ہی ہوں گے۔

اگر آپ نے پہلے سے جنریٹر نہیں لے کر رکھا تو خراب موسم کے کرائیسس پر بھی کوشش نہ کریں۔ پہلے تو اس کی ذخیرہ اندوزی ہو چکی ہوگی۔ اور نہیں ملے گا۔ اگر ملا تو بہت مہنگا ہوگا۔ بلکہ ایسی کسی بھی چیز ۔۔ لکڑی کا کوئلے کا آتش دان، کیروسین کا چولہا وغیرہ ۔۔کو خریدنے کی کوشش بےکار ہے۔ کیونکہ لوگ پہلے ہی سب خرید چکے ہیں۔ ہاں اگر ایک آخری انورٹر ملے تو جلدی کریں یہ بہت کام کی چیز ہے اور سستی بھی۔

موم بتیوں کی بجائے ری چارچ ایبل ٹارچ بچوں کے لیے زیادہ محفوظ ہے۔ لیکن اس کو وہ ایک دوسرے کی آنکھوں میں ڈالنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔ اس کو دھیان میں رکھنا چاہیے اور اگر ان کو ری چارج کرنے کی جگہ نہیں تو فائر سٹیشن کوشش کی جا سکتی ہے یا پھر سینت سینت کر خرچ کیا جائے۔

باربی کیو گرل پر چائے بن جاتی ہے ۔۔ لیکن اس کے لیے پتی ضروری ہے۔ اور جب پتی خریدنے جائیں تو کچھ دیسی کھانا بھی خرید لیں کیونکہ ہو سکتا ہے بچوں کا چیز پزا اتنے مزے کا نا ہو۔ اور چائے بننے کے دوران اسی گرل پر کھانا بھی گرم ہو جاتا ہے۔  ہیٹر کے سامنے بیٹھ کر باہر کا گرم گرم کھانا کھاتے ہوئے ہم عموما سوچتے ہیں ہوٹل کا کرایہ بچا کر بھی ویکیشن کتنی مہنگی ہوتی ہیں۔۔۔

جہاں تک لینڈ سکیپ کا تعلق ہے تو ہمارے گھر کے سامنے کچھ درخت لگے ہیں۔ ان میں سے تین کہ چیری بلاسم کے ہیں۔ بہار میں بہت خوبصورت پھول لاتے اور ان کو دیکھ دیکھ کر آنکھوں میں تازگی بھرتی۔ پرسوں تک ان کے پتے نہیں جھڑے تھے اور وہ اتنے سبز تھے کہ خزاں یا جاڑے کی رمق تک ان میں نہ ملتی تھی۔ کتنا الگ سماں ہے۔ حیران کن۔ اور قدرت نے یہ بے مثال درخت شائد صرف اس آنگن کے لیے اگائے ہیں ( یہ الفاظ تو نہیں لیکن کچھ ایسا ہی تاثر تھا شائد۔۔ : ))) اور ہم نے ماشاءاللہ نہیں کہا۔ کہ تمام شان اللہ ہی کی ہے ۔اور وہ آفات میں گھر گئے اور زمین بوس ہوئے۔ اگلے دن ہم ان کو آنکھ مل مل کر دیکھتے تھے۔ مگر وہاں ان ٹوٹی پھوٹی شاخوں کے سوا کچھ بھی نہ تھا۔ ۔ اول مالک آخر مالک۔

21 اکتوبر 2011

فئیر ویدر۔۔

چھوٹی کو سکول لے کر جانے کے دو راستے ہیں۔ چار بار ایک ہی راستے سے گزرنے کے عمل کی تکرار اور بوریت کو کم کرنے کے لیے میں انہی دو راستوں کو بدل بدل کر استعمال کرتی ہوں۔ پہلا راستہ چھ منٹ کی ڈرائیو، چار سگنل اور ٹریفک ملا جلا کر دس منٹ تک سکول تک پہنچاتا ہے۔ اندر کا راستہ بھی دس ہی منٹ تک پہنچاتا ہےلیکن اس میں سگنل نہیں ہیں۔ اکثر وہ سڑکیں بالکل خالی ہوتی ہیں۔ میرا مطلب ہے تقریبا ً بالکل خالی۔ اگر ہم جگہ جگہ رکے مختلف قسم کے ٹرکوں ، ڈاک کی آہستہ خرام گاڑیوں اور سڑک کی اطراف میں پیدل چلتے لوگوں کو نظر انداز کر دیں جن سے بچ کر چلنے کے لیے مجھے اپنی رفتار کو کافی کم کرنا پڑتا ہے۔


لیکن میری دوسرے راستے سے دوستی ہو گئی ہے۔ باہر کی سیدھی سڑک کے برعکس یہ ایک پرپیچ راستہ ہے۔ اپنی دریافت کے شروع میں غائب الدماغی کے باعث کئی بار میں غلط موڑ مڑ گئی۔ وہ ایک اچھا تجربہ نہیں تھا۔ اس لیے میں اب ہمیشہ اپنا برقی نقشہ سامنے رکھتی ہوں۔ بہرحال درمیان میں چھ منٹ کی ایک حصہ ہے۔ بالکل خالی۔ میرا مطلب ہے واقعی خالی۔ یہ ایک کم چوڑی سڑک ہے۔ جہاں دو گاڑیاں پہلو بہ پہلو چلیں تو اپنی رفتار احتیاطاً بالکل کم کر لیتی ہیں۔ لیکن نوے فیصد وہاں دو گاڑیاں پہلو بہ پہلو نہیں ہوتیں۔

وہاں ایک خاموشی اور خوبصورتی ہے۔ بند گاڑی میں اونچی آواز میں سی ڈی آن ہونے کے باوجود وہ خاموشی میرے وجود میں اتر جاتی ہے۔ وہ خوبصورتی مجھے اندر کہیں چھو لیتی ہے۔ چھوٹے چھوٹے رنگ برنگے پرندے اکثر چھوٹی ڈالوں پر چہچہاتے نظر آتے ہیں۔ گلہریاں اتنی بے فکری سے پھدکتی راستے ایک سرے سے دوسرے سرے تک جاتی ہیں جیسے وہاں خطرے کا کبھی گذر نہ ہوا ہو۔ کچھ روز پہلے تک وہ راستہ ایک سرے سے دوسرے سرے تک سبز تھا۔ لیکن سپاٹ سبز رنگ کی طرح نہیں۔ بلکہ سبز کا ہر ممکن شیڈ مختلف درختوں، پودوں اور جھاڑیوں کی صورت میں دونوں طرف سے سڑک پر جھک آیا تھا۔ اور ستمبر کی تیز چمکیلی دھوپ ایسے پتوں سے چھن چھن کرسڑک پراترتی جیسے سایوں کوچھپن چھپائی کھیلنے پر اکسا رہی ہو۔

لیکن آپکو اس راستے کو بارش میں بھی دیکھنا چاہیے۔ ہلکی پھوار ہر سبز کو ایک دوسرا سبز بنا دیتی ہے۔ زمردی۔نکھرے پتے اور جھاڑیاں ایک تاثر بناتے ہیں۔ لمبے اونچے درختوں کا کاہی اور سفید سے مل کر ایک تاثر بناتے ہیں۔ میرے دونوں طرف چھاوں کیے درختوں میں ایک تروتازہ سا اندھیرا ہو جاتاہے۔ اور پورا ماحول ہرے رنگ کی گیلی گیلی پینٹنگ بن جاتا ہے جسے فطرت نے سوکھنے کے لیے ٹانگا ہو۔ ایسی بہت سی تصویریں ہم ویب پر دیکھتے ہیں۔ لیکن وہ صرف ایک تصویر نہیں ہے وہ ایک کیفیت ہے اسی لیے میں نے کیمرے کی بجائے لفظوں میں اسے پکڑنے کی کوشش کی ہے۔

اس ماہ کے شروع میں خزا ں نے سب رنگ بدل دیے تھے۔ خوبصورتی میں کئی گنا اضافے کے ساتھ زمردی آرائیشیں سرخ، پیلے اور بھورے رنگوں میں ڈھل گئی ہیں۔ کچھ درختوں سے باریک باریک پیلے تنکے گر گر راستے کے دونوں جانب زرد وز حاشیہ بن گیا ہے۔ ہوا اپنے تیز اور ہلکے ہلکوروں میں پتوں کو ادھر سے گذرنے والوں پر برساتی ہے۔ یا وارتی ہے۔ ہوا کا جو بھی مفہوم ہے، دلپذیر ہے۔ قدم روک لینے والا۔ سانس روک دینے والا۔

مجھے لگتا کئی بار میری آنکھ جھپک جاتی ، گاڑی اور میں کہیں دور رہ جاتے ۔ اور میں اس ماحول میں مدغم ہوکر اس خاموشی اور خوبصورتی کا ایک حصہ بن جاتی ، لیکن میں جتنا بھی آہستہ چلوں چھ منٹ ختم ہو جاتے جہاں سے مجھے سب کچھ پیچھے چھوڑ کراگلا موڑ مڑنا ہوتا ۔ میں دوبارہ ادھر ہی سے گزروں گی، میں خود کو بہلا لیتی۔

اب درختوں سے پتے گر گر کر آسمان کے جھانکنے کے لیےراہ بنا رہے ہیں۔ درختوں کی سوکھی شاخیں ایک نیا رنگ پکڑ رہی ہیں۔ خاکستری، بھورا اور سلیٹی۔ تصویر کا نیا رخ نئے انداز سے لبھاتا ہے۔ لیکن اب بارشوں کا زور ہے۔ وہ اونچی نیچی سڑک اور آڑے ترچھے موڑ پھسلن زدہ ہو جاتے ہیں۔ بادل زیادہ گہرے ہوں تو وہاں بالکل اندھیرا ہوجاتا ہے۔موسم طوفانی ہو تو کسی کمزور شاخ کا سڑک پر گرے ہونے کا بھی امکان ہے۔ ایسی مشکل میں مدد ملنے کے امکانات سیدھی بڑی سڑک کی نسبت نوے فیصد کم ہیں۔ ہر بار ادھر مڑنے سے پہلے میں رسک انیلسز کرتی ہوں۔ برقی نقشہ بند کرتی ہوں اور بڑی سڑک پر مڑ جاتی ہوں۔

22 ستمبر 2011

ڈیٹا ریکووری



میری ساری فوٹوز کو وائرس کھآآآ گیا ہے۔
اہم ہم میرا مطلب ہے۔۔ بہت ساری فوٹوز کے آئیکن تو ہیں۔ لیکن فائل نہیں کھلتی۔ سینکڑوں فوٹو برباد ہوگئیں ہیں
ہممم۔۔ اگر آئیکن ہیں تو ریکور ہو جائے گا
کیسے، کیسییے؟؟؟ ہمم میرا مطلب ہے۔۔ وہ کیسے؟
وہ ایسے کہ ڈیٹا وہیں ہییے۔ سوفٹ وئیر اس کو ریڈ نہیں کر پا رہا۔
لیکن کیوں۔۔ کیا مشکل ہے
کبھی کبھی فارمیشن ٹیبل کی الائنمٹ خراب ہو جاتی ہے تو سوفٹ وئر ہے ایک وہ اسے ریڈ کرکے ری الائن کر دے گا۔ اگر وائرس نہ ہوا تو واپس ہو جائے گا۔
ہو سکتا ہے جب دوسرے کمپیوٹر سے اس پر کاپی کیا تھا تو ایریز ہوگیا ہو۔ پھر تو ضائع ہی ہو گیا نا۔۔ ہاں۔۔
پہلی بات تو یہ کہ ڈیٹا کبھی ایریز ہوتا ہی نہیں۔
ہائیں! تو پھر وہ ہر ماہ ٹوٹل فارمیٹ اور فریش ونڈوز انسٹال کرنے کا کیا ٹنٹا تھا؟
فارمیشن ٹیبل نیا بن جاتا ہے تو نئے سرے سے ہارڈ ڈسک پر لکھا جاتا ہے۔ اور پرانا وائرس اس کو ایکسس نہیں کر سکتا۔
ہمم۔ جیسے ہم ہررر دفعہ پرانے پینٹ پر نیا کوٹ پینٹ کر دیں۔
 آہ ہ ہ ۔ کچھ ایسے ہی۔
تو پہلی لیر پینٹ کے نیچے دوسری لیر پھر سوآن۔ ڈیٹا وہیں رہتا ہے۔ تو وہ جو لوگ جو ڈیٹا ریکوری کے لیے ہزاروں خرچ کرتے ہیں وہ اصل میں وہیں ہوتا ہے۔
وہیں۔ اچھا یہ ایک میموری ڈمپ تھا۔۔
توکیسے ملتا ہے؟
ابتدائی فائل سسٹمز میں سیکٹر زیرو اور فور پر پورا فارمیشن ٹیبل ہوتا تھا۔۔ زیرو پر کرپٹ ہو جائے تو فور سے کاپی کر دیتے تھے۔ ونڈوز دوبارہ انسٹال کرکے واپس۔۔ اب بہت اچھے ٹولزآ گئے ہیں۔
اتنا آسان۔۔ اس کے اتنے پیسے؟
اگر کسی کو نہیں معلوم تو اس کے لیے آسان نہیں ہے۔ اچھا میں ذرا سا کام۔
تو ڈیٹا ڈیلیٹ کرنے سے بھی ڈیلیٹ نہیں ہوتا۔۔ کیا سی ڈیز پر بھی ایسے ہی ٹیبل اور سیکٹر بنتے ہیں۔۔ 
ایسے ہی بنتے ہیں۔ یہ خالی سی ڈی ہے۔ اس کی سطح بالکل شفاف ہے اور یہ برنڈ ہے اس پر ٹریک بنے ہوئے ہیں۔۔
ہممم۔ پہلے کبھی غور نہیں کیا یہ تو واقعی یہیں ہیں۔ سو ٹیبل، سیکٹر، ٹریک یہ سب کبھی ایریز نہیں ہوتے؟ ڈیلیٹ کرنے سے بھی نہیں؟؟
نہیں۔ اچھا یہ انیلسس مجھے اگلے آدھ گھنٹے میں چاہیے تو میں ۔۔ 
تو ڈیٹا کیسے ختم ہوتا ہے۔ اگر کوئی سنجیدگی سے کسی چیز سے چھٹکارا پانا چاہے۔۔
بسسس۔۔ یہ ہی کیچ ہے اس سارے چکر میں۔ ہم آفس میں ہم کریمنگ کرتے ہیں جس ہارڈ ڈرائیو کو ڈس کارڈ کرنا ہوتا ہے۔
یعنی جلا کر راکھ کرنے سے جان چھٹ جاتی ہے۔۔مگر وہ نئی ٹیکنالوجی۔۔ اب تو جلے ہوئے سے بھی کچھ نہ کچھ حاصل ہوجاتا ہے
اس میں ابھی بہت پانی ڈل سکتا ہے۔۔
پتا ہے؟؟ جیسے سی ڈی پر لکھا جاتا ہے گول گھوم گھوم کر۔۔ لینس کے نیچے۔۔۔ایسے ہی زمین بھی گھوم رہی ہے گول دائرے میں۔۔اور ڈیٹا سٹور ہوتا جارہا ہے۔۔
 سوری۔۔ ابھی نہیں۔
ہاں ہاں کوئی بات نہیں۔۔  میں تو بس یہ سوچ رہی تھی ایک دفعہ جو بول دیا۔۔ کر دیا۔۔ لکھا گیا۔ اب اس کو ختم نہیں کیا جا سکتا۔۔ اور کچھ لوگ خود کو آگ میں جلوا کر سمجھ رہے ہونگے جان چھٹ جائے گی۔ اور کچھ سمجھتے ہیں رات گئی بات گئی۔۔ لیکن ڈیٹا ری کووری سیٹ اپ سارے سیکٹر، اور ٹیبل وغیرہ کو سنبھالتا جارہا ہے کسی حتمی الائنمنٹ میں۔ توازن و ترتیب سے ۔۔
ہوں۔
بہت سختی ہے بھئی


((
شیش۔۔ آدمی ہمارا کوئی دم تحریر بھی تھا۔۔؟؟
ہممم۔۔ ہمم۔۔ چچا آپ بھی نا۔۔  وہ نہیں سنا کیا۔۔
اور جو کچھ وہ کرتے رہے ہیں۔۔ ان کے ہاتھ ہم سے کہ دیں گے۔ اور ان کے پیر اس کی گواہی دیں گے۔۔
پھر جس کے دل میں ذرہ برابر بھی برائی ہوگی وہ اس کو دیکھ لے گا۔۔ اور جس کے دل میں ذرہ بھر بھی نیکی ہوگی وہ اس کو دیکھ لے گا
اور کس آدمی کی ضرورت ہے اب؟
ہممم))




 او ہاں ری رائیٹ کا طریقہ تو معلوم ہے نا؟؟ فارمیٹ فرسٹ

27 اگست 2011