21 اکتوبر 2011

فئیر ویدر۔۔

چھوٹی کو سکول لے کر جانے کے دو راستے ہیں۔ چار بار ایک ہی راستے سے گزرنے کے عمل کی تکرار اور بوریت کو کم کرنے کے لیے میں انہی دو راستوں کو بدل بدل کر استعمال کرتی ہوں۔ پہلا راستہ چھ منٹ کی ڈرائیو، چار سگنل اور ٹریفک ملا جلا کر دس منٹ تک سکول تک پہنچاتا ہے۔ اندر کا راستہ بھی دس ہی منٹ تک پہنچاتا ہےلیکن اس میں سگنل نہیں ہیں۔ اکثر وہ سڑکیں بالکل خالی ہوتی ہیں۔ میرا مطلب ہے تقریبا ً بالکل خالی۔ اگر ہم جگہ جگہ رکے مختلف قسم کے ٹرکوں ، ڈاک کی آہستہ خرام گاڑیوں اور سڑک کی اطراف میں پیدل چلتے لوگوں کو نظر انداز کر دیں جن سے بچ کر چلنے کے لیے مجھے اپنی رفتار کو کافی کم کرنا پڑتا ہے۔


لیکن میری دوسرے راستے سے دوستی ہو گئی ہے۔ باہر کی سیدھی سڑک کے برعکس یہ ایک پرپیچ راستہ ہے۔ اپنی دریافت کے شروع میں غائب الدماغی کے باعث کئی بار میں غلط موڑ مڑ گئی۔ وہ ایک اچھا تجربہ نہیں تھا۔ اس لیے میں اب ہمیشہ اپنا برقی نقشہ سامنے رکھتی ہوں۔ بہرحال درمیان میں چھ منٹ کی ایک حصہ ہے۔ بالکل خالی۔ میرا مطلب ہے واقعی خالی۔ یہ ایک کم چوڑی سڑک ہے۔ جہاں دو گاڑیاں پہلو بہ پہلو چلیں تو اپنی رفتار احتیاطاً بالکل کم کر لیتی ہیں۔ لیکن نوے فیصد وہاں دو گاڑیاں پہلو بہ پہلو نہیں ہوتیں۔

وہاں ایک خاموشی اور خوبصورتی ہے۔ بند گاڑی میں اونچی آواز میں سی ڈی آن ہونے کے باوجود وہ خاموشی میرے وجود میں اتر جاتی ہے۔ وہ خوبصورتی مجھے اندر کہیں چھو لیتی ہے۔ چھوٹے چھوٹے رنگ برنگے پرندے اکثر چھوٹی ڈالوں پر چہچہاتے نظر آتے ہیں۔ گلہریاں اتنی بے فکری سے پھدکتی راستے ایک سرے سے دوسرے سرے تک جاتی ہیں جیسے وہاں خطرے کا کبھی گذر نہ ہوا ہو۔ کچھ روز پہلے تک وہ راستہ ایک سرے سے دوسرے سرے تک سبز تھا۔ لیکن سپاٹ سبز رنگ کی طرح نہیں۔ بلکہ سبز کا ہر ممکن شیڈ مختلف درختوں، پودوں اور جھاڑیوں کی صورت میں دونوں طرف سے سڑک پر جھک آیا تھا۔ اور ستمبر کی تیز چمکیلی دھوپ ایسے پتوں سے چھن چھن کرسڑک پراترتی جیسے سایوں کوچھپن چھپائی کھیلنے پر اکسا رہی ہو۔

لیکن آپکو اس راستے کو بارش میں بھی دیکھنا چاہیے۔ ہلکی پھوار ہر سبز کو ایک دوسرا سبز بنا دیتی ہے۔ زمردی۔نکھرے پتے اور جھاڑیاں ایک تاثر بناتے ہیں۔ لمبے اونچے درختوں کا کاہی اور سفید سے مل کر ایک تاثر بناتے ہیں۔ میرے دونوں طرف چھاوں کیے درختوں میں ایک تروتازہ سا اندھیرا ہو جاتاہے۔ اور پورا ماحول ہرے رنگ کی گیلی گیلی پینٹنگ بن جاتا ہے جسے فطرت نے سوکھنے کے لیے ٹانگا ہو۔ ایسی بہت سی تصویریں ہم ویب پر دیکھتے ہیں۔ لیکن وہ صرف ایک تصویر نہیں ہے وہ ایک کیفیت ہے اسی لیے میں نے کیمرے کی بجائے لفظوں میں اسے پکڑنے کی کوشش کی ہے۔

اس ماہ کے شروع میں خزا ں نے سب رنگ بدل دیے تھے۔ خوبصورتی میں کئی گنا اضافے کے ساتھ زمردی آرائیشیں سرخ، پیلے اور بھورے رنگوں میں ڈھل گئی ہیں۔ کچھ درختوں سے باریک باریک پیلے تنکے گر گر راستے کے دونوں جانب زرد وز حاشیہ بن گیا ہے۔ ہوا اپنے تیز اور ہلکے ہلکوروں میں پتوں کو ادھر سے گذرنے والوں پر برساتی ہے۔ یا وارتی ہے۔ ہوا کا جو بھی مفہوم ہے، دلپذیر ہے۔ قدم روک لینے والا۔ سانس روک دینے والا۔

مجھے لگتا کئی بار میری آنکھ جھپک جاتی ، گاڑی اور میں کہیں دور رہ جاتے ۔ اور میں اس ماحول میں مدغم ہوکر اس خاموشی اور خوبصورتی کا ایک حصہ بن جاتی ، لیکن میں جتنا بھی آہستہ چلوں چھ منٹ ختم ہو جاتے جہاں سے مجھے سب کچھ پیچھے چھوڑ کراگلا موڑ مڑنا ہوتا ۔ میں دوبارہ ادھر ہی سے گزروں گی، میں خود کو بہلا لیتی۔

اب درختوں سے پتے گر گر کر آسمان کے جھانکنے کے لیےراہ بنا رہے ہیں۔ درختوں کی سوکھی شاخیں ایک نیا رنگ پکڑ رہی ہیں۔ خاکستری، بھورا اور سلیٹی۔ تصویر کا نیا رخ نئے انداز سے لبھاتا ہے۔ لیکن اب بارشوں کا زور ہے۔ وہ اونچی نیچی سڑک اور آڑے ترچھے موڑ پھسلن زدہ ہو جاتے ہیں۔ بادل زیادہ گہرے ہوں تو وہاں بالکل اندھیرا ہوجاتا ہے۔موسم طوفانی ہو تو کسی کمزور شاخ کا سڑک پر گرے ہونے کا بھی امکان ہے۔ ایسی مشکل میں مدد ملنے کے امکانات سیدھی بڑی سڑک کی نسبت نوے فیصد کم ہیں۔ ہر بار ادھر مڑنے سے پہلے میں رسک انیلسز کرتی ہوں۔ برقی نقشہ بند کرتی ہوں اور بڑی سڑک پر مڑ جاتی ہوں۔

22 ستمبر 2011

ڈیٹا ریکووری



میری ساری فوٹوز کو وائرس کھآآآ گیا ہے۔
اہم ہم میرا مطلب ہے۔۔ بہت ساری فوٹوز کے آئیکن تو ہیں۔ لیکن فائل نہیں کھلتی۔ سینکڑوں فوٹو برباد ہوگئیں ہیں
ہممم۔۔ اگر آئیکن ہیں تو ریکور ہو جائے گا
کیسے، کیسییے؟؟؟ ہمم میرا مطلب ہے۔۔ وہ کیسے؟
وہ ایسے کہ ڈیٹا وہیں ہییے۔ سوفٹ وئیر اس کو ریڈ نہیں کر پا رہا۔
لیکن کیوں۔۔ کیا مشکل ہے
کبھی کبھی فارمیشن ٹیبل کی الائنمٹ خراب ہو جاتی ہے تو سوفٹ وئر ہے ایک وہ اسے ریڈ کرکے ری الائن کر دے گا۔ اگر وائرس نہ ہوا تو واپس ہو جائے گا۔
ہو سکتا ہے جب دوسرے کمپیوٹر سے اس پر کاپی کیا تھا تو ایریز ہوگیا ہو۔ پھر تو ضائع ہی ہو گیا نا۔۔ ہاں۔۔
پہلی بات تو یہ کہ ڈیٹا کبھی ایریز ہوتا ہی نہیں۔
ہائیں! تو پھر وہ ہر ماہ ٹوٹل فارمیٹ اور فریش ونڈوز انسٹال کرنے کا کیا ٹنٹا تھا؟
فارمیشن ٹیبل نیا بن جاتا ہے تو نئے سرے سے ہارڈ ڈسک پر لکھا جاتا ہے۔ اور پرانا وائرس اس کو ایکسس نہیں کر سکتا۔
ہمم۔ جیسے ہم ہررر دفعہ پرانے پینٹ پر نیا کوٹ پینٹ کر دیں۔
 آہ ہ ہ ۔ کچھ ایسے ہی۔
تو پہلی لیر پینٹ کے نیچے دوسری لیر پھر سوآن۔ ڈیٹا وہیں رہتا ہے۔ تو وہ جو لوگ جو ڈیٹا ریکوری کے لیے ہزاروں خرچ کرتے ہیں وہ اصل میں وہیں ہوتا ہے۔
وہیں۔ اچھا یہ ایک میموری ڈمپ تھا۔۔
توکیسے ملتا ہے؟
ابتدائی فائل سسٹمز میں سیکٹر زیرو اور فور پر پورا فارمیشن ٹیبل ہوتا تھا۔۔ زیرو پر کرپٹ ہو جائے تو فور سے کاپی کر دیتے تھے۔ ونڈوز دوبارہ انسٹال کرکے واپس۔۔ اب بہت اچھے ٹولزآ گئے ہیں۔
اتنا آسان۔۔ اس کے اتنے پیسے؟
اگر کسی کو نہیں معلوم تو اس کے لیے آسان نہیں ہے۔ اچھا میں ذرا سا کام۔
تو ڈیٹا ڈیلیٹ کرنے سے بھی ڈیلیٹ نہیں ہوتا۔۔ کیا سی ڈیز پر بھی ایسے ہی ٹیبل اور سیکٹر بنتے ہیں۔۔ 
ایسے ہی بنتے ہیں۔ یہ خالی سی ڈی ہے۔ اس کی سطح بالکل شفاف ہے اور یہ برنڈ ہے اس پر ٹریک بنے ہوئے ہیں۔۔
ہممم۔ پہلے کبھی غور نہیں کیا یہ تو واقعی یہیں ہیں۔ سو ٹیبل، سیکٹر، ٹریک یہ سب کبھی ایریز نہیں ہوتے؟ ڈیلیٹ کرنے سے بھی نہیں؟؟
نہیں۔ اچھا یہ انیلسس مجھے اگلے آدھ گھنٹے میں چاہیے تو میں ۔۔ 
تو ڈیٹا کیسے ختم ہوتا ہے۔ اگر کوئی سنجیدگی سے کسی چیز سے چھٹکارا پانا چاہے۔۔
بسسس۔۔ یہ ہی کیچ ہے اس سارے چکر میں۔ ہم آفس میں ہم کریمنگ کرتے ہیں جس ہارڈ ڈرائیو کو ڈس کارڈ کرنا ہوتا ہے۔
یعنی جلا کر راکھ کرنے سے جان چھٹ جاتی ہے۔۔مگر وہ نئی ٹیکنالوجی۔۔ اب تو جلے ہوئے سے بھی کچھ نہ کچھ حاصل ہوجاتا ہے
اس میں ابھی بہت پانی ڈل سکتا ہے۔۔
پتا ہے؟؟ جیسے سی ڈی پر لکھا جاتا ہے گول گھوم گھوم کر۔۔ لینس کے نیچے۔۔۔ایسے ہی زمین بھی گھوم رہی ہے گول دائرے میں۔۔اور ڈیٹا سٹور ہوتا جارہا ہے۔۔
 سوری۔۔ ابھی نہیں۔
ہاں ہاں کوئی بات نہیں۔۔  میں تو بس یہ سوچ رہی تھی ایک دفعہ جو بول دیا۔۔ کر دیا۔۔ لکھا گیا۔ اب اس کو ختم نہیں کیا جا سکتا۔۔ اور کچھ لوگ خود کو آگ میں جلوا کر سمجھ رہے ہونگے جان چھٹ جائے گی۔ اور کچھ سمجھتے ہیں رات گئی بات گئی۔۔ لیکن ڈیٹا ری کووری سیٹ اپ سارے سیکٹر، اور ٹیبل وغیرہ کو سنبھالتا جارہا ہے کسی حتمی الائنمنٹ میں۔ توازن و ترتیب سے ۔۔
ہوں۔
بہت سختی ہے بھئی


((
شیش۔۔ آدمی ہمارا کوئی دم تحریر بھی تھا۔۔؟؟
ہممم۔۔ ہمم۔۔ چچا آپ بھی نا۔۔  وہ نہیں سنا کیا۔۔
اور جو کچھ وہ کرتے رہے ہیں۔۔ ان کے ہاتھ ہم سے کہ دیں گے۔ اور ان کے پیر اس کی گواہی دیں گے۔۔
پھر جس کے دل میں ذرہ برابر بھی برائی ہوگی وہ اس کو دیکھ لے گا۔۔ اور جس کے دل میں ذرہ بھر بھی نیکی ہوگی وہ اس کو دیکھ لے گا
اور کس آدمی کی ضرورت ہے اب؟
ہممم))




 او ہاں ری رائیٹ کا طریقہ تو معلوم ہے نا؟؟ فارمیٹ فرسٹ

27 اگست 2011

20 اگست 2011

بلاگ سپاٹ اردو ڈیزائن



آر ٹی ایل ٹیگ میرے بلاگ کو ہمیشہ تھیم کی آؤٹ لائن سے نکال کر سو فیصد سکرین پر پھیلا دیتا ہے۔ اس وجہ سے میں نے تھیم کو انٹیکٹ رکھتے ہوئے اردو ڈیزائن بنانے کے لیے صرف رائٹ الائن ٹیگ کا استعمال کیا ہے۔

اس استعمال کو سمجھنے سے پہلے ایک بات دھیان میں رکھنا ضروری ہے کہ بلاگ سپاٹ کا اپنا ڈیزائن وقت کے ساتھ بہت تبدیل ہو چکا ہے۔ سمپل یا مینیما جیسے سادہ اور پرانے ٹمپلیٹس جو کسٹمائزیشن کی بنیاد بنائے جاتے تھے اب علیحدہ سیکشن میں دیے جاتے ہیں۔ نئے اپڈیٹڈ ٹمپلیٹس میں رن ٹائم تبدیلیوں کو ممکن بنانے کے لیے ڈیزائن سکرین موجود ہے جو ٹیکسٹ سے لیکر ہیڈر امیج تک کو بہت آسانی سے تبدیل کر دیتی ہے۔

اس کے ساتھ ہی یوزر کی دخل اندازی کا شائد تدارک کرنے کی کوشش کی ہے۔ ڈائینمک ایکس ایم ایل جو نئے ٹمپلیٹس میں متعارف کی گئی ہے وہ اچھے ویب ڈیزائنرز کے لیے بھی کچھ مشکل ہی ہے، میری طرح کہ مبتدی کے لیے اس کو سمجھنا بہت زیادہ وقت کا متقاضی ہے۔



اس کی مثال کوڈز کے ایک چھوٹے سے موازنے سے سامنے آ سکتی ہے

عمومی ٹیمپلیٹ کے ہیڈر کی تفصیل

#header-inner {
background-position:center;
margin-left:auto;
margin-right:auto;
}
#header {
position:absolute;
top:20px;
right:0;
width:450px;
text-align:right;
}
#header h1 {
font:normal 2.5em Georgia, Times, Serif;
line-height:1.3em;
color:#fff;
}
#header .description {
font-family:Arial;
color:#fff;
font-size:15px;
margin-top:-30px;
}
#header img {
margin-left:auto;
margin-right:auto;
}


نئے ٹمپلیٹس کے مطابق ہیڈر کی تفصیل:

.header-outer {
background: $(header.background.color) $(header.background.gradient) repeat-x scroll top left;
_background-image: none;
color: $(header.text.color);
-moz-border-radius: $(header.border.radius);
-webkit-border-radius: $(header.border.radius);
-goog-ms-border-radius: $(header.border.radius);
border-radius: $(header.border.radius);
}

پہلی مثال میں بہت ہی بیسک سی ایس ایس ہے  جس میں ایچ ٹی ایم ایل میں مستعمل اصطلاحات کا استعمال کیا گیا ہے۔ فونٹ فیملی، مارجن اور کلر وغیرہ اور ان کو سادہ طریقہ سے انہی پرانے پکسل اور نمبرز سے ڈیفائن کیا گیا ہے جو ہمیشہ سے ایچ ٹی ایم ایل میں استعمال کیے جاتے ہیں۔

لیکن اس کے برعکس دوسری مثال میں ڈالر سائن کے ساتھ ویری ایبل دیے گئے ہیں جس کا مفہوم یہ ہے کہ جاوا سکرپٹنگ یا دوسری ڈائینمک کوڈنگز کی طرح اب یہ تمام ٹیگس پہلے اوپر ہیڈر میں پری ڈیفائن کرنے پڑیں گے پھر اس کو استعمال کر سکتے ہیں جس کے لیے ایڈوانس سی-ایس- ایس کی معلومات درکار ہونگی۔

بظاہر آن سکرین ٹمپلیٹ ڈیزائنر استعمال کنندہ کو سکرپٹ کو چھوئے بغیر بہت سی تبدیلیاں کرنے کی آسانی دیتا ہے۔ تھیمز کلرز، فونٹس، ہیڈر امیج، کالم کی چوڑائی، ریشو، وجٹ سٹائلز وغیرہ میں بہت متنوع قسم کی آپشنز ہیں۔چند سادہ کلکس سے بلاگ میں ان کا اضافہ و ترمیم کی جا سکتی ہے۔ لیکن اس کی بھی لمٹس ہیں۔ اور ان کو کوڈ لیول پر تبدیل کرنا اس لیے مشکل ہے کہ بہت سے ایلیمنٹس کو ویری ایبل کے ذریعے باہم مربوط کر دیا گیا ہے۔ ایک ایلیمنٹ میں تبدیلی دوسرے کو بھی تبدیل کر دیتی ہے تا آنکہ کہ ہم ہیڈر میں ان کے علیحدہ علیحدہ ویری ایبل وضع کریں۔

سب سے زیادہ مشکل وجٹ پروگرامز کو تبدیل کرنے کے لیے ہوگی جو پہلے سائیڈ بار یا سیکشن بی کے تحت موجود تھے لیکن اب اس کو میکرو ٹیگ سے ظاہر کیا گیا ہے۔

<aside>
<macro:include id='main-column-left-sections' name='sections'>
<macro:param default='0' name='num' value='0'/>
<macro:param default='sidebar-left' name='idPrefix'/>
<macro:param default='sidebar' name='class'/>
<macro:param default='true' name='includeBottom'/>
</macro:include>
</aside>

ایسے میں کوڈ لیول پر کام کرنے کے لیے بہترین بیس یا تو پرانے ٹمپلیٹس ہیں یا ویب پر موجود بے شمار فری تھیمز سے فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے۔ کسی بھی آسان اور عمومی تھیم کو بیس تھیم کے طور پر چن کر اس میں اپنی مرضی کے ہیڈر اور بیک گراؤنڈ امیجز اپلوڈ کیے جا سکتے ہیں۔ اور اردو کے لیے ہمیشہ جہاں بھی فونٹ کی انفو ہو اس کے ساتھ رائٹ الائن ٹیگ اور فونٹ فیمیلی میں اردو فونٹس کا ٹیگ ایڈ کردینے سے بہت آسانی سے ایک اردو تھیم بن جائے گی۔
اس کا طریقہ کار ایسے ہے:

ڈیزائن >> ایڈٹ ایچ ٹی ایم ایل

اس میں ڈاونلوڈ فل ٹیمپلیٹ کرکے بیک اپ فائل لے لیں، یہ ایکس ایم ایل فائل بنے گی۔ اور کسی غلطی کی صورت میں اسے دوبارہ اپلوڈ کرکے موجودہ ڈیزائن واپس لایا جاسکتا ہے (یاد رہے کہ یہ صرف ڈیزائن کا بیک اپ ہے۔ بلاگ کے مندرجات کا نہیں۔ بلاگ کے مندرجات ڈیزائن تبدیل کرتے وقت نہ تو متاثر ہوتے ہیں اور نہ ہی ان کا بیک اپ یہاں سے لیا جاسکتا ہے۔ لیکن سائڈ بار یا وجٹس وغیرہ متاثر ہو سکتے ہیں اس لیے پوچھنے پر ہمیشہ
"keep widgets" کا آپشن استعمال کریں

اب جو کوڈ سامنے نظر آ رہا ہے اس میں
.post
سرچ کریں۔ اور اس میں دیکھیں جہاں ٹیکسٹ کی انفو ہے۔ وہیں
text-align:right کا ٹیگ ڈال دیں آخرمیں سیمی کولن۔

.post {
margin:.5em 0 1.5em;
border-bottom:1px dotted $bordercolor;
padding-bottom:1.5em;
}
.post h3 {
margin:.25em 0 0;
padding:0 0 4px;
font-size:140%;
font-weight:normal;
text-align:right;
line-height:1.4em;
color:$titlecolor;
}

وہیں ایکسپینڈ وجٹ ٹمپلیٹ کا لنک ہے اسے کلک کریں گے تو اس کا کوڈ بھی باقی سارے کوڈ میں نظر آنا شروع ہو جائے گا۔ اس میں بھی ٹیکسٹ الائنمنٹ کی جا سکتی ہے۔ صرف آرکائیو کی الائنمنٹ نہیں ہوتی۔
رائٹ کے علاوہ سنٹر اور جسٹیفائی بھی موجود ہے۔ اپنے ڈیزائن کے حساب سے استعمال کر سکتے ہیں۔ بس جہاں فونٹ کی انفو ہوگی وہیں ایڈ کرنا ہے۔بیک اپ ہمیشہ اپ ٹو ڈیٹ رکھیں اور اوور رائٹ نہیں کریں بلکہ ملٹی پل کاپیز اچھی ہیں۔
الائنمنٹ ٹیگ کے ساتھ ہی فونٹ فیمیلی کا ٹیگ بھی اپڈیٹ کر سکتے ہیں۔ عمومی تھیمز میں تہوما۔ جارجیا یا ایریل فونٹس استعمال کیے جاتے ہیں ان کو ہٹا کر یا پیچھے کر کے اردو فونٹ فیمیلی ایڈ کی جا سکتی ہے۔

#header h1 {
margin:0;
padding:10px 30px 5px;
line-height:1.2em;
font: normal normal 110% Arial, Tahoma;
}
تبدیلی کے بعد

#header h1 {
margin:0;
padding:10px 30px 5px;
line-height:1.2em;
font: normal normal 200% 'Jameel Noori Nastaleeq', 'Alvi Nastaleeq', 'Nafees Web Naskh', 'Urdu Naskh Asiatype', Arial, Tahoma;}

اس کے علاوہ
page element
پر جائیں گے تو اس میں مختلف وجٹس کو کلک کریں اس کا عنوان اردو میں رکھ سکتے ہیں۔ اور باقی تبدیلیاں بھی کر سکتے ہیں۔

بلاگ کی تحاریر کا بیک اپ بھی اپ ٹو ڈیٹ رکھنا ضروری ہے۔ اس کے لیے بلاگ سیٹینگ میں جائیں تو بلاگ کو امپورٹ ایکسپورٹ کرنے کی آپشن ہے جس سے پورا بلاگ ڈاؤنلوڈ ہو جاتا ہے۔ اور بوقت ضرورت یہیں اس فائل کو اپلوڈ کر کے بلاگ ری کوور کیا جا سکتا ہے۔ لیکن زیادہ تر صرف لائن بریک تک ری کوور ہوتا ہے اس لیے اپنی تحاریر کی ایک کاپی کہیں اور ضرور سیو رکھیں۔
آرکائیو اور کمنٹ الائنمنٹ میں ابھی نہیں کر پائی۔ اردو کمنٹ وجٹ کیسے استعمال کرنا ہے اس سلسلہ میں ٹرائل اینڈ ایرر کا سلسلہ بشرط فرصت مستقبل بعید میں شروع ہوگا۔ : ) 

09 اگست 2011

یوٹوپیا



خیال حقیقت کا پیراہن پہننے سے پہلے کسی ذہن میں پنپتا ہے۔ خواب شرمندہ تعبیر ہونے سے قبل آنکھوں میں بستا ہے۔ اہرام مصر ہو یا دیوار چین، ہر تعمیر چند لکیروں سے اٹھتی ہے۔ ہر عمل کی ایک راہ عمل ہوتی ہے۔ تبدیلی پہلے دلوں میں پنپتی ہے، پھر لفظوں میں نفوذ پذیر ہوتی ہے اور خوشبو کی طرح پھیل جاتی ہے۔

بدلاؤ کی خواہش پہلی کڑی ہے۔ تبدیلی کا خیال ابتدا ہے۔ تبدیلی نہ لا سکنا کسی کی ہار نہیں ہوتی۔ اس کا تصور گم کر دینا اس کا خیال نہ آ سکنا اصل شکست ہے۔ ظالم سے لڑ نہ پانا کمزوری ہے تو ظلم سہتے رہنا اور بچاو کے لیے ہاتھ تک نہ اٹھانا بڑی کمزوری ہے۔ ہاتھ نہ اٹھا پانے کی سکت کھو دینے سے بھی زیادہ خطرناک ہے ظالم سے چھٹکارا پانے کی خواہش سے تہی دست ہو جانا۔

جب تم نہ لڑ سکو۔ نہ ہاتھ اٹھا سکو۔ نہ چیخ سکو تو ایک خواب بن دو۔ اسکو لفظ اوڑھا دو۔ لفظ جب لفظوں سے ملتے ہیں تو ہاتھ بن کر لڑتے ہیں۔ پھر یہ آنکھ در آنکھ پھیلتے ہیں۔ زبان در زبان چیختے ہیں۔ سادہ کاغذ پر لکھا ایک سراب اہم ہے۔۔ ایک بلو پرنٹ۔ جب راہ گم ہو جائے تو سراب میں زندگی جاگتی ہے۔ خواہ چند سانس ہی ہو۔ اور پھر کس کو معلوم منزل چند سانس ہی دور ہو۔