10 مئی 2010

خوابوں کی داستاں

ازل سے انساں کی چاہت
روشنی کے سارے خواب
تاریکی کی عنایت ہیں
انہیں ہم تیرگی ہی میں دیکھتےہیں
تیرگی ہی میں چاہتے ہیں
اور جشن کی روشنی میں
خواب زدہ زخمی آنکھیں لیے
اپنی تاریک ریاضتیں بھول کر
سب کے ہمراہ مسکراتے ہیں

__________

سچ ادھورا ہے ابھی

رافعہ خان


18 مارچ 2010

زندگی اور بلاگ



 کچھ ایسا ہے کہ زندگی کو بلاگ کرنا بہت ہی مشکل عمل ہے، جو چیزیں میری زندگی کی جلی خبر ہیں، جن باتوں سے  میں حظ اٹھا رہی ہوں اور لکھنا چاہتی ہوں وہ صرف میرے لیے اہم ہیں۔ انکو اس بے تحاشا آبادی والی دنیا میں صرف میں یاد رکھنا چاہتی ہوں۔ جن کو سالوں بعد پڑھ کر میں وہی حظ اٹھا سکوں جو پہلی بار میں نے اٹھایا تھا۔ وہی درد محسوس کروں جس نے مجھے پہلی مرتبہ سوچنے پر مجبور کیا۔ اس سبق کو یاد رکھ سکوں جو میں نے آج سیکھا۔  تو اس کا باقی دنیا کے لیے اضافی ہونا ہی اصل مشکل ہے۔ اس کا بے سود ہونا ہی اصل روکاوٹ ہے۔ لکھنے اور نا لکھنے کے درمیاں یہی ہلکی، گہری لکیر کا سرمئی رنگ بھٹکاتا رہتا ہے۔

میرے کانوں میں جو باتیں گونجتی ہیں۔ میری آنکھیں جو تصویریں دیکھتی ہیں ان کو خاموش کرنا اور روکنا میرے بس میں نہیں۔ وہ یاد بن کر مجھ پر پہرہ دیتی رہتی ہیں۔میری یادوں کا مجھ پرپہرہ دار ہونے کا منفی اور تنہا کر دینے والا احساس مجھے بہت کوفت زدہ کرتا ہے۔ اور کبھی لکھنا پناہ بنتے بنتے قید خانہ بن جاتا ہے۔ میرا ہاتھ لفظوں کی خوبصورت قوس قزح کو چھوتے چھوتے کہیں ہوا میں لہرا کر رہ جاتا ہے اور جب میں دوبارہ دیکھوں تو بس سوچوں کی بیڑی باقی رہ جاتی ہے۔ ایسا شائد سب کے ساتھ ہوتا ہے۔

09 فروری 2010

جب محبت جھٹکی جاتی ہے

اڑتی سوچیں پر سمیٹے خیال افق پر گم ہو جاتی ہیں
دل اک تسلسل سے سانس گنتا
رکنے لگتا ہے

24 جنوری 2010

شکست کا شمار

اس برس سے پہلے کا برس
بھر اس سے پہلے
یا اس کے بعد
یہ سارے سال
تاریخیں، دن، گھڑیاں، ثانیے
نرم روی سے مجھے شمار کرتے گزر رہے ہیں
اور میں انکو گن رہی ہوں
مگر میں پہلے تھک جاؤں گی
۔

__________

سچ ادھورا ہے ابھی

رافعہ خان