7/04/2013

بادشاہت میں یہی مسئلہ ہے۔۔

چائے پینی ہے؟
 چلو چائے ہی پی لیتے ہیں۔
صبح صبح کیا ہوگیا ہے۔
بس زندگی۔۔ امید کی ایک کرن جو جاگی تھی وہ بھی قریب المرگ ہے۔
بادشاہت میں یہی تو مسئلہ ہے۔
بادشاہت۔۔ یہ تو تاریخی مینڈیٹ تھا۔
مینڈیٹ تو عوام دیتے ہیں نا۔
 تو۔
نہیں میرا مطلب۔ عوام کو تو معلوم ہی نہیں کہ وہ ہیں یا نہیں ہیں۔
لیکن وہ ہیں تو۔ کڑوڑوں لوگ ہیں۔
 لیکن ان کو معلوم نہیں ہے کہ وہ ہیں یا نہیں ہیں۔
 اور کیسے معلوم ہوتا۔ ووٹ تو ڈالا نا۔ پورے نا سہی آدھے تو اصلی ہوں گے۔
 بادشاہت میں یہی تو مسئلہ ہے۔
 مسئلہ یہ ہے کہ جسکو عزت ملتی ہے وہی سب بیچ ڈالنے کو نکل پڑتاہے۔
جس کا مال ہے اسے فکر نہیں تو دوسرے کو کیا فکر۔۔
 جس کا مال ہے وہ بے چارہ تو زندگی سے لاچار پھر رہا ہے۔ اپنے مسئلے مسائل میں الجھا ہوا۔
اگر کوئی اپنا مسئلہ نہیں بتائے گا تو دوسرے کو کیا علم۔۔
اور کیسے بتائے سب تو سامنے ہے۔ آنکھیں بند کرنے پر بھی چیخ رہا ہے۔
 میں بتاؤں کیسے بتائے۔ ہر شخص کو ایک پنسل اور ایک پیپر دے دو کہ اپنی قومی، معاشی و معاشرتی ترجیحات کی ایک فہرست بنائے اور اس میں پانچ سے دس باتیں لکھے۔
سو کروڑ ترجیحات سامنے آ گئیں۔۔ اب اس کو کیا کرنا ہے۔۔
مجھے یقین ہےاکثریت کی فہرست میں دس کی دس باتیں سیم ہونگی۔
 لیکن وہ نو رتنوں کو سمجھ نہین آئیں گی۔ اور لازمی اس میں بھی فراڈ نکل آئے گا۔
 لیکن ایسا کرنے میں حرج ہی کیا ہے۔ اور کیسا لگے گا۔ ہر شخص جو کچھ بول رہا ہے وہ پہلے اپنی لسٹ سنانا شروع کردے۔ ریڈیو پر کال کرے میری پسند کا گانا سنادیں۔ لیکن پہلے میری لسٹ سن لیں۔ کھانے کے چینل پر ۔۔میری بہن سے بات کریں لیکن میری لسٹ سن لیں پہلے۔ میڈیا پر جی میرا ایک سوال ہے آپ کے شو کے بارے میں۔۔لیکن میری لسٹ یہ ہے۔ بلاگ پر ۔ قومی مسائل کی ترجیحات کی فہرست۔ فیس بک سٹیٹس۔۔ دس اہم مسائل جو سب سے پہلے حل ہوں
 تمہارے ساتھ یہی مسئلہ ہے ۔۔لمبا چوڑا خیالی پلاؤ۔۔ ی
ہ اتنا خیالی بھی نہیں ہے۔
اور وہ بھی پالیٹیکس سے متعلق۔۔
یہ پالیٹیکس سے متعلق نہیں ہے۔ ہیومن سائینس ہے۔۔ ہاؤ ٹو سروائیو آ نیچرل ڈزاسٹر ود ٹیم ورک۔۔
ٹیم ورک کے لیے محنت کچھ زیادہ چاہیے ہوتی ہے
 یا تسلسل۔۔۔ اور تعداد۔۔
ہم کیوں بحث میں پڑ رہے ہیں۔ اس وقت میں کتنا سارا کام ہو سکتا تھا
تو ہم کو کیا آشنا کے کام سے پیارا ہے بیگانے کا کام
یا ہماری ترجیحات کی فہرست۔۔ ہمارا خاندان۔ ہمارا گھر۔ ہماری منقولہ و غیر منقولہ جائیداد۔۔ ہمارے۔۔
چچ۔۔ یہ تنگئ دامانِ تمنا ئے تو۔۔
حقیقت پسندی ایک آرٹ ہے ۔۔ کچھ لوگوں کے خوابوں کے لیے کچھ دوسرے لوگوں کو جاگنا پڑتا ہے
یہ فلسفہ نہیں کیا۔۔۔
فلسفہء حیات۔۔
 آہ۔ اور چائے چلے گی؟
یس پلیز۔۔ بائے دا وے بادشاہت کا کیا مسئلہ ہے؟
 پہلا جشنِ طرب مخالفین کے سروں سے سجتا ہے
 ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 تمام حقائق، واقعات اور مکالمات فرضی ہیں۔ کسی بھی قسم کی مطابقت محض اتفاق ہوگی۔ عوام، میڈیا اور مخالفین فرضی کردار ہیں اور وجود نہیں رکھتے۔بادشاہت اصلی ہے۔۔لونگ لو دا کنگ۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں