6/13/2013

ایک کتاب

اگر میں ایک داستان گو ہوتی ۔۔ اور میں صرف ایک کتاب لکھتی تو میں کوئی ایسی داستاں لکھتی جو پڑھنے سننے والوں کو باندھ لیتی۔ جو کبھی پرانی نہ ہوتی۔ ہر انسان کے دل میں اتر جاتی اور وہ اس کو کبھی نہ بھول پاتے۔

اگر میں ایک نغمہ گر ہوتی۔۔ اور صرف ایک کتاب لکھتی تو میں اس میں ایسے نغمے بنتی جو ذہنوں پر جادو کر دیتے ، لوگ ایک ہی بار سن کر اس میں گم ہو جاتے اور پھر کبھی کسی اور نغمہ گر کی طرف متوجہ نہ ہوتے۔

اگر میں ریاضی دان ہوتی۔۔ اور میں صرف ایک کتاب لکھتی تو میں اس میں ایسے نظریے دریافت کرکے لکھتی کہ انسان رہتی دنیا تک اس پر ششدر رہ جاتے اور ان کو سمجھنے اور ان سے آگے نکلنے کی تگ و دو کرتے رہتے اور نہ کامیاب ہوتے۔

اگر میں سائنسدان ہوتی۔۔ اور صرف ایک کتاب لکھتی تو میں دنیا کی ہر حقیقت پر اتنی تفصیل سے روشنی ڈالتی کہ کوئی پہلو بھی نظر سے اوجھل نہ رہ جاتا اور انسان کبھی وہم و گماں کا شکار نہ ہوتے۔

اگر میں کسی بھی انسانی ہنر کی ماہر ہوتی اور اپنے ہنر پر صرف ایک کتاب لکھتی تو میں اس کو اپنا پہلا اور آخری اور مکمل کام سمجھ کر ایسے لکھتی کہ وہ ایک لازوال شاہکار بن جاتی۔ سدا پڑھی جاتی، سدا سمجھی جاتی۔

اوراگر میں ابتدا ہوتی، اور انتہا ہوتی، اگر میں نے لفظ بنایا ہوتا، اور میں نے ہی نطق بنایا ہوتا۔ اگر سائینس میرے خیال کا نام ہوتا، ریاضی میرے کام کو سمجھنے کی ادنی سی کوشش کو کہتے، اگر انسان اور جن میرا ہنر ہوتے۔ انسانوں کے ہنر میری عطا۔ اگر علم میری بخشش کا نام ہوتا اور میں صرف ایک کتاب لکھتی۔۔۔ تو میں حکمت کی کتاب لکھتی۔ میں اس میں اپنا بہترین ہنر استعمال کرتی۔ جو اس کو سنتا یا پڑھتا وہ اس کے دل میں اتر جاتی۔ ہر حقیقت کو ایسے بیان کرتی کہ وہ تمام زمان و مکاں کے لیے ازل سے ابد تک مکمل ہو جاتی۔ اتنی تہ دار ہوتی کہ انسان رہتی دنیا تک اس کو سمجھنے کی کوشش کرتے رہتے اور ہمیشہ ایک نیا رخ سامنے آ جاتا۔ اتنی روشن ہوتی کہ جن و انس کبھی وہم و گماں کا شکار نہ ہوتے۔ اتنی آسان ہوتی کہ کھلی دلیل کے سوا کچھ نہ لگتی۔ اتنی مکمل ہوتی کہ ہر دور میں اس سے آگے نکل جانے کے زعم میں رہ جانے والے ہر مرتبہ اس کو خود سے آگے پاتے۔ اگر میں صرف ایک ہوتی اور صرف ایک کتاب لکھتی تو میں صرف اپنے بارے میں لکھتی۔۔ کہ اس کو جو بھی پڑھے وہ جہاں سے بھی ہو صرف مجھ تک پہنچے اور مجھ میں گم ہو جائے۔

6/03/2013

سکرین لیس ڈے 6



پہلا سکریں لیس دن انہی سوالات سے الجھتے گزرا۔ ہر چیز رکی ہوئی محسوس ہو رہی تھی۔ اور آخری چند گھنٹوں تک اس کے ختم ہونے کے لیے شائد میں الٹی گنتی شروع کر چکی تھی۔ لیکن اہم بات جو مجھے دن کے آخر پر معلوم ہوئی کہ میرے تمام سوالات میں سے چند ایک ہی تھے جن کو جاننے کی مجھے حقیقت میں ضرورت تھی۔ یا شائد صرف ایک۔۔ آج موسم کیسا رہے گا، تاکہ میں چھتری اٹھا لوں۔ اس نکتہ کے واضح ہونے کے بعد ہی مجھے اس تجربے کو ایک ہفتے یا ایک مہینے تک لے جانے کی خواہش ہوئی۔ لیکن بہت جلد یہ بات واضح ہوگئی کہ میرا سکرین یوز بہت ہی پیچیدہ انداز میں میری زندگی میں دخیل ہے اور اس کو اتنی آسانی سے سراسر ختم کرنا ممکن نہیں ہے۔ لیکن چند مقامات پر اس کو کم یا محدود کرنا ضرور ممکن ہے۔ اس کے لیے میں نے اسکی مختلف کیٹیگریز بنائی جاسکتی ہیں۔ یعنی کام، تفریح، تعلقات عامہ اور تعلیم۔ اور ان کے لیے حقیقت پسندی سے کم یا زیادہ اوقات مقرر کیے جاسکتے ہیں۔

ان کے لیے الگ الگ اوقات مقرر کر لینے سے ان کے الگ الگ روٹین لوپ بن جاتے ہیں جس کی وجہ ہر روٹین سے ایک مختلف قسم کی تحریک وابسطہ ہو جاتی ہے۔ مثلا اگر گھر کے کام یا خریداری کے لیے انٹرنیٹ کا استعمال کرنا شروع کیا ہے تو اس میں چیٹنگ نہ شروع کی جائے تو کام بہت جلد اور بہتر طور پر ختم ہو جائے گا۔ اسی طرح اگر کچھ لکھنے کے لیے کمپیوٹر آن کیا ہے تو انٹرنیٹ کو مکمل طور پر بند رکھنے سے فوکس مل جائے گا اور کم وقت میں زیادہ لکھا جائے گا۔ سنگل ٹاسکنگ سے جو ارتکاز ملتا ہے اس سے کام کی کوالٹی بھی بہتر ہوجاتی ہے۔

اس کے علاوہ سکرین کے غیر ضروری استعمال کو کم کرنے کے لیے کچھ متبادل روٹین بھی اختیار کرنی ضروری ہے۔ اور اس کو پلان بنا کر بھی کیا جاسکتاہے۔ یعنی فلاں وقت میں ٹی وی دیکھنے کی بجائے میں یہ کتاب ختم کروں گی۔ یا فلاں وقت میں فیس بک پر لوگن کرنے کی بجائے میں فلاں دوست کی بیماری کا حال پوچھوں گی یا اس کے لیے کھانا بنادوں گی۔ خبریں سننے کی بجائے ویب ڈیزائینگ کا ایک پارٹ سیکھوں گی۔ اس طرح ہمارا دماغ اتنا مصروف ہو جائے گا کہ غیر حقیقی بوریت یا فرصت جیسے مسائل کی طرف توجہ خود بخود کم ہو جائے گی۔ مجھے ابھی تک کچھ مقامات پر مشکل محسوس ہوتی ہے۔ یعنی جہاں بھی میرے خیال میں ریوارڈ کا لیول ہائی ہوگا وہاں خودبخود دماغ ہتھیار ڈال دے گا۔ تاہم جہاں بھی میں اس کو اپنی زندگی کے اہم مقاصد سے ہم آہنگ نہ کر پاؤں، اس کو بدل دینا بہتر ہوگا۔ اور اس کے لیے صرف اس عادت کے پیٹرن کو جانچنا اور سمجھنا ضروری ہے۔