7/21/2014

گلٹ فری ایٹینگ ۲

کھانے کے بارے میں ہمارا رویہ تبدیل ہو جانے کی ایک وجہ تو زندگی کے طور اطوار کی تبدیلی ہے اور دوسری وجہ ذرائع ابلاغ و ترسیل کا کردار۔

خوراک ہماری بنیادی جسمانی ضرورت ہے اور اسی لحاظ سے انسان نے بدلتے وقت کے ساتھ ساتھ اسے ذائقہ میں بہتر، مقدار میں زیادہ اور اقسام میں متنوع بنانے پر مسلسل کام کیا ہے ۔ خوراک کی بے تحاشا اقسام اور مقدار ہر موسم میں ہر وقت ہمارے بازاروں میں عام دستیاب ہے۔ اور اس کی قیمت، مانگ اور کھپت حالات کے مطابق ایڈجسٹ ہوتی رہتی ہے۔

لیکن خوراک کی آسان ترسیل نے اس کو محض شکم سیری کے مقصد سے بڑھا کر ہماری زندگیوں کا ایک ایونٹ بنا دیا ہے۔ آج ہمارے ٹیلیویژن خوراک کے الک چینل براڈکاسٹ کرتے ہیں جن پر دن رات عالمی اور مقامی خوراک کے بارے میں تفاصیل بیان ہوتی رہتی ہیں، نت نئی ریسیپیز سامنے آتی ہیں، کھانا بنانے اور کھانے کے مقابلے ہوتے ہیں۔ ہم صرف پیٹ بھرنے کے لیے نہیں کھاتے بلکہ اب ہم خوشی اور سکون کے لیے کھانا کھاتے ہیں، کسی کام کے انعام کی ٹریٹ کے لیے کھاتے ہیں، میل ملاپ پر کھاتے ہیں۔۔۔ حتی کے ہم نہ کھانے (روزے) کو بھی کھانے سے پہلے کا وقفہ سمجھتے ہیں اور پھر دیر تک کھاتے ہیں۔ پھر اس کے بعد ہم اس کھانے سے چڑتے ہیں، کھانا کھانے کے عمل سے چڑتے ہیں ۔۔ اپنے آپ سے چڑتے ہیں کہ کیوں کھاتے ہیں۔ یہ خوراک سے ہمارے لو-ہیٹ ریلشن شپ کا آغاز ہے

یہ سائیکل فوڈ انڈسٹریز کی جیت کا آغاز بھی ہے۔ چپس کے ایک پیک پر کچھ ایسی ملتی جلتی عبارت درج تھی کہ ایک سروونگ پندرہ چپس ہیں لیکن آپ پورا پیک(فیملی پیک)۔ کھائے بغیر نہیں رک پائیں گے۔ ہمارے اور خوراک کے اس لو-ہیٹ ریلیشن شپ کے پیچھے بڑی کمپنیوں کی قیمتی اشتہاری مہموں کی باریک بین تحقیق کا ہاتھ بھی ہے۔۔ زندگی کی آسائش، سکون کی تلاش، دوستوں کی رفاقت، خوبصورتی اور خوشیوں کے دوسرے استعاروں کو بہت گلیمرائز طریقے سے فاسٹ فوڈ ریستورانوں، سوڈے کی بوتلوں، کافی کے برانڈز، مٹھائیوں، بیکری کی مصنوعات، سپلیمنٹ، فروزن سنیکس اور ڈائیٹ فوڈ سے جوڑ دیا گیا ہے۔

7/07/2014

گلٹ فری ایٹینگ-1

گاجر کا حلوہ پہلے جیسا نہیں بنا۔ خیر ویسا نہیں جیسا ہم سارے لوگ بچپن میں چیپ لیبر کے طرح لائن میں بیٹھ کر گاجروں کے ڈھیر پر مقدور بھر مشقت کرتے تھے اور آخر میں بڑے دیگچے سے مہینے بھر کے کوٹے مختص ہوتے تھے۔ میرا حلوہ ویسا کبھی نہیں بنا۔ لیکن یہ والا تو پچھلی دفعہ جیسا بھی نہیں بنا۔ مزہ نہ آنے کی اصل وجہ کیلوریز ہیں۔

 سیل کی شرح کو کل قیمت میں سے نفی کرنے کے علاوہ جس حسابی عمل میں مجھے سب سے زیادہ مہارت ہے وہ غزائی حراروں کا تناسب، جمع اور تفریق ہے۔۔۔ کس شے میں کتنی کیلوریز نشاستہ اور کتنی چکنائی سے متعلق ہیں، اور اس کی کتنی مقدار کھانے کے بعد رکنا یا نہ رکنا اور پچھتاوے میں مبتلا ہو ہو کر کھاتے جانا میرے نئے عقائد میں سر فہرست ہے۔ اسی لیے میں ہر لقمے پر سوچتی رہی کہ ایک کپ گاجروں کی کیلوریز پچیس ہوتی ہیں اور ایک کپ حلوے کی شائد پانچسو پچیس۔ (اس میں چینی ، گھی اور کھوئے کی مقدار سے یہ اندازہ نکلا ہے)۔ تو مجھے سمجھ نہیں آیا کہ میں نے ایک کپ تازہ گاجروں کو ہی کیوں نہ کھا لیا اور اتنی محنت کیوں کی اور اس میں مزہ کیوں نہیں آ رہا۔


گلٹ فری ایٹینگ یعنی گاجر کا حلوہ اکیسویں صدی کے انسان کی تھیوری نہیں ہے۔ یہ اس کا لائف سٹائل نہیں ہے۔ آج کے انسان کو خوراک پر کیے گئے پانچ ہزار سال کے تجربوں اور کاوشوں سے یا کھانے کی تہذیب اور معاشرت سے کچھ خاص سروکار نہیں۔ آج کا کھانا یا تو فاسٹ ہو یا انسٹنٹ۔۔ اور اس سے بھی بہتر یہ ہے کہ یہ ڈائٹ ہو۔ مختلف کمپنیاں کھانے کی مقدار کو ناپ تول کر اور پہلے سے تیار کرکے اس وعدے کے ساتھ بیچتی ہیں کہ اس سے وزن میں خاطر خواہ کمی ممکن ہے۔ 

یعنی آج کے دور میں جب خوراک کی مقدار اتنی بڑھ چکی ہے کہ اسے ایکسپائر ہونے کے بعد پھینکنا پڑتا ہے، یا عام آدمی کے اختیار میں موسمی اور بے موسم کی ہر خوراک ہر وقت ہونے کے باوجود انسان خود کو ان نعمتوں سے بہرہ ور ہونے کی اجازت نہی دے سکتا یعنی بھرے ہوئے فرج اور ڈائیٹنگ آج کا کلچر ہے۔