2/29/2012

بڑی تصویر کی چھوٹی تفصیلات

ہم کرہ ارض کے بے شمار ملکوں میں سے عمومی رقبے کے ایک ملک کی ایک منتشر سی قوم ہیں۔ لیکن ہم بڑے ہی سیاسی لوگ اور مذہبی لوگ ہیں۔ کسی نے ایک دفعہ ہمیں بتایا تھا۔ جدا دین سے سیاست ہو تو رہ جاتی ہے چنگیزی۔۔ اب گو ہمیں چنگیزی اتنی بری نہیں لگتی۔۔ چنگیز خان کے نام کے ساتھ خان لگتا ہے اور بہت سے ہر دلعزیز خان قومی افق پر چھائے رہے ہیں۔۔ ہمیں پسند رہے ہیں۔ پھر چنگیز خان نے ہمیں تیمور لنگ جیسا جی دارو دیندار سیاست دان بھی دیا۔۔ جس کے بارے میں بعد میں ہمیں بتایا گیا۔۔ مل گیا پاسبان کعبہ کو بت خانے سے۔۔ وہ سب ہم مانتے ہیں۔ لیکن دین کو سیاست سے الگ نہیں کرتے بالکل۔ اپنا دینی چینل کھولتے ہیں، سنتے ہیں۔۔ سر دھنے ہیں، پھر اپنا سیاسی خبروں کا چینل کھولتے ہیں۔۔ اپنے پسندیدہ ٹاک شو کے ہاتھوں کی گئی سر پھٹول دیکھتے ہیں۔ اور جب دماغ منتشر اور آنکھیں بھاری ہو جاتی ہیں توکچھ ہلکا پھلکا دیکھ لیتے ہیں۔

لیکن ہم ہمیشہ بڑی تصویر نظر میں رکھتے ہیں۔ دنیا کے چیدہ چنیدہ واقعات پر ہماری نظر رہتی ہے۔ ملک کے اہم سیاسی معاملات، معاشی اتار چڑھاؤ، فوجی غلطیوں کا کل اور آج ہمیں بہت اچھے طریقے سے یاد ہے۔ ہمیں بخوبی ادراک ہے کہ ہم ایک بہت اہم ملک ہیں۔ جس کا کام ہر سپر پاور کو۔۔ جن کو ہم ہی جیسے ملکوں نے سپر پاور کا نام دیا ہے۔۔ اپنی شمشیر کے بل پر پاس پھٹکنے سے روکنا ہے۔۔ ہماری انسپیریشن تو سب کو معلوم ہی ہے۔۔ یعنی بحر ظلمات میں گھوڑے دوڑا چکے ہیں۔ بڑے بڑے معاملات پر مسلسل غور کرتے رہنے کی وجہ سے ہم ہائیپراوپیا کا شکار ہوتے جارہے ہیں۔

ہائیپراوپیا یا فارسائیٹڈنیس طبی زبان میں نظر کی ایسی حالت کو کہا جاتا ہے جس میں قریب کی چیزیں واضح نہیں دکھتیں۔ سماجی زبان میں اسے ویژن کی اسی کمی سے منسوب کیا جا سکتا ہے جس میں ہمیں ایک دوسرے ملک میں ہوتے ہوئے کرکٹ میچ کی تفصیلات کا پورا علم ہوتا ہے لیکن یہ نہیں معلوم ہوتا کہ تین روز سے مسلسل ہونے والی دہشت گردی کے نتیجے میں ہونے والی مارکیٹ ہڑتال کی وجہ سے ہمارے ہمسائے کے پاس کل سے کھانے کا راشن ختم ہو چکا ہے۔ یا کچھ ایسے کہ ہم جانتے ہیں پاک چائینا کے اشتراک سے بننے والے نئے طیارے میں کون کون سی خوبیاں ہیں لیکن ہماری گلی میں چھوٹا سا گندے پانی کا جوہڑ ہمیں نظر نہیں آتا جس پر بھنبھناتی مکھیاں اور مچھر طرح طرح کی بیماریوں کا سبب بن سکتے ہیں۔ یا پھر یہ کہ کن سیاست دانوں کی ڈگریاں اصلی ہیں اور کن کی نقلی، لیکن بچوں کے سکولوں میں پڑھانے والے اساتذہ کو کوئی مدد درکار ہے ہمیں معلوم نہ ہو سکے۔

یہ تو نہیں کہ سکتے کہ سماجی طور پر ہم ایک بے شعور قوم ہیں یا یہ کہ ہم سوچنے سمجھنے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔ ہم ایسے نہیں ہیں کہ ہم نے دنیا دیکھی ہے۔ کیسی کیسی قومیں ہم نے دیکھی ہیں۔۔ سارا سارا دن سونے والی افیونی قومیں۔ ہر اصول کو بالائے طاق رکھ کر آزادیٔ ذات کا نعرہ لگانے والی ہپی قومیں، یا انسانوں کو شودر گردان کر زندگی کا حق نہ دینے والی تنگ نظر قومیں، یا عربی و عجمی کی تفریق کرنے والی گھمنڈی قومیں، یا طاقت کے نشے میں دوسروں کو زندہ نہ رہنے دینے والی متعصب قومیں۔ ہم ایسی قوموں میں شمار نہیں ہوتے۔ ہم شب بیدار، دیندار، روادار، مساوت پسند، عجز کو زندگی ماننے والی رحمدل، بہادر اور اصول پسند قوم ہیں۔ ہاں ایک چھوٹا سا مسئلہ ہو گیا ہے۔۔ ہم بڑے بڑے میورلز کو پرکھتے پرکھتے چھوٹی تفصیلات کو نظرانداز کرنے کے عادی ہو گئے ہیں۔ ہمیں اپنے ارد گرد کیا غلط ہے نظر نہیں آتا۔ اور اس صرفِ نظر نے ہمارے مسائل کی چھوٹی چھوٹی تفصیلات کو ایسا سیلاب بنا دیا کہ پوری قوم ہی اس میں بہ جانے کو ہے۔

ان تمام چھوٹی تفصیلات پر جن پر بڑے بڑے آرٹیکل نہیں چھپتے، ٹاک شوز نہیں بنتے اور دعوتوں میں گرما گرم بحث نہیں ہوتی، فردا فردا بیان کیا جائے تو ایک لمبا عرصہ درکار ہوگا۔ لیکن یہاں پڑھنے والے محض چند سو افراد ان باتوں پر سوچنا شروع کر دیں اور ان کو حل کرنے کا راستہ ڈھونڈ لیں تو ایک بڑی تبدیلی کا آغاز ممکن ہے۔ یہ مسائل ہماری روز مرہ زندگی میں صفائی ستھرائی، تعلیم کی حقیقی ترویج، امداد باہمی، وقت کی قدر اور سچائی سے ہی متعلق ہیں۔

بظاہر ہمارے بہت قریب موجود ان چھوٹے مسائل کو غور سے دیکھنے پر ان کا حل ناممکن لگتا ہے۔ کیونکہ ہم سمجھتے ہیں کہ ہماری حکومت نااہل ہے، اور ہمارے سیاستدان اپنی تجوریاں بھر رہے ہیں۔ اور دوسرے انتظامی ادارے اپنا کام ایمانداری سے نہیں کررہے۔ چلیں پھر بات یہیں سے شروع کرتے ہیں کہ ہم بدتر حالات کے آخری درجے پر ہیں۔ اور ہم نے اپنی بہتری کی ذمہ داری چند اشخاص کے سپرد کی تھی جو اس پر کام نہیں کر پا رہے۔ تو ایک چھوٹا سا سوال اٹھتا ہے۔ یعنی ایک شخص نے دوسرے سے کہا میں ڈوبنے لگوں تو تم مجھے بچا لینا۔ اور وقت آنے پر دوسرا شخص اس کو نہیں بچاتا تو پہلا شخص کیا کرے گا؟؟ کیا وہ آنکھیں بند کرکے ڈوبتا جائے گا؟؟ اور اگر وہ نہ ڈوبے اور کسی نہ کسی طرح بچ جائے تو کب تک وہ اسی دوسرے پر اپنے بچاؤ کے لیے انحصار کرے گا۔ جب زندگی پر داؤ لگ رہا ہو تو یہ جوا بار بار نہیں کھیلا جاتا کیونکہ انسانی سرشت میں سروائیول کی، خطرے سے لڑنے کی ایک فطری حِس رکھی گئی ہے۔ جس کا تعلق نسل انسانی کی بہتری سے بنایا گیا ہے۔

پتھر کے زمانے سے یہی حِس انسان کو اپنی حالت بہتر بنانے پر مجبور کرتی رہی ہے۔ انسان نے جب پہلی پہلی بستیاں بنائی تھیں تو ٹیم ورک وجود میں آیا تھا۔ وہی ٹیم ورک اب ایک محلے، ایک گلی، ایک شہر، ایک ملک میں کام آسکتا ہے۔ ہمارے ان چھوٹے مسائل کا حل ہماری مشترکہ کوششوں میں ہے جہاں ہم کسی بھی ان ریلائیبل شخص یا ادارے پر انحصار چھوڑ کر اختیار اپنے ہاتھوں میں لے لیں۔

ہم خود وقت کی پابندی شروع کرسکتے ہیں، وقت کی قدر میں اضافے سے ہمارے پاس بہت سا وقت بچ جائے گا جسے تعمیری سرگرمیوں میں استعمال کیا جا سکتا ہے

ہم خود اپنے محلے کو صاف رکھنے کا صفائی چارٹ بنا سکتے ہیں۔ سڑک ٹوٹنے یا لائیٹس خراب ہونے کی صورت میں پیسے جمع کرکے اسے خود ٹھیک کر سکتے ہیں۔

روزگار کے لیے ایک دوسرے کو اپنی کمپنیوں میں مواقع دے سکتے ہیں۔ شادیوں کے لیے انسانی سیرت کو معیار بناسکتے ہیں۔ ان کے انعقاد کے لیے ایک دوسرے کی مدد کر سکتے ہیں

ہم اپنے فارغ اوقات میں اپنے بچوں کے سکول میں رضاکار امداد دے سکتے ہیں۔ تاکہ اساتذہ پر کام کا بوجھ کم ہو اور وہ بہتر طریقے سے اپنے فرائض ادا کرسکیں۔

ہم مقامی ٹیمز بنا کر بچوں کے کھیلنے کے لیے جگہیں اور دوسرے وسائل مہیا کر سکتے ہیں۔

ہم کار پول کرکے ایک ہی کار میں ایک سے زیادہ افراد مختلف جگہوں پر جا سکتے ہیں جس سے ٹریفک کا رش کم اور وسائل کی بچت ہو

ہم بیماریوں کی روک تھام کے لیے خود ڈاکٹرز سے رابطہ کرکے کیمپ ارینج کر سکتے ہیں۔

ہم مقامی سکولوں کو ترویج دے کر اچھا سکول بنا سکتے ہیں۔ مل جل کر ان میں ضرورت کی چیزیں مہیا کر سکتے ہیں اور بڑے سکولوں کی بڑی فیسوں کی حوصلہ شکنی کر سکتے ہیں۔

جن لوگوں کے پاس جنریٹر یا متبادل بجلی کی سہولت مہیا نہیں ان کے لیے یہ سہولت مل جل کر خرید سکتے ہیں

مقامی وسائل جمع کر کے مہنگے وسائل زندگی خرید کر ارزاں قیمت پر فروخت کر سکتے ہیں۔ تاکہ کوئی شخص بھوکا نہ سوئے۔ کسی کی زندگی رائگاں نہ ہو۔

پہلے چھوٹے لیول پر ارگنائز ہوکر ہم چھوٹی تبدیلیاں لا سکتے ہیں اور پھر بڑی تبدیلوں کے لیے لڑ سکتے ہیں۔ تبھی ہم بہتر کے لیے بارگین کر سکتے ہیں۔

ان چھوٹی چھوٹی باتوں کے لیے کسی حکومت کی ضرورت نہیں ہوتی۔ ان کے لیے صرف ایک تعمیری جذبے کی ضرورت ہوتی ہے۔ احسان اور رواداری کی ضرورت ہوتی ہے۔ اپنی دو روٹی کو مل بانٹ کر کھانے، کھلے میں چٹائی ڈال کر علم بانٹنے اور سیکھنے، صفائی کو نصف ایمان سمجھنے اور صرف خدا پر توکل کرنے کا جذبہ جب بھی بیدار ہوتا ہے محض مٹھی بھر منظم لوگ دنیا کی سب سے بڑی سلطنت کی داغ بیل ڈالتے ہیں۔ پھر وہ لوگ کبھی نہیں ہارتے۔ اور ہاں۔ وہ بحر ظلمات میں گھوڑے بھی دوڑا دیتے ہیں لیکن اب ویسے سب میرین کا دور ہے۔

4 تبصرے:

  1. آپ نے عمدہ طریقہ سے مسائل کی نشاندہی کی اور حل بھی تجویز کر دیا ۔ اللہ کرے اسے قارئین سمجھنے کی کوشش کریں اور عمل کی بھی

    جواب دیںحذف کریں
  2. حل بہت کم لوگ تجویز کرتے ہیں لہذا لکھا پسند آیا ویسے آخری سطر کمال کی تھی :D

    جواب دیںحذف کریں
  3. تحریر کو ایک جانب رکھیں۔ مجھے تو ایسا لگتا ہے کہ محترمہ آپ نے اقبال کو رگڑا دینے کے لیے ان کے مصرعوں کے گرد اتنی بڑی (اور فضول) نثر جمع کر ڈالی ہے۔ یہ باتیں بغیر اقبال کے حوالے سے کے بھی بہت تمیز کے ساتھ کی جا سکتی تھیں۔

    لوگوں کو بھی طنز کے لیے اقبال ہی ملتا ہے، لیکن اسے پڑھنے کی توفیق کبھی نہیں ہوتی۔

    افسوس کی بات ہے کہ 'پاسباں مل گئے کعبے کو صنم خانے' کے شعر کو تیمور لنگ سے جوڑا گیا ہے۔ انا للہ :(

    جواب دیںحذف کریں
  4. @افتخار صاحب بہت شکریہ۔ امید اچھی رکھنی چاہیے۔

    @ مکی صاحب دائیں جانب جھوک کھاتی تحریر پر آپکا تبصرہ۔۔ یعنی پھر واقعی آپ وہ لکھ رہے ہوتے ہیں جو آپ نہیں لکھتے۔ تحریر پسند کرنے کا شکریہ۔

    @ ابو شامل صاحب سارے فسانے میں جس کا ذکر نہ تھا۔۔۔
    ; D

    تشریف آووری کا بہت شکریہ۔

    جواب دیںحذف کریں