7/07/2014

گلٹ فری ایٹینگ-1

گاجر کا حلوہ پہلے جیسا نہیں بنا۔ خیر ویسا نہیں جیسا ہم سارے لوگ بچپن میں چیپ لیبر کے طرح لائن میں بیٹھ کر گاجروں کے ڈھیر پر مقدور بھر مشقت کرتے تھے اور آخر میں بڑے دیگچے سے مہینے بھر کے کوٹے مختص ہوتے تھے۔ میرا حلوہ ویسا کبھی نہیں بنا۔ لیکن یہ والا تو پچھلی دفعہ جیسا بھی نہیں بنا۔ مزہ نہ آنے کی اصل وجہ کیلوریز ہیں۔

 سیل کی شرح کو کل قیمت میں سے نفی کرنے کے علاوہ جس حسابی عمل میں مجھے سب سے زیادہ مہارت ہے وہ غزائی حراروں کا تناسب، جمع اور تفریق ہے۔۔۔ کس شے میں کتنی کیلوریز نشاستہ اور کتنی چکنائی سے متعلق ہیں، اور اس کی کتنی مقدار کھانے کے بعد رکنا یا نہ رکنا اور پچھتاوے میں مبتلا ہو ہو کر کھاتے جانا میرے نئے عقائد میں سر فہرست ہے۔ اسی لیے میں ہر لقمے پر سوچتی رہی کہ ایک کپ گاجروں کی کیلوریز پچیس ہوتی ہیں اور ایک کپ حلوے کی شائد پانچسو پچیس۔ (اس میں چینی ، گھی اور کھوئے کی مقدار سے یہ اندازہ نکلا ہے)۔ تو مجھے سمجھ نہیں آیا کہ میں نے ایک کپ تازہ گاجروں کو ہی کیوں نہ کھا لیا اور اتنی محنت کیوں کی اور اس میں مزہ کیوں نہیں آ رہا۔


گلٹ فری ایٹینگ یعنی گاجر کا حلوہ اکیسویں صدی کے انسان کی تھیوری نہیں ہے۔ یہ اس کا لائف سٹائل نہیں ہے۔ آج کے انسان کو خوراک پر کیے گئے پانچ ہزار سال کے تجربوں اور کاوشوں سے یا کھانے کی تہذیب اور معاشرت سے کچھ خاص سروکار نہیں۔ آج کا کھانا یا تو فاسٹ ہو یا انسٹنٹ۔۔ اور اس سے بھی بہتر یہ ہے کہ یہ ڈائٹ ہو۔ مختلف کمپنیاں کھانے کی مقدار کو ناپ تول کر اور پہلے سے تیار کرکے اس وعدے کے ساتھ بیچتی ہیں کہ اس سے وزن میں خاطر خواہ کمی ممکن ہے۔ 

یعنی آج کے دور میں جب خوراک کی مقدار اتنی بڑھ چکی ہے کہ اسے ایکسپائر ہونے کے بعد پھینکنا پڑتا ہے، یا عام آدمی کے اختیار میں موسمی اور بے موسم کی ہر خوراک ہر وقت ہونے کے باوجود انسان خود کو ان نعمتوں سے بہرہ ور ہونے کی اجازت نہی دے سکتا یعنی بھرے ہوئے فرج اور ڈائیٹنگ آج کا کلچر ہے۔