4/02/2014

کھدائی


خشک علاقوں میں پانی کی ترسیل کے لیے کھودی گئی زیر زمین سرنگوں کے ایک خاص نظام کو قنات کہتے ہیں۔ ایرانی تہذیب تین ہزار سال سے زمین کے نیچے موجود پانی کو نکالنے کے لیے ان سرنگوں کو ہاتھ سے کھودتی آ رہی ہے۔ یسیوں کیلومیٹر لمبی ان سرنگوں کو بتدریج ڈھلوان کی صورت کھودا جاتا تھا تاکہ پانی پہاڑوں کے نیچے سے کھیتوں کی سمت بغیر کسی ٹیکنالوجی کے آسانی سے بہتا جائے۔ قنات کا یہ نظام اب تک چین کے شمال سے مراکو تک کئی جگہوں پر رائج ہے۔ بلکہ امیریکہ ایریزونا کے علاقوں میں اس قسم کی سرنگیں دکھائی دیتی ہیں۔

آجکل اس نظام کوجدید ٹیکنالوجی کی مدد سے بہت بہتر بنایا جا چکا ہے۔ اور ترسیل شدہ پانی کو شفاف اور قابل استعمال رکھنے کے لیے بھی بہت سے طریقے دریافت ہو چکے ہیں۔ دوسری طرف مارس ون کی تیاریاں زور و شور سے جاری ہیں۔ یہ سفر سائینسی تحقیق کے علاوہ ایک رئیلیٹی شو بھی ہے۔۔ جس کا ایک نام تو سروائیور ٹو بھی ہو سکتا ہے۔ بہرحال بات یہ ہے کہ مارس ون کا سا منصوبہ بنا لینے والا انسان جب زمین میں کہیں قحط، غربت یا بیماری کے پھیل جانے کا ذکر کرتا ہے تو بہت مضحکہ خیز لگتا ہے۔ بہت خود غرض لگتا ہے۔۔ بہت بے حس لگتا ہے۔

کائینات کے پیچیدہ راستوں کے نقشے بنا لینے کے بعد، اور چھوٹے سے چھوٹے ذرے کی نہج جان  لینے کے بعد جب یہی انسان ٹی وی پر مجبوری میں گھرے انسانوں کے لیے مدد کی اپیلیں جاری کرتا ہے، کمیٹیاں بٹھاتا ہےتو وہ اپنی ہی کارٹون فلم کا ہیرو بن جاتا ہے۔ غور کیا جائے تو موجود پانی اورموجود خوراک کی بہتر تقسیم سے مسائل کا حل ہو جانا اتنا ناممکن نہیں لگتا۔ لیکن کچھ علاقوں میں سوچنے والوں کی کمی ہے اور کرنے والوں کی شدید کمی۔ تبھی تو دنیا کی آدھی سے زیادہ آبادی صرف سوچ میں پڑی رہتی ہے کہ وہ کیا سوچے۔۔ یا پھر یہ کہ وہ کیا کرے

مجھ سے پوچھا جائے تو میرا خیال ہے کچھ عرصے تک وہ آبادی صرف کھدائی کرے۔۔ ملک کے ایک سرے سے لے کر دوسرے سرے تک ایک لمبی نہر کی کھدائی۔ تاکہ اب کے برس سیلابی پانی سے مزید تباہی نہ ہو۔۔ تاکہ اب کے برس جتنی بارش برسے وہ ایک جگہ اکھٹی ہوتی رہے۔ کیونکہ کبھی کبھی کئی برس تک خوب بارشیں ہوتیں ہیں۔ ہر جگہ جل تھل ہو جاتا ہے۔ یہ وقت ذخیرہ اندوزی کے لیے نہیں۔ ذخیرہ کرنے کے لیے ہوتا ہے کیونکہ اس کے بعد خشک سالی کے چند سال بھی تو ہو سکتے ہیں۔

یہ ریفرینس اس لیے یاد آیا کہ آبادی کے ایک بڑے حصے کی پوٹینشل انرجی کو کا ئینیٹک انرجی میں تبدیل کرنے کے لیے تین چار عوامل ہی کام کرتے ہیں جن میں سے ایک تو الحمداللہ ایمان کی حرارت ہے۔ دوسرا ڈیمزل ان ڈسٹرس۔۔ تو یقین کیجیے حضرات۔۔ غربت، جہالت، بیماری اور مایوسی کفار ہیں جو ہماری عورتوں کوپے درپے سڑکوں پر لا رہے ہیں۔ ان کے دل و دماغ، جسم اور روح کے ہر رہشے کی مسلسل بےحرمتی کیے جارہے ہیں۔۔ اینڈ۔۔ ویل۔۔ کھدائی کے بعد فلڈ لائٹ میں دوستانہ میچ کا بھی پلان ہے۔ کھانا فری!!!

1 تبصرہ:

  1. میں آپ کی تحریر میں کھویا ہوا تھا ۔ دماغ میں کئی منظر چل رہے تھے ۔ آپ کے آخری دو الفاظ نے مجھے ہنسنے پپ مجبور کر دیا ۔ یہ آخری پروگرام کیلئے بہت لوگ آ جائیں گے

    جواب دیںحذف کریں