8/26/2013

میکڈونلڈز والوں نے اپنی مارکیٹنگ اور فرینچایز پالیسی کے تحت پوری دنیا میں اپنا برانڈ متعارف کروایا ہے۔ امیریکہ میں اس کی ایک وجہ خوراک کی زیادہ مقدار میں ارزاں اور فوری فراہمی کے ساتھ ساتھ اس کی سروس، طویل شاہراہوں پر ریسٹ ایریا کی موجودگی اور بچوں کے لیے خصوصی آفر اور کھیلنے کی جگہ وغیرہ شامل کرنا ہے۔ خوراک کے ذائقے اور معیار کی یہاں بالکل بات نہیں ہورہی۔ بہرحال اسکے بیان کردہ معیار کی ہر جگہ پر ایک سی فراہمی ہی سے اس کے نام کے ساتھ سروس کا ایک مخصوص تصور ذہن میں آتا ہے اور معمول سے ہٹ کر کچھ ہو تو بہت عجیب لگتا ہے۔ ابھی پچھلے دنوں سیر سے واپسی پر ایک جگہ ریسٹ ایریا میں رکنا ہوا۔ اس دن مقامی چھٹی نہیں تھی یعنی نارمل کاروباری دن تھا اس لیے وہاں رش نہیں تھا۔ باتھ روم کی صفائی دیکھ کر میکڈونلڈز کی دوہری پالیسی پر بہت ہی افسوس ہوا۔ آپ بھی دیکھیے۔


زیادہ تر چیزیں جیسے نلکا، ہاتھ سکھانے کا ڈرائر وغیرہ خودکار تھے جو بقول کسے "چائینہ سے دو پیسے کا موشن سنسر لگانے سے ہو جاتا ہے اگر کسی کو محنت کا شوق ہو"۔



اصل افسوس مجھے 'کمرے' کے شروع پر لگے نوٹس کو دیکھ کر ہوا۔۔ میں نے اس کی فوٹو لی تو فرش صاف کرتی لڑکی نے لاتعلقی سے نظر اٹھا کر دیکھا۔ اور پھر کام شروع کردیا۔ اور پاکستان میں باتھ روم کے دروازے کے ہینڈل ہر ایک سخت گیر دربان 'وردی' پہن کر کھڑا تھا۔ جب میں نے چھوٹی کی طرف اشارہ کرکے کہا اس کو باتھ روم جانا ہے۔ اس نے دوسری طرف منہ پھیرتے ہوئے کہا۔۔۔"باجی ۔۔ پانی نہیں ہے۔۔اورجب میں اس کو قائل کرکے اندر پہنچی تو کچھ کچھ پانی تھا۔ لیکن اس کے علاوہ کیا کچھ تھا۔۔۔۔ اس کو چھوڑیں 

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں