6/03/2013

سکرین لیس ڈے 6



پہلا سکریں لیس دن انہی سوالات سے الجھتے گزرا۔ ہر چیز رکی ہوئی محسوس ہو رہی تھی۔ اور آخری چند گھنٹوں تک اس کے ختم ہونے کے لیے شائد میں الٹی گنتی شروع کر چکی تھی۔ لیکن اہم بات جو مجھے دن کے آخر پر معلوم ہوئی کہ میرے تمام سوالات میں سے چند ایک ہی تھے جن کو جاننے کی مجھے حقیقت میں ضرورت تھی۔ یا شائد صرف ایک۔۔ آج موسم کیسا رہے گا، تاکہ میں چھتری اٹھا لوں۔ اس نکتہ کے واضح ہونے کے بعد ہی مجھے اس تجربے کو ایک ہفتے یا ایک مہینے تک لے جانے کی خواہش ہوئی۔ لیکن بہت جلد یہ بات واضح ہوگئی کہ میرا سکرین یوز بہت ہی پیچیدہ انداز میں میری زندگی میں دخیل ہے اور اس کو اتنی آسانی سے سراسر ختم کرنا ممکن نہیں ہے۔ لیکن چند مقامات پر اس کو کم یا محدود کرنا ضرور ممکن ہے۔ اس کے لیے میں نے اسکی مختلف کیٹیگریز بنائی جاسکتی ہیں۔ یعنی کام، تفریح، تعلقات عامہ اور تعلیم۔ اور ان کے لیے حقیقت پسندی سے کم یا زیادہ اوقات مقرر کیے جاسکتے ہیں۔

ان کے لیے الگ الگ اوقات مقرر کر لینے سے ان کے الگ الگ روٹین لوپ بن جاتے ہیں جس کی وجہ ہر روٹین سے ایک مختلف قسم کی تحریک وابسطہ ہو جاتی ہے۔ مثلا اگر گھر کے کام یا خریداری کے لیے انٹرنیٹ کا استعمال کرنا شروع کیا ہے تو اس میں چیٹنگ نہ شروع کی جائے تو کام بہت جلد اور بہتر طور پر ختم ہو جائے گا۔ اسی طرح اگر کچھ لکھنے کے لیے کمپیوٹر آن کیا ہے تو انٹرنیٹ کو مکمل طور پر بند رکھنے سے فوکس مل جائے گا اور کم وقت میں زیادہ لکھا جائے گا۔ سنگل ٹاسکنگ سے جو ارتکاز ملتا ہے اس سے کام کی کوالٹی بھی بہتر ہوجاتی ہے۔

اس کے علاوہ سکرین کے غیر ضروری استعمال کو کم کرنے کے لیے کچھ متبادل روٹین بھی اختیار کرنی ضروری ہے۔ اور اس کو پلان بنا کر بھی کیا جاسکتاہے۔ یعنی فلاں وقت میں ٹی وی دیکھنے کی بجائے میں یہ کتاب ختم کروں گی۔ یا فلاں وقت میں فیس بک پر لوگن کرنے کی بجائے میں فلاں دوست کی بیماری کا حال پوچھوں گی یا اس کے لیے کھانا بنادوں گی۔ خبریں سننے کی بجائے ویب ڈیزائینگ کا ایک پارٹ سیکھوں گی۔ اس طرح ہمارا دماغ اتنا مصروف ہو جائے گا کہ غیر حقیقی بوریت یا فرصت جیسے مسائل کی طرف توجہ خود بخود کم ہو جائے گی۔ مجھے ابھی تک کچھ مقامات پر مشکل محسوس ہوتی ہے۔ یعنی جہاں بھی میرے خیال میں ریوارڈ کا لیول ہائی ہوگا وہاں خودبخود دماغ ہتھیار ڈال دے گا۔ تاہم جہاں بھی میں اس کو اپنی زندگی کے اہم مقاصد سے ہم آہنگ نہ کر پاؤں، اس کو بدل دینا بہتر ہوگا۔ اور اس کے لیے صرف اس عادت کے پیٹرن کو جانچنا اور سمجھنا ضروری ہے۔ 

1 تبصرہ: