5/06/2013

سکرین لیس ڈے 5


اگر ہم ہر روز صبح ایک مخصوص وقت پر ۔ ایک مخصوص جگہ پر بیٹھ کرسکون سے سادہ پانی کا ایک گلاس پئیں، تو دس دن کے بعد ہم خودبخود اسی وقت پر اسی جگہ پر پانی کا گلاس لے کر بیٹھیں گے۔ اگرسادہ پانی کو شربت سے تبدیل کردیں تو ہمارا تجربے میں ذائقہ کا عنصر بھی پیدا ہو جائے گا۔ اسی طرح جتنی زیادہ حسیات اس میں مشغول ہوتی جائیں گی اس تجربے کا پرنٹ گہرا ہوتا جائے گا۔ گیارہویں روز اس کو نہ کرنے سے ہمارے ذہنی توقعات پوری نہ ہونے کا تاثر بننا شروع ہو جائے گا۔ آہستہ آہستہ اس کی شدت بڑھتی جائے گی۔ تین سے چھ ہفتوں تک مسلسل کرنے کے بعد ہم اس کو مس کرنا شروع کردیں گے۔

ہماری بیشتر عادات کے بننے اور پختہ ہونے کا بنیادی نکتہ تسلسل ہے۔ لیکن اس دوران دماغ شعوری اور لا شعوری طور پر تین مرحلوں سے گزرتا ہے۔ محرک، روٹین اور ریوارڈ۔ سکرین یوز میں بھی انہیں تین مرحلوں سے ہمارے استعمال شدہ وقت کے کم یا زیادہ ہونے کا انحصار ہے۔ ہر روز صبح میرے ذہن میں عموما اس قسم کے سوالات پیدا ہوتے ہیں، آج کے سیاسی، سماجی و دنیاوی حالات کیا ہیں۔ کیا کوئی نیا کرنٹ ایشو پیدا ہوا جس کے بارے میں مجھے باخبر رہنا چاہیے۔ پرانے ایشوز پر نئی اپڈیٹ کیا ہے، مجھے اس کے بارے میں جاننے والے ابتدائی لوگوں میں سے ہونا چاہیے۔ کس کی وال پر کس نے کیا لکھا ہے۔ آج سارا دن موسم کیسا رہے گا۔ ویک اینڈ پر موسم کیسا رہے گا۔ کیا اگلے ہفتے بچوں کے سکول میں کوئی ایکٹیوٹی ہے جس میں مجھے شرکت کرنی ہے۔ کوئی فریش سا سٹیٹس اپڈیٹ سوچنا چاہیے۔ کل میری پارٹی میں کس نے کیسا محسوس کیا۔ پرسوں فلاں کی پارٹی کا مینو کیا تھا۔ میں بور ہو رہی ہوں۔ کامیڈی چینل پر کیا لگا ہوا گا۔ کونسی نئی موویز آئی ہیں۔ معلوم نہیں نئی موویز کیسی ہیں ان کا پری ویو چیک کرنا چاہیے۔ میرے پاس ابھی کچھ وقت فارغ ہے۔ ابھی کچھ خاص کام نہیں اگر ہے بھی تو بعد میں ہو سکتا ہے۔اگر میں چائے کے کپ کے ساتھ تھوڑی سی براؤزنگ کر لوں تو کیا حرج ہے۔

اس میں سے کسی بھی سوال کے بعد میں اپنے دماغ کی طرف سے روٹین کی ہاں کی منتظر ہوتی ہوں، جس کے ہلکے سے اشارے پر مجھے اپنی مخصوص کرسی پر اپنے مخصوص ویب سائیٹس یا ٹی وی وغیرہ کے سامنے بس بیٹھنے کی ضرورت ہے۔ اس کے بعد روٹین کا لوپ میرے شعور کو مختلف قسم کو ریواڈز سے مطمعن کرنا شروع کر دے گا۔ یعنی مجھے معلومات حاصل ہو رہی ہیں۔ میں اپنے ساتھیوں کے ساتھ وقت گزار رہی ہوں۔ تفریح میسر ہے۔ وغیرہ۔