3/05/2013

سکرین لیس ڈے 3


ماہرین کے اندازے کے مطابق ایک عام صارف کا سکرین ٹائم دو گھنٹے سے زیادہ نہیں ہونا چاہیے۔ یعنی ایسے لوگ جن کا کام کمپیوٹر وغیرہ سے متعلق نہیں ہے۔ لیکن حیران کن بات یہ ہے کہ وہ لوگ جن کا کام سکرینز سے متعلق نہیں ہے وہ نسبتا کہیں زیادہ وقت سکرین پر صرف کرتے ہیں یعنی پانچ سے آٹھ گھنٹے عموما۔ ایسے یہ بہت زیادہ لگ رہا ہے لیکن اس کو بریک اپ کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ دو ٹی وی پروگرام، یا ایک مووی،(دو گھنٹے)۔ آدھ گھنٹہ کی ایک دو چیٹ(ایک گھنٹہ)، فیس بک پر چار پانچ لوگوں کی وال پر کمنٹ(تیس منٹ)۔،دس ایس ایم ایس(تیس منٹ)، پانچ چھ ٹیگ اور چند ای میل فارورڈ کرنے میں یہ وقت باآسانی خرچ ہو جاتا ہے ۔

پہلا سکرین لیس دن اس چیز کو سمجھنے میں مددگار ہوگا کہ ہمارا سکرین یوزیج پیٹرن کیا ہے۔ بار بار ان چیزوں کی طرف پلٹنے کو جی چاہے گا جو ہم شعوری یا لاشعوری طور پر سارا دن کرتے رہتے ہیں۔ ان کو نوٹ کر لینا بہتر ہے۔ اس کے بعد اس کو بریک اپ کرنے کا پلان بنانا آسان ہو جاتا ہے۔ سکرین ٹائم کو ہم بنیادی طور پر چار حصوں میں تقسیم کر سکتے ہیں۔
کام
تعلیم
تفریح
تعلقات عامہ

لیکن غور کیا جائے تو زیادہ وقت سکرین کے سامنے صرف کرنے والے افراد کا بنیادی فوکس تفریح اور تعلقات عامہ کے زمرے میں زیادہ آ جاتا ہے اور تعلیم اور کام میں کم۔ اس کی ایک مثال ایسے ہو سکتی ہے کہ میں اپنے گھر کے کام کے سلسلہ میں کسی ریسپی کو چیک کرنے آن لائن آؤں اور اس کے بعد گھنٹہ بھر ادھر ادھر کے سائٹ چیک کرتی رہوں یا دوستوں سے بات چیت میں پڑ جاؤں۔ اس طرح کوئی ریکارڈنگ لگانے کے لیے ٹی وی آن کروں پھر آدھ گھنٹہ خبریں سنتی رہوں۔