1/07/2013

سکرین لیس ڈے 1


آئیڈیا پار سال بچوں کے سکول سے جنرل نوٹس والے نیلے کاغذ پر آیا تھا اور کسی طرح "غور طلب" والے ڈھیر میں دبا پڑا تھا۔ نیچے پنسل سے میرا ریمارک لکھا تھا۔
now this should be "ILLEGAL" .

ہرکام آخری کو، یا دو دن بعد یاد آنے اور مسلسل لیٹ فیس دینے، ملامتوں، معذرتوں اور مخاصمتوں سے پیہم گزرتے ہوئے وہ کاغذ مجھے ایک اچھا ایکسکیوز لگا۔ کرکے دیکھتے ہیں۔ ایک دن ہی کی تو بات ہے۔یوم سبت۔۔ اس دن ویسے بھی فرصت کم ہوتی ہے۔

لیکن سکرین اب ایک فارغ وقت کا مشغلہ نہیں ہے۔ ایک طرز زندگی ہے۔ اور طرز زندگی سے ایک دن کے لیے تو کیا، چند گھنٹوں کے لیے بھی نکلنا ممکن نہیں ہوتا۔ صبح سویرے "آج کا موسم" سے لے کر آج کیا پکائیں کی ریسپیز تک، آج کی تازہ خبر سے آج کی مووی تک سکرین زندگی میں اتنی دخیل ہو چکی ہے کہ زندہ رہنے کے دوسرے طریقوں سے ہم اب واقف ہی نہیں رہ گئے۔ کم از کم اپنی حد تک مجھے لگتا تھا کہ اگر ایک دن کے لیے بھی مجھ سے یہ سب، یا اس کا کچھ حصہ چھن جائے تو میری زندگی محال ہو جائے گی۔ سو سکرین لیس ڈے کا فیصلہ میرے لیے ایک مشکل اور بڑا فیصلہ تھا۔ شائد اسی لیے جب میں نے وہ کاغذ دیکھا، وہ دعوت کے دن سے سال بھر پرانا تھا۔ بہرحال وہ دن کسی طرح گزر گیا۔

اس روز مجھے اندازہ ہوا کہ کیسے جانے انجانے تمام وقت میں ٹی-وی، کمپیوٹر، سیل اور کیمرے کی سکرینوں کے درمیان سعی کرتی رہتی ہوں۔فیس بک، ٹویٹر، ایس ایم ایس ، بلاگ، خبریں اور ٹی وی سیریلز میرے دماغ کو ہر دم کیسے مصروف رکھتے ہیں۔ اور وہ بھی کس لیے۔۔ جس چیز کو میں انفارمیشن کولییکشن سمجھ رہی ہوں وہ اصل میں انفارمیشن ری سائیکلنگ ہے۔ یعنی ایک خبر ایک سائیٹ سے اٹھا کر دوسرے پر پیسٹ، ایک بار بار ٹیگ ہوئی پکچر دوبارہ ٹیگ، ایک ٹوئیٹر فیڈ کو شاندار سمجھ کر دوبارہ ٹویٹ، کسی کے لکھے بلاگ متفق ہوتے ہوئے اسی پر میری پوسٹ۔ چین میل، دوبارہ، سہ بارہ استعمال شدہ معلومات کو ہر بار نئے رنگ میں دیکھ کر نئے دن کا آغاز کرتے ہوئے نئے سرے سے جینا بھی ایک آرٹ ہے اورمیں اس میں ماہر ہو چکی ہوں۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں