2/29/2012

بڑی تصویر کی چھوٹی تفصیلات

ہم کرہ ارض کے بے شمار ملکوں میں سے عمومی رقبے کے ایک ملک کی ایک منتشر سی قوم ہیں۔ لیکن ہم بڑے ہی سیاسی لوگ اور مذہبی لوگ ہیں۔ کسی نے ایک دفعہ ہمیں بتایا تھا۔ جدا دین سے سیاست ہو تو رہ جاتی ہے چنگیزی۔۔ اب گو ہمیں چنگیزی اتنی بری نہیں لگتی۔۔ چنگیز خان کے نام کے ساتھ خان لگتا ہے اور بہت سے ہر دلعزیز خان قومی افق پر چھائے رہے ہیں۔۔ ہمیں پسند رہے ہیں۔ پھر چنگیز خان نے ہمیں تیمور لنگ جیسا جی دارو دیندار سیاست دان بھی دیا۔۔ جس کے بارے میں بعد میں ہمیں بتایا گیا۔۔ مل گیا پاسبان کعبہ کو بت خانے سے۔۔ وہ سب ہم مانتے ہیں۔ لیکن دین کو سیاست سے الگ نہیں کرتے بالکل۔ اپنا دینی چینل کھولتے ہیں، سنتے ہیں۔۔ سر دھنے ہیں، پھر اپنا سیاسی خبروں کا چینل کھولتے ہیں۔۔ اپنے پسندیدہ ٹاک شو کے ہاتھوں کی گئی سر پھٹول دیکھتے ہیں۔ اور جب دماغ منتشر اور آنکھیں بھاری ہو جاتی ہیں توکچھ ہلکا پھلکا دیکھ لیتے ہیں۔

لیکن ہم ہمیشہ بڑی تصویر نظر میں رکھتے ہیں۔ دنیا کے چیدہ چنیدہ واقعات پر ہماری نظر رہتی ہے۔ ملک کے اہم سیاسی معاملات، معاشی اتار چڑھاؤ، فوجی غلطیوں کا کل اور آج ہمیں بہت اچھے طریقے سے یاد ہے۔ ہمیں بخوبی ادراک ہے کہ ہم ایک بہت اہم ملک ہیں۔ جس کا کام ہر سپر پاور کو۔۔ جن کو ہم ہی جیسے ملکوں نے سپر پاور کا نام دیا ہے۔۔ اپنی شمشیر کے بل پر پاس پھٹکنے سے روکنا ہے۔۔ ہماری انسپیریشن تو سب کو معلوم ہی ہے۔۔ یعنی بحر ظلمات میں گھوڑے دوڑا چکے ہیں۔ بڑے بڑے معاملات پر مسلسل غور کرتے رہنے کی وجہ سے ہم ہائیپراوپیا کا شکار ہوتے جارہے ہیں۔

ہائیپراوپیا یا فارسائیٹڈنیس طبی زبان میں نظر کی ایسی حالت کو کہا جاتا ہے جس میں قریب کی چیزیں واضح نہیں دکھتیں۔ سماجی زبان میں اسے ویژن کی اسی کمی سے منسوب کیا جا سکتا ہے جس میں ہمیں ایک دوسرے ملک میں ہوتے ہوئے کرکٹ میچ کی تفصیلات کا پورا علم ہوتا ہے لیکن یہ نہیں معلوم ہوتا کہ تین روز سے مسلسل ہونے والی دہشت گردی کے نتیجے میں ہونے والی مارکیٹ ہڑتال کی وجہ سے ہمارے ہمسائے کے پاس کل سے کھانے کا راشن ختم ہو چکا ہے۔ یا کچھ ایسے کہ ہم جانتے ہیں پاک چائینا کے اشتراک سے بننے والے نئے طیارے میں کون کون سی خوبیاں ہیں لیکن ہماری گلی میں چھوٹا سا گندے پانی کا جوہڑ ہمیں نظر نہیں آتا جس پر بھنبھناتی مکھیاں اور مچھر طرح طرح کی بیماریوں کا سبب بن سکتے ہیں۔ یا پھر یہ کہ کن سیاست دانوں کی ڈگریاں اصلی ہیں اور کن کی نقلی، لیکن بچوں کے سکولوں میں پڑھانے والے اساتذہ کو کوئی مدد درکار ہے ہمیں معلوم نہ ہو سکے۔

یہ تو نہیں کہ سکتے کہ سماجی طور پر ہم ایک بے شعور قوم ہیں یا یہ کہ ہم سوچنے سمجھنے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔ ہم ایسے نہیں ہیں کہ ہم نے دنیا دیکھی ہے۔ کیسی کیسی قومیں ہم نے دیکھی ہیں۔۔ سارا سارا دن سونے والی افیونی قومیں۔ ہر اصول کو بالائے طاق رکھ کر آزادیٔ ذات کا نعرہ لگانے والی ہپی قومیں، یا انسانوں کو شودر گردان کر زندگی کا حق نہ دینے والی تنگ نظر قومیں، یا عربی و عجمی کی تفریق کرنے والی گھمنڈی قومیں، یا طاقت کے نشے میں دوسروں کو زندہ نہ رہنے دینے والی متعصب قومیں۔ ہم ایسی قوموں میں شمار نہیں ہوتے۔ ہم شب بیدار، دیندار، روادار، مساوت پسند، عجز کو زندگی ماننے والی رحمدل، بہادر اور اصول پسند قوم ہیں۔ ہاں ایک چھوٹا سا مسئلہ ہو گیا ہے۔۔ ہم بڑے بڑے میورلز کو پرکھتے پرکھتے چھوٹی تفصیلات کو نظرانداز کرنے کے عادی ہو گئے ہیں۔ ہمیں اپنے ارد گرد کیا غلط ہے نظر نہیں آتا۔ اور اس صرفِ نظر نے ہمارے مسائل کی چھوٹی چھوٹی تفصیلات کو ایسا سیلاب بنا دیا کہ پوری قوم ہی اس میں بہ جانے کو ہے۔

ان تمام چھوٹی تفصیلات پر جن پر بڑے بڑے آرٹیکل نہیں چھپتے، ٹاک شوز نہیں بنتے اور دعوتوں میں گرما گرم بحث نہیں ہوتی، فردا فردا بیان کیا جائے تو ایک لمبا عرصہ درکار ہوگا۔ لیکن یہاں پڑھنے والے محض چند سو افراد ان باتوں پر سوچنا شروع کر دیں اور ان کو حل کرنے کا راستہ ڈھونڈ لیں تو ایک بڑی تبدیلی کا آغاز ممکن ہے۔ یہ مسائل ہماری روز مرہ زندگی میں صفائی ستھرائی، تعلیم کی حقیقی ترویج، امداد باہمی، وقت کی قدر اور سچائی سے ہی متعلق ہیں۔

بظاہر ہمارے بہت قریب موجود ان چھوٹے مسائل کو غور سے دیکھنے پر ان کا حل ناممکن لگتا ہے۔ کیونکہ ہم سمجھتے ہیں کہ ہماری حکومت نااہل ہے، اور ہمارے سیاستدان اپنی تجوریاں بھر رہے ہیں۔ اور دوسرے انتظامی ادارے اپنا کام ایمانداری سے نہیں کررہے۔ چلیں پھر بات یہیں سے شروع کرتے ہیں کہ ہم بدتر حالات کے آخری درجے پر ہیں۔ اور ہم نے اپنی بہتری کی ذمہ داری چند اشخاص کے سپرد کی تھی جو اس پر کام نہیں کر پا رہے۔ تو ایک چھوٹا سا سوال اٹھتا ہے۔ یعنی ایک شخص نے دوسرے سے کہا میں ڈوبنے لگوں تو تم مجھے بچا لینا۔ اور وقت آنے پر دوسرا شخص اس کو نہیں بچاتا تو پہلا شخص کیا کرے گا؟؟ کیا وہ آنکھیں بند کرکے ڈوبتا جائے گا؟؟ اور اگر وہ نہ ڈوبے اور کسی نہ کسی طرح بچ جائے تو کب تک وہ اسی دوسرے پر اپنے بچاؤ کے لیے انحصار کرے گا۔ جب زندگی پر داؤ لگ رہا ہو تو یہ جوا بار بار نہیں کھیلا جاتا کیونکہ انسانی سرشت میں سروائیول کی، خطرے سے لڑنے کی ایک فطری حِس رکھی گئی ہے۔ جس کا تعلق نسل انسانی کی بہتری سے بنایا گیا ہے۔

پتھر کے زمانے سے یہی حِس انسان کو اپنی حالت بہتر بنانے پر مجبور کرتی رہی ہے۔ انسان نے جب پہلی پہلی بستیاں بنائی تھیں تو ٹیم ورک وجود میں آیا تھا۔ وہی ٹیم ورک اب ایک محلے، ایک گلی، ایک شہر، ایک ملک میں کام آسکتا ہے۔ ہمارے ان چھوٹے مسائل کا حل ہماری مشترکہ کوششوں میں ہے جہاں ہم کسی بھی ان ریلائیبل شخص یا ادارے پر انحصار چھوڑ کر اختیار اپنے ہاتھوں میں لے لیں۔

ہم خود وقت کی پابندی شروع کرسکتے ہیں، وقت کی قدر میں اضافے سے ہمارے پاس بہت سا وقت بچ جائے گا جسے تعمیری سرگرمیوں میں استعمال کیا جا سکتا ہے

ہم خود اپنے محلے کو صاف رکھنے کا صفائی چارٹ بنا سکتے ہیں۔ سڑک ٹوٹنے یا لائیٹس خراب ہونے کی صورت میں پیسے جمع کرکے اسے خود ٹھیک کر سکتے ہیں۔

روزگار کے لیے ایک دوسرے کو اپنی کمپنیوں میں مواقع دے سکتے ہیں۔ شادیوں کے لیے انسانی سیرت کو معیار بناسکتے ہیں۔ ان کے انعقاد کے لیے ایک دوسرے کی مدد کر سکتے ہیں

ہم اپنے فارغ اوقات میں اپنے بچوں کے سکول میں رضاکار امداد دے سکتے ہیں۔ تاکہ اساتذہ پر کام کا بوجھ کم ہو اور وہ بہتر طریقے سے اپنے فرائض ادا کرسکیں۔

ہم مقامی ٹیمز بنا کر بچوں کے کھیلنے کے لیے جگہیں اور دوسرے وسائل مہیا کر سکتے ہیں۔

ہم کار پول کرکے ایک ہی کار میں ایک سے زیادہ افراد مختلف جگہوں پر جا سکتے ہیں جس سے ٹریفک کا رش کم اور وسائل کی بچت ہو

ہم بیماریوں کی روک تھام کے لیے خود ڈاکٹرز سے رابطہ کرکے کیمپ ارینج کر سکتے ہیں۔

ہم مقامی سکولوں کو ترویج دے کر اچھا سکول بنا سکتے ہیں۔ مل جل کر ان میں ضرورت کی چیزیں مہیا کر سکتے ہیں اور بڑے سکولوں کی بڑی فیسوں کی حوصلہ شکنی کر سکتے ہیں۔

جن لوگوں کے پاس جنریٹر یا متبادل بجلی کی سہولت مہیا نہیں ان کے لیے یہ سہولت مل جل کر خرید سکتے ہیں

مقامی وسائل جمع کر کے مہنگے وسائل زندگی خرید کر ارزاں قیمت پر فروخت کر سکتے ہیں۔ تاکہ کوئی شخص بھوکا نہ سوئے۔ کسی کی زندگی رائگاں نہ ہو۔

پہلے چھوٹے لیول پر ارگنائز ہوکر ہم چھوٹی تبدیلیاں لا سکتے ہیں اور پھر بڑی تبدیلوں کے لیے لڑ سکتے ہیں۔ تبھی ہم بہتر کے لیے بارگین کر سکتے ہیں۔

ان چھوٹی چھوٹی باتوں کے لیے کسی حکومت کی ضرورت نہیں ہوتی۔ ان کے لیے صرف ایک تعمیری جذبے کی ضرورت ہوتی ہے۔ احسان اور رواداری کی ضرورت ہوتی ہے۔ اپنی دو روٹی کو مل بانٹ کر کھانے، کھلے میں چٹائی ڈال کر علم بانٹنے اور سیکھنے، صفائی کو نصف ایمان سمجھنے اور صرف خدا پر توکل کرنے کا جذبہ جب بھی بیدار ہوتا ہے محض مٹھی بھر منظم لوگ دنیا کی سب سے بڑی سلطنت کی داغ بیل ڈالتے ہیں۔ پھر وہ لوگ کبھی نہیں ہارتے۔ اور ہاں۔ وہ بحر ظلمات میں گھوڑے بھی دوڑا دیتے ہیں لیکن اب ویسے سب میرین کا دور ہے۔

2/06/2012

کھیل تہذیب (سولائزیشن)۔

کمپیوٹر گیمنگ کے شائقین سولائزیشن کے نام سے بخوبی واقف ہوں گے۔ نقاد دو عشرے سے سٹریٹیجک گیمز کے زمرے میں اسے متفقہ طور پر سب سے زیادہ کھیلی جانے والی۔۔ یا سب سے زیادہ بکنے والی گیم قرار دیتے ہیں۔ چار ہزار قبل مسیح سے موجودہ دور تک کی تہذیب کو ہماری انگلیوں کی جنبش پر لا گرانے والا تہذیب کا یہ کھیل ہر کھیلنے والے کو اپنے وسیع کینوس، لا محدود امکانات اور مستند حوالوں سے موہ لیتا ہے۔

ابتدائی طور پر کھیل جیتنے کے زیادہ تر عوامل مطلق العنانی پر مشتمل تھے لیکن نئے ورژنز میں حتمی سکورنگ کو کثیر جہتی کر دیا گیا ہے۔ اب جیت سفارتی و سیاسی، سماجی و ثقافتی، تحقیقی و سائنسی بھی ہو سکتی ہے۔ لیکن اس میں کھلاڑی کو دوسری تہذیبوں سے بڑھ کرکچھ کر دکھانا ہوتا ہے۔ ویسے جیت کا ایک منظر نامہ یہ بھی ہے قوم کی آبادی کا حصہ پوری گیم کی آبادی میں قریبا پینسٹھ فیصد ہو، یا وہ اسی قدر رقبے پر قابض ہو جس کے نتیجے میں علاقے اور آبادی کے وسائل بھی اس کو مہیا ہو جاتے ہیں۔

لیکن یہ اتنا سادہ نہیں جتنا سم سٹی کا پہلا ہرا خالی قطعہ نظر آتا تھا۔ تہذیب کے قوانین دشوار، مخالف مشکل اور حرکات پیچیدہ ہیں۔ کمپیوٹر کے پیدا کردہ شہر آپ کے متوازی چلتے ہیں۔ ان کے لیڈروں کا رویہ پیداواری صلاحیت، عصری حکمت، فوجی ترجیحات اور توسیع پسندانہ عزائم کا ایک منفرد مجموعہ ہو سکتی ہے جسے سمجھنے کے بعد ہی کوئی بھی تہذیب اپنی بقا اور ترقی کے لیے ایک راستہ وضع کر سکتی ہے۔ مبصر کبھی کبھی اسے گاڈ گیم کہتے ہیں۔ لیکن تصویریں جتنی بھی حقیقی ہوں کھلاڑی کے اختیارات کو محدود کرنے کے لیے اندر ہی اندر کئی عوامل کام کرتے ہیں جن کوہر بار تھوڑا اور سمجھنے کے بعد پھر نئے سرے سے کھیلنے کے لیے تازہ دم ہونا پڑتا ہے۔

اپنے دشمن (اور دوست) چننے کے بعد جب ہم چار ہزار قبل مسیح سے اپنا سفر شروع کرتے ہیں تو ہمارے پاس ایک قطعہ زمین اور چند لٹے پٹے مسافروں کے علاوہ کچھ نہیں ہوتا۔ سب سے پہلا مسئلہ تو ظاہر ہے سیٹلمنٹ ہوتا ہے۔ جس کے ساتھ ساتھ شہریوں کے رہنے کھانے اور لٹیروں سے بچاو کا فوری انتظام کرنا ہوتا ہے۔ سٹی سٹیٹس کو ترقی دینے کے لیے چند بنیادی مطلوبات کی ضرورت ہوتی ہے۔ جس میں اطراف کی زمین کے وسائل کی دریافت اور ان کو استعمال میں لانے کے طریقے وضع کرنا اور علم کا حصول ہے۔ اس دوران دوسری قومیں بھی اپنی چال چلتی رہتی ہیں۔

گو کھلاڑی کی جیت میں اس بات کا بڑا ہاتھ ہے کہ اس نے کھیلنے کے لیے کونسی قوم چنی ہے اور اس کے ہمسائے کون ہیں کیونکہ کچھ قوموں کو جان بوجھ کر دوسری قوموں پر کسی نہ کسی طور برتری دی گئی ہے۔ لیکن قانون کو سمجھ لینے کے بعد کسی بھی قوم کو اوج کمال تک پہنچایا جا سکتا ہے۔ ویسے پہیے کی ایجاد سے نیوکلیر دریافتوں اور الفا سینچری تک کے خلائی سفر کو آسان کرنے کا ایک طریقہ یہ بھی ہے کہ کھیل کو ایزی پر سیٹ رکھا جائے۔ جلد یا بدیر منزل آ جاتی ہے۔

کھیل کی آسانی یا دشواری کا براہ راست تعلق کھلاڑی کے چنیدہ علاقے کے قدرتی ذخائر اور متعلقہ قوم کے تاریخی ورثہ اور پس منظر کے علاوہ دوسری قوموں کی عسکری و دیگر پیش رفتوں اور عوام کے نظم و ضبط اور خوشی سے ہے۔ لیکن ان تمام پہلووں کا فردا فردا جائزہ لینا بہتر رہے گا۔

شہر اور شہری

کچھ علاقے قدرتی وسائل میں قدرتی طور پر مالدار ہوتے ہیں۔ کچھ اناج وغیرہ کی پیداوار میں خود کفیل ہوتے ہیں مثلا دریاوں کے کنارے بسنے والی قومیں۔ ایسے مقامات پر بسنے والے شہروں کو باقی قومیتوں پر ایک مخصوص ابتدائی برتری حاصل ہو جاتی ہے۔ لیکن جوں جوں کھیل کو مشکل کرتے ہیں یہ عوامل کم ہو جاتے ہیں۔ دوسرا بڑا فیکٹرعوام کی قناعت پسندی ہے۔ آسان سیٹنگ پر عوامی خوشی کی مقدار زیادہ اور مشکل پر کم ہوتی ہے۔ ایسے ہی کسی دیے گئے درجے پر قانع شہریوں کی ایک مخصوص تعداد موجود ہوتی ہے۔

شہر اپنے اردگرد واقع ایک مخصوص حد کو متاثر کرتے ہیں۔ اور انہی مقامات پر خوراک کی پیداوار، نقل وحمل کی تشکیل وغیرہ کی جا سکتی ہے۔ اردگرد کے مقامات پر کام کرکے ان کو اپنی ضرورت کے مطابق قابل استعمال بنایا جاسکتا ہے۔ لیکن اس کا شہر کے حیطہء عمل میں ہونا ضروری ہے۔

شہروں کی بقا، پرداخت اور ترقی میں خوراک کی پیداوار سب سے اہم ہے۔ بلکہ اس کی آبادی کا اضافہ کا بھی پیداوار ہی سے راست تناسب کا تعلق ہے۔ خوراک کی پیداوار میں کمی یا خاتمے اور گوداموں کی تباہی وغیرہ سے شہر کی بقا کا حقیقی جواز ختم ہو جاتا ہے۔

جیسے خوراک شہر کے حجم وغیرہ کو بڑھاتی ہے، تجارت اس کو مستحکم کرتی ہے۔ تجارت اور لین دین کا پیداواری کھاتا ریسرچ، ریوینو اور اشیائے تعیشات کے زمروں میں حسب ضرورت تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ ایسے ہی شہریوں کو مختلف اقسام میں بانٹا جا سکتا ہے۔ جن میں کاریگر بنیادی حیثیت کا حامل ہے جو خوراک اور تجارت کرنے کے لیے ضروری ہے۔

اس کے علاوہ شہری سائنسدان، سول انجنیرز، محصول کنندگان اور پولیس پر مبنی ہوتے ہیں۔ شہریوں کو مخصوص شعبہ جات تفویض کرنے سے ان کا شہر کی بنیادی یا تجارتی پیداوار میں حصہ کم ہو جاتا ہے لیکن اس سے سائینسی اور ریسرچ کے منصوبوں اور پیداوار اور محصول اور تعیشات زندگی میں اضافہ ہوجاتا ہے۔ اہم نوعیت کی عمارات اور ونڈرز بنانے کی رفتار بھی بڑھ جاتی ہے۔ پولیس کا کردار شہری کرپشن کم کرنے کے لیے ضروری ہوتا ہے۔ دوسری طرف اگر شہر میں ان مخصوص کاموں کے وسائل، ذرائع یا مواقع کم ہوں تو اضافی شہری اینٹرٹینر بن جاتے ہیں۔ اور شائد دن رات سٹینڈ اپ کامیڈیز تیار کرتے رہتے ہیں۔

شہری مشنری، جاسوس یا سیٹلر بھی ہو سکتے ہیں۔ جن کو دوسرے علاقوں میں بیجھ کر متعلقہ فوائد اٹھائے جا سکتے ہیں۔ جاسوس مخالفین کے مشن کی معلومات لینے، پروپیگنڈا کرنے اور ان کے مشن سبوتاژ کرنے وغیرہ کے لیے بہت اہمیت رکھتے ہیں۔ سیٹلر نئے شہر بسانے کا کام کرتےہیں۔ مشنری مذہب کی ترویج کرتے ہیں۔ پوری مملکت میں ایک مذہب کی اکثریت کے فوائد ہیں۔ اور یہی مشنری دوسرے علاقوں میں کلچر فلپنگ کا کام بھی کرتے ہیں۔


شہریوں کی ایک بڑی تعداد کا کسی نہ کسی صورت خوش یا قانع ہونا ضروری ہے کیونکہ اگر ان کی ایک بڑی تعداد ناخوش ہوجائے تو سول ڈس آرڈر شروع ہو جاتا ہے۔ یہ شہر کو کمزور کرنے والا ایک بہت اندرونی فیکٹر ہے جو خوراک یا ریوینو کی کمی وغیرہ جیسے عناصر ہی کی طرح بالاخر شہروں کی بقا کو لاحق ایک بڑا خطرہ بن سکتا ہے۔ یہاں بھی ایک آسان شہر میں خوش یا قانع شہریوں کی تعداد زیادہ ہوگی اور ایک مشکل شہر میں ناخوش افراد بکثرت پائے جائیں گے۔

سول ڈس آرڈر یا خانگی انتشار میں خوراک کی پیداوار تو کم و بیش جاری رہتی ہے لیکن کسی قسم کی تجارتی یا سائینسی پیداوار وغیرہ ممکن نہیں رہتی۔ اور شہر کا انتظام زیادہ مشکل ہو جاتا ہے۔ فوری علاج کے لیے کھلاڑی سائینسی ریسرچ فنڈز کو کم کرکے تفریحی مواقع زیادہ کر سکتا ہے۔ لیکن اس کے دور رس نتائج میں ریسرچ کی رفتار کم ہو جاتی ہے۔ اس کے علاوہ ہر نئے شہر میں اچھے تفریحی مقامات یا جن کو ونڈرز کا نام دیا جاتا ہے کا اختیار استعمال کیا جاسکتا ہے۔ ایک طریقہ ملٹری فورس کا استعمال بھی ہے جس سے شہریوں کو ڈسپلن کیا جاتا ہے۔ لیکن ایسی صورت میں شہریوں کی خوشی میں خاطر خواہ اضافہ ممکن نہیں ہے۔

انتشار کے برعکس ایک اچھے منظم شہر میں شہری خوش ہوکر"وی لو دا کنگ ڈے" کا اہتمام کرتے ہیں جو آپس کی بات ہے ایک بہت ہی خوشکن احساس پیدا کرتا ہے۔ ایک شہر کے مالی ذخائر زیادہ ہونے اور کلچر مضبوط ہونے سے اس کا دائرہ اختیار خود بخود بڑھتا جاتا ہے۔

باقاعدہ فوج کے علاوہ شہر اپنا دفاع خود بھی کر سکتے ہیں۔ اور ناکامی کی صورت میں اسے لوٹا یا تباہ کیا جا سکتا ہے۔ تیسری صورت میں کٹھ پتلی شہر کا درجہ دیا جا سکتا ہے۔ آخری صورت میں گو اختیارات کی منتقلی نہیں ہوتی لیکن اس کے جملہ وسائل پر حملہ آوور کو اختیار ہو جاتا ہے۔

ثقافت، مذہب اور قومیت

ثقافت ایک طرح سے قوم کی سرحد کا تعین کرتی ہے۔ اور اسی کی مدد سے دوسرے شہروں، تہذیبوں وغیرہ پر اثر انداز ہوا جا سکتا ہے۔ اس سلسلہ میں کلچر فلپنگ کی اصطلاح سامنے آتی ہے۔ یعنی کسی علاقے کا کلچر اتنا بہترین بنا کر پیش کیا جائے کہ دوسرے ویسا بننے کی خواہش کرنا شروع کردیں۔ اس کی مدد سے ہمسایہ شہروں پر کسی بھی فوج کے بغیر پر امن قبضہ جمانا ممکن ہے۔ اور مفتوحہ شہر کی عمارات وغیرہ تباہ نہیں ہوتی۔ اس سے عالمی کمیونٹی میں کھلاڑی کو منفی کی بجائے مثبت ریپوٹیشن ملتی ہے۔ اس کا کلچر ٹوٹل زیادہ ہو جاتا ہے۔

مذہب تہذیب کا ایک اہم حصہ ہے۔ نئے ورژن میں مخصوص نوعیت کی عبادتگاہیں بنانے کی اپشن بھی رکھی گئی ہے تاکہ شہروں کے کلچر اور خوشی میں اضافہ کیا جا سکے۔ ایک جیسے مذاہب والی قوموں میں اتفاق رائے اور سفارتی تعلقات کی نوعیت بہتر ہوتی ہے۔ جبکہ مختلف مذاہب والی قوموں میں قدرتی دشواری رکھی گئی ہے۔ کسی مخصوص مذہب کے ایک شہر میں پھیل جانے کے بعد اسے ختم نہیں کیا جاسکتا۔ تاہم شہروں میں مذہب کی موجودگی بہت سے دورس فوائد کی حامل ہوتی ہے۔

قومیت بنیادی طور پر چنی گئی تہذیب سے متعلق ہوتا ہے۔ اسی نظریے کی بنیاد پر کھیل میں جنگ اور انقلاب وغیرہ کے عوامل کو پیچیدہ بنایا گیا ہے۔ ایک قوم کے شہری جہاں پیدا ہوتے ہیں اس سے فطری لگاو رکھتے ہیں اور جب ان شہروں پر قبضہ ہوتا ہے تو وہ نئے کلچر کا حصہ بننے میں وقت لیتے ہیں۔ جس کا انحصار اس نئی تہذیب کے کلچر کی مضبوطی پر ہے۔ کمزور کلچر ان لوگوں کو خود میں سمو نہیں پائے گا اور ان میں بغاوت ہونے کا خطرہ رہے گا گو وہ معاشرے میں اپنا کردار ادا کرتے رہیں گے۔ اسی طرح مقبوضہ فوج کی کارکردگی بھی مقامی فوج سے کم ہوتی ہے۔

تحقیق

سائینسی ترقی اور تحقیق کھیل کو آگے چلاتے رہنے کے سب سے بنیادی عوامل میں سے ایک ہے۔ اس کے بغیر رہنے سہنے کے نئے طریقوں سے واقفیت، نئے وسائل کی تلاش اور استعمال اور تجارت میں اضافہ ممکن نہیں۔ نئے ونڈرز کی تعمیر ممکن نہیں ہے۔ فوج کو نئے زمانے سے ہم آہنگ کرنا بھی ممکن نہیں ہے۔ اس کے بغیر دوسری تہذیبوں سے باعزت ڈیلینگ ممکن نہیں ہے۔

پرانے ورژن میں تحقیق اور ٹیکنالوجی کی تجارت، چوری اور تبادلہ وغیرہ موجود تھا۔ لیکن اس کو جوائینٹ ٹیکنالوجی وینچرز سے بدل دیا گیا ہے۔ باہمی امن سے رہنے والی تہذیبیں مساوی رقوم سے سائٰنسی منصوبے تیار کرسکتی ہیں جس سے ہر دو کو باہم فائدہ ہو اور اس کی معیاد ان کے درمیان موجود امن کے قیام تک ہے۔ اس کا دوسرا طریقہ اپنے مخالف کو کسی مہنگے منصوبے میں الجھا دینا ہے جبکہ کھلاڑی کو جنگ کی تیاری کے لیے وقت وغیرہ درکار ہو۔

ہتھیار، فوج اور جنگ

جنگ و جدل کے بغیر تہذیب کا کھیل ادھورا ہی رہ جاتا۔ نئے ورژن میں جنگ کو زیادہ حقیقی رنگ دینے کے لیے ایک گیم ٹائل پر ایک ہی یونٹ کو ٹہرانے کی گنجائش ہے۔ جس سے جنگ کو ایک بڑے خطے پر پھیلانے اور مورچہ بندی کا حقیقی تصور دینے میں آسانی ہو گئی ہے۔

کھلاڑی جتنا بھی امن پسند ہو، اپنے اطراف کی قوموں سے جتنے بھی امن معاہدے کرلے، جیتنے کی حکمت عملی کوئی بھی ہو جنگ درپیش ہو ہی جاتی ہے۔ یہیں سے اس کی یونٹس کو تجربہ حاصل ہوتا ہے۔ ہر مخصوص یونٹ کی حملہ اور دفاع کی ایک مخصوص صلاحیت ہوتی ہے۔ اور حملہ آوور کے سامنے اسی صلاحیت کا امتحان ہوتا ہے۔ علاقے کی دشواری، دریاوں کی موجودگی، قلعہ بندی وغیرہ کو کھلاڑی اپنے حق میں استعمال کرسکتا ہے۔ اور اس کے مخصوص بونس ہیں۔ مثلا پہاڑوں میں لڑنا میدانوں میں لڑنے کی نسبت دشوار ہے تو اس سے دفاع مضبوط ہوگا وغیرہ۔

چونکہ جنگ کی ہار جیت کا فیصلہ لونگ رن میں نقصانات کے تخمینے وغیرہ سے ہوتا ہے اس لیے کبھی کبھی ممکن ہے کہ بظاہر پسماندہ نظر آنے والے اپنی حکمت عملی یا اوپر بتائے گئے عوامل کی مدد سے جنگ کے حتمی فاتح قرار پائیں لیکن یہ بار بار نہیں ہوتا۔ کسی بھی دی گئی صورتحال میں اگر حملہ آوور تہذیب یا دہشتگرد (باربیرین) ٹیکنالوجی اور ہتھیاروں میں کھلاڑی سے بہتر ہیں تو اس کا مقابلہ صرف جوش و جذبے، ڈپلومیسی یا تاوان سے نہیں ہوسکتا۔ ایسے میں تلواروں سے لڑنے والے نائٹ نیوکلیر لانچر یا کروزمیزائل کی بمباری کا مقابلہ نہیں کر سکتے۔ پھر خواہ ہم اس علاقے پر چار سوسال سے حکمران ہوں یا چار ہزار سال سے، فوجی پسماندگی کے نتیجے میں ہماری امن پسند تہذیب صفحہ سکرین سے ایسے مٹ جاتی ہے جیسے کبھی تھی ہی نہیں۔

ایک یونٹ کی تیاری میں کافی وقت، محنت اور وسائل درکار ہوتے ہیں۔ تجربے کی بنیاد پر ان کے چار درجات ہوتے ہیں اور سب سے زیادہ تجربہ کاریونٹ ایلیٹ کہلاتی ہے جس کے ہٹ پوائینٹ پانچ ہیں۔ اسی یونٹ سے لیڈر اٹھتے ہیں۔ عملی جنگ کے وقت ان کی کارکردگی باقی یونٹ ہی کے برابر ہوتی ہے۔

اگر کھلاڑی اپنی فوج کو وسائل سے سپورٹ نہ کر سکے تو اس کویونٹ ڈس بینڈ کرنے پڑتے ہٰیں۔ ابھی تک کھیل میں ایسی فوج بنانے کی آپشن نہیں ہے جو اپنے بنائے ہتھیار بیچ کر یا امن دستے بھیج کر اپنے اخراجات کے لیے خود رقم مہیا کر سکے۔ کھیل کے تمام تر ریسورسز مرکزی ہیں اور وہیں سے نئے ہتھیار، ٹیکنالوجی کی فراہمی اور یونٹس کی تیاری وغیرہ کا اہتمام ہوتا ہے۔

گیم چیٹ اور کامیابی

کھیل میں ثقافتی اثرات، کرپشن، ناخوشی کے اضافہ، دہشت گردوں کے حملے، جاسوس، مشنری اور سٹی سٹیٹ (چھوٹی خودمختار ریاستیں) وغیرہ کو کمپوٹر کی سائیڈ سے کھلاڑی کے خلاف استعمال کیا جاتا ہے۔ دوسری طرف انہی عوامل کو کمپیوٹر اپنے حق میں استعمال کرکے پانسا اپنے حق میں پلٹ سکتا ہے۔ ایسے لگتا ہے اس کے شہری ہمیشہ زیادہ خوش، کرپشن ہمیشہ کم، جاسوس زیادہ مستعد اورکلچر زیادہ مضبوط نظر آتا ہے۔

کھیل کو جیتنے کے چند ہی طریقے ہیں۔ یا تو کھلاڑی ہر دوسری تہذیب کوملیامیٹ کر دے یا اپنی آبادی اور وسعت کے ذریعے دنیا کے چھیاسٹھ فیصد حصے پر قابض ہو جائے یا اس کا کلچر اتنا بااثر ہو کہ ہر شخص اس میں شامل ہونا چاہے یا سفارتی کامیابیاں اتنی بڑھ جائیں کہ یواین میں اسے لیڈر چن لیا جائے یا پھر سائینسی ترقی میں دوسروں سے بہت آگے نکل جائے۔

کھیلنے سے پہلے ہمارے نظریات تہذیب کے بارے میں کچھ سرسری ہوتے ہیں جیسے کہ ابتدائی تہذیبیں زیادہ تر دریاوں کے کنارے کنارے بسا کرتی ہیں۔ تاریخ کے بارے میں خیالات جذباتی تاریخی ناولوں کی گرد میں اٹے سے ہوتے ہیں۔ اور یہ درست ہے کہ تہذیبیں بستی ہیں پھر ریگزاروں سے اٹھنے والے بگولوں کے ہاتھوں اجڑتی ہیں۔ جنگیں شروع ہوتی ہیں پھر ہار جیت سے ختم ہوتی ہیں۔ لوگ مرتے اور جیتے ہیں۔ سرحدیں بنتی ہیں اور بگڑتی ہیں۔ لیکن اب بغیر پلاننگ اور وسائل کی سٹریٹیجک تقسیم کے کمپیوٹر سکرین کا ایک انچ کا قطعہ بھی زیادہ دیر تک آباد نہیں رکھا جا سکتا۔

غلطیوں کی اس کھیل میں گنجائش نہیں ہے۔ ہمارے مخالف(اے۔آئی)۔ حکمران شطرنج کے شاطر اور گھاک کھلاڑی کی طرح اپنی چال چلتے ہیں۔ بظاہر تمام قوانین پر عمل کرتے ہوئے۔ لیکن جب ہم دیکھ نہیں رہے ہوتے وہ جیت کے طویل المعیاد منصوبہ جات تیار کر رہے ہوتے ہیں۔ وہ اپنے شہروں کی بہبود کو بہتر سے بہتر بنا رہے ہوتے ہیں۔ جب ہم دیکھ نہیں رہے ہوتے وہ سائینس کی نئی دریافتوں کا اعلان کرتے ہیں۔ وہ سفارتی تاروپو میں الجھے ہوتے ہیں۔ پھر ہمارے حامی ہمارے مخالفین کے ساتھ کھڑے نظر آتے ہیں۔ ہمارے کلچر فلپ ہو جاتے ہیں۔ جب ہم دیکھ نہیں رہے ہوتے وہ جنگ کی پوری تیاری کیے سامنے آ کھڑے ہوتے ہیں۔ جب ہم دیکھ نہیں رہے ہوتے وہ کہیں نہ کہیں سے ہمیں کمزور دیکھ کر ایک آخری وار کرتے ہیں۔ پھر ہمارے شہر برباد، یونٹ ڈس۔بینڈ اور حکمران شہید اور لوگ بےآسرا ہو جاتے ہیں۔ ہم بے یقینی اور بے بسی سے کمپیوٹر سکرین کو دیکھتے ہیں۔ موسیقی کی لے کچھ اور اونچی کرتے ہیں۔ ہمت و حوصلہ دوبارہ جمع کرکے کھیل ری۔سٹارٹ کرتے رہتے ہیں۔۔۔ ورژن کوئی بھی ہو بنیادی اصول قریبا ایک سے ہیں۔۔۔ اینڈ گیمز آن