5/23/2011

کمیونیکیشن گیپ

ہر چند لمحوں کے بعد میری سانس ایک ثانیہ کو تھوڑی سی رک سی جاتی ہے۔ آنکھیں چوڑی ہوجاتی ہیں۔ میں جہاں ہوتی ہوں، تھم جاتی ہوں پھر خیال کی رو واپس پلٹا کر سانس لینے کی شعوری کوشش کرتی ہوں۔ ویسے تو جس ساحلی علاقے میں میں مقیم ہوں درختوں کی کثرت کی وجہ سے حبس زدہ گرم دنوں میں یہ عام سی بات ہے۔۔ سانس کا لمحے دو لمحے کے لیے رک جانا۔ لیکن بات وہ نہیں ہے کہ گرم دن  ابھی شروع نہیں ہوئے۔ بات اصل میں کیا ہے مجھے ابھی سمجھ ہی نہیں آیا۔

ایک عام سے دن کی عام سی کہانی میں اصل بات ڈھونڈنا اتنا مشکل تو نہیں۔ لیکن مجھے مشکل ہو رہی ہے۔ یہ کل کی کہانی ہے۔ میرے بیٹے کو گولڈ میڈل ملنا تھا۔ یہاں جس جگہ میں رہتی ہوں ہر موقع کو ایک بڑا موقع بنا لیتے ہیں۔ خود ہی سٹیج سجاتے ہیں، ایک دوسرے کی مدد سے انعامات اکھٹے کرتے ہیں اور ایک دوسرے کو بانٹ دیتے ہیں۔ اس سب کو وہ حوصلہ افزائی کہتے ہیں۔۔ کردار سازی کا کام۔ بس ایسی ہی کچھ زندگی ہے یہاں کی۔ ایک بات کی پڑتال کی۔ نتائج اخذ کیے پھر اپنی زندگیوں کو اس کے گرد بن لیا۔ اگر نتائج غلط ثابت ہوں تو اسے پیچھے چھوڑ کر کسی نئے مرکزی خیال کو جینا شروع کر دیا۔ ایسے میں کبھی پلٹ کر وہیں پہنچ جاتے ہیں جہاں سے سفر شروع ہوا تھا۔۔ اپنے تجربے کا نام دے کر۔۔
 

نئی ریسرچ میں معلوم ہوا ہے کہ کتاب نئی نسل کی زندگی سے نکلتی جا رہی ہے اور کتاب کے بغیر سوچنے، سمجھنے اور سیکھنے کا عمل رک جانے کا خدشہ ہے تو کتاب میلے سجانے شروع کیے۔۔ انہی میں سے ایک یہ ہے۔ سال بھر میں ایک سو بیس سے زیادہ کتابیں پڑھنے یا والدین سے سننے پر چھوٹے بچوں کو وہ میڈل کا حقدار قرار دیتے ہیں۔ پھر وہ کانسی کا یا چودہ کیرٹ سونے کا پانی چڑھا تمغہ کاغذ کے ایک ٹکرے کے ساتھ اعزاز کرتے ہیں جو ان ہی کے والدین کے ہاتھ انہیں ملتا ہے۔ کوئی بھی پیچھے نہیں رہنا چاہتا تو بیشتر اوقات  نتیجہ سو فیصد ہوتا ہے۔ یہ عموما والدین اور بچوں کے لیے خوشی کا موقع ہوتا ہے۔ اور سکول کے لیے بھی۔۔ تقریب کا اختتام عموما ساتھ کے کمرے میں بکتی نئی کتابوں کے پاس والدین کے ہاتھ کھینچتے  ہوئے بچوں کی مسلسل ضد، والدین کی چڑھتی تیوری اور گفٹ بکس کے بھرے ڈبوں پر ہوتا ہے۔
تین سو بچوں کے والدین یا دوسرے رشتہ داروں کی موجودگی میں دس بارہ لوگ تو ایسے ضرورہوتے ہیں جن سے آپکی بات چیت ہوتی ہے۔ بچوں کے دوستوں کے والدین۔ ان کے استاد۔ ان کے کوچ۔ لیکن اس میں ایسی کوئی بات نہیں جس کو خاص سمجھا جائے۔ ہاں رینا کا ملنا الگ بات ہے۔ لیکن شائد نہیں۔ اس کا بیٹا میرے بیٹے کا ہم سن ہے۔ وہ کنڈرگارٹن سے ایک دوسرے کے ساتھ ساتھ ہیں۔ اور سیکشن تبدیل ہونے کے باوجود بریک میں ایک دوسرے سے مل کر کھیلنا ان کے ہفتہ واری معمولات میں سے ہے۔ اور وہ مسلم نام والا ایک ہی لڑکا ہے جس سے میرے بیٹے کی تین سالوں میں بات ہوئی ہے۔

ویسے اس علاقے میں مسلمان زیادہ نہیں ہیں۔ اور جو ہیں وہ بھی پبلک سکولوں میں بچوں کو بھیجنا پسند نہیں کرتے ۔ زیادہ تر لوگ اسلامی سکول ہی میں بچوں کو بھیجتے ہیں۔  پبلک سکول میں کسی مسلمان بچے کا ملنا غیر معمولی ہی ہے اسی وجہ سے میں سکول کے علاوہ بھی اسے کبھی کبھی گھر بلا لیتی تھی۔ دونوں بچے دیر تک مل کر کھیلتے رہتے۔ لیکن یہ بہت دن پہلے کی بات ہے۔ دو سال پہلے کی۔ اگلی جماعت میں چڑھنے کے بعد ان کے نئے دوست بنے۔ اور وہ بیسٹ فرینڈز سے ایکس بیسٹ فرینڈز ہو گئے۔ اور اس سے اگلی جماعت میں ان کے سیکشن بھی الگ ہو گئے اور بات صرف دور سے ہاتھ ہلانے پر آ گئی۔

دو سال پہلے ہی میری رینا سے بات چیت کا آغاز ہوا تھا۔ اور اس میں کچھ گرمجوشی آگئی جب اس کے شوہر نے فٹبال کی کوچنگ شروع کی تو میرے بیٹے کا نام بھی اسی ٹیم میں آگیا تھا۔ اور وہ دونوں بچوں کے بیسٹ فرینڈ ہونے کے دن تھے۔ بظاہر رینا کے اور میرے حلیے، خیالات اور انداز گفتگو اور زندگیوں میں فرق ہونے کے باوجود ہمارا تعلق تھوڑا سا بڑھ گیا۔۔ میرے فونوں میں اسکے فونوں کے نمبر اور مائی سپیس یا فیس بک میں دوستوں کی فہرست میں ایک دوسرے کے نام۔ وہ ایک اطالوی ریسٹورنٹ میں فوڈ سپیشلسٹ کا کام کرتی ہے۔ فٹبال کھیلنا چھوڑنے کے بعد فیلڈ میں ہونے والی اتفاقیہ ملاقاتیں کم ہو گئیں۔ اور پچھلے سال تو بالکل ہی چھٹ گئی۔

اس کے شوہر سے میری سلام دعا سے زیادہ کبھی بات نہیں ہوئی لیکن رینا کی بات چیت سے ہی مجھے اس کے کچھ عرصہ بیمار رہنے کا معلوم ہوا۔ ایسے ہی جیسے اور بہت سی چھوٹی چھوٹی باتیں جو عورتیں عموما ایک دوسرے سے کرتی ہیں۔۔  بیماری کی وجہ سے اس کے کتنے روزے چھٹ گئے۔ انہوں نے عید کس جگہ کی۔ یا یہ کہ اس نے رینا کو کبھی مذہب بدلنے کے لیے نہیں کہا۔ لیکن وہ اس پر سوچ رہی ہے۔ مجھے لگتا تھا کہ اتنا کافی ہے کہ وہ زندگی کے ہر سلسلہ میں اس رستے سے جڑی ہوئی جو اسے نجات کی جانب لے جائے گا جب نجات دہندہ کی مرضی ہوگی۔ میں نے کہا تھا میں اس کی کسی بھی قسم کی مدد کے لیے حاضر ہوں۔

اور پھر میں بہت دن غیر حاضر رہی۔ کل ملنے سے پہلے میں بہت سے دن اس سے نہیں ملی۔ غیر متوقع ملنے کی خوشی میں اس کے گلے لگتے لگتے میں کیسی ہو کہاں ہو جیسے سوال پوچھ گئی۔ اور بھی بہت سے فقرے جو عورتیں ملنے پر ایک دوسرے کو خوش کرنے کے لیے بولتی ہیں۔ جو اب میں اچھی طرح سیکھ چکی ہوں اور روانی سے سوچے سمجھے بغیر بول سکتی ہوں۔۔

ہاں۔۔ ایسا ہی ایک فقرہ جو سہیلی کے چہرے پر مسکراہٹ لا سکتا ہے۔۔"ارے تم نے کتنا خوب وزن کم کر لیا ہے"۔ بھی ہے۔ سامنے سٹیج پر لوگ اپنے اپنے بچوں کو تمغے پہنا رہے تھے۔ وہ مسکرائے بنا میرے کان میں جھک کر بولی۔" میرا شوہر گزر گیا ہے۔" میں نے اپنے رسمی فقروں سے تہی دامن ہو کر اس کی گلابی ہوتی آنکھوں میں دیکھا۔ میں کچھ بھی نہیں کہ سکی۔ ایک لفظ تسلی کا نہ تشفی کا۔ "کیسے۔۔ کیا۔۔ کب" کے علاوہ میں کچھ بھی نہ سوچ سکی۔
"بس بیمار تھا نا وہ۔ تو کرسمس کے پاس۔ لوگ وغیرہ ادھر ادھر گئے ہوتے ہیں۔۔ مشکل ہوئی بہت ۔۔ کچھ سمجھ نہیں آیا"
"بہت افسوس ہوا۔۔ تم نے کچھ نہیں کہا۔۔ کچھ بتایا۔۔ اطلاع ۔۔"
وہ کچھ نہیں بولی۔ میں بھی کچھ نہیں بولی۔
پھر میں کچھ بولتی رہی۔
کچھ پوچھتی رہی۔ بچے کیسے رہے۔ سب نے کیسے لیا۔ اور بہت سے رسمی فقرے جو میں اب سیکھ چکی ہوں اور اٹکے بنا بول سکتی ہوں۔ لیکن میں اندر سے سن تھی۔ اس کی سٹیج پر جانے باری آئی تو وہ آگے چلی گئی۔

مجھے نہیں لگتا کہ میرا سانس اس وجہ سے اٹک رہا ہے کہ مجھے اس کے شوہر کے گزر جانے کا چار ماہ کے بعد کیوں علم ہوا۔۔ موت تو سب سے بڑی حقیقت ہے نا زندگی کی۔ یہ اس آٹھ سالہ بچے کے غم میں بھی نہیں ہوسکتا جو اپنے فٹبال کھیلنے والے باپ سے بہت قریب تھا۔ اور اس سے الٹی سیدھی کتنی ضدیں منواتا ہوگا۔۔ کتنے بچے اکیلے رہ جاتے ہیں نا زندگی میں۔ اور پھر جینا سیکھ جاتے ہیں۔ ایسے جیسے اس کی ماں نے اسے سٹیج پر گلے لگایا تھا۔۔ بہت سہارے ہو جاتے ہیں۔۔

نہ ہی سٹیج سے آنسو ضبط کرتی اترتی وہ عورت اس کی وجہ ہو سکتی ہے۔ گو وہ ایک کونے میں مڑ گئی تھی اور کافی دیر رونے کے بعد واپس اپنی سیٹ پر آئی۔ لیکن وہ بہادر عورت ہے۔ اس میں بہت برداشت آ جائے گی۔
بات یہ بھی نہیں کہ فیس بک اور مائی سپیس میں دوستوں کی تعداد کو خاطر خواہ بڑھانے کو ہم نے ایک دوسرے کو ایڈ کیا تھا۔ لیکن میں نے کل پہلی بار اس کے نام پر کلک کیا۔ پچھلے پانچ ماہ میں اسکے لکھے ہوئے سارے سٹیٹس میسجز میرا منہ چڑھا رہے تھے۔ جب اس نے سمجھا ہوگا میں وہاں ہوں۔۔ میں نہیں تھی۔

کرسمس کے قریب۔۔ میں نے یاد کیا وہ حج کا موسم تھا۔ قریب کے مسلم اکثریت والے شہر میں بیس لوگوں کو حج کی سعادت حاصل ہوئی تھی۔ ان کے جاننے والوں نے ان کی فردا فردا دعوت کے علاوہ ایک مشترکہ دعوت بھی کی تھی۔ جس میں پیسے جمع کرکے بہت مشہور ریستوران سے کھانا منگوایا تھا۔ ہر حاجی خاندان کو پھولوں کا ایک گلدستہ دیا گیا تھا کہ ہاروں کا انتظام ممکن نہیں ہو رہا تھا۔ کسی کو معلوم ہی نہیں ہوا کہ پچھلی صفوں میں بیٹھنے والا وہ خاموش سا افریقی مسلمان کچھ عرصہ سے بیمار تھا۔ اور ان دنوں وہ مر گیا۔

لیکن ایسا ہوتا ہے نا دنیا میں۔ لوگ خاموشی سے مر جاتے ہیں۔ اور پھر ان کو دفنا دیا جاتا ہے اور پھر ان کی بخشش کی دعا کی جاتی ہے۔ کیا ایسا ہوا ہوگا۔۔ معلوم نہیں۔ رینا اور اس کا خاندان تو عیسائی ہیں۔ کیا اسے سفید کفن ملا ہوگا یا سیاہ سوٹ۔۔ کیا اس کا منہ قبلہ رخ ہوگا۔۔ یا اس پر مقدس پانی چھڑکا گیا ہوگا۔۔ اس کے بھائی بہن بہت راسخ العقیدہ ہیں۔ اور اس علاقے کے آس پاس تین مسجدیں ہیں۔ مسلماں مل کر اپنا قبرستان اور جنازگاہ بھی بنا چکے ہیں۔ سب ٹھیک ہوگیا ہوگا۔

میں سانس لینے کی کوشش کرتی ہوں۔ ایسا ہوتا رہتا ہے۔۔ میرے وطن کے لوگ تو دھماکوں میں مر رہے ہیں وہاں تو اعضاء تک بکھر جاتے ہیں انسان کے۔ میں تسلی دینے کی ایک اور کوشش میں سوچتی ہوں اور بھی تو کتنے لوگ ہوں گے ان کے جاننے والے۔۔ دوسرے مسلمان۔ لیکن بات یہ نہیں ہے۔ مجھے معلوم ہے بات یہ بھی نہیں کہ میرا گھر اس کے گھر سے صرف چھ منٹ پر ہے۔ ساتویں پر سکول ہے جہاں میرا بیٹا روز اس کے بیٹے کو دیکھ کر ہاتھ ہلاتا ہے اور اسے اب بھی معلوم نہیں کہ اس کا کوچ اب نہیں رہا۔

بس مجھ سمجھ نہیں آ رہی مجھے اصل میں کس بات کا دکھ ہے۔ اور میری سانس کیوں رکی جا رہی ہے۔