3/08/2011

شطرنج اور ایک صورت خرابی کی

چھوٹی کا تتلاتا لہجہ صاف ہوتا جا رہا ہے۔ قد نکالنے کے ساتھ ساتھ اس کی انا بھی سر اٹھا رہی ہے سو ہار ماننا اب اس کے لیے مشکل ہو جاتا ہے۔ اسے معلوم ہے سب اس سے زیادہ جانتے ہیں لیکن اس کا سب سے آسان حل تو یہی ہے کہ نہ اپنی کم علمی کا اعتراف کیا جائے اور نہ ہی کسی اور کو جیتنے دیا جائے۔ سو پچھلی شب بہنا اور بھائی کو شطرنج کھیلتا دیکھ کر بہت شدت سے اپنے نظر انداز ہونے کا غم ہوا۔ جس کو غلط کرنے کے لیے مجھے بیچ میں دخل دینا پڑا۔ تو بھائی نے جب پڑھنے کے لیے چھوٹی سی بریک لی تو شطرنج کا بورڈ، بہنا دونوں ان کے رحم و کرم پر آگئے۔ 

 
اب جو نئی گیم انہوں نے بنائی ہے اگر میں ان کی ہم سنی کا شرف رکھتی تو ضرور پیٹنٹ کے لیے اپلائی کر دیتی۔ 
تو کون جیتا آخری گیم میں، میں نے رات کے کھانے پر موضوع نکالا۔ 
جیتا۔۔!! بہنا کی بڑبڑاہٹ۔ ہم نے ہار جیت کے بغیر کھیلا ہے۔۔

ہاں ماما۔ اس میں کوئی نہیں جیتتا۔۔ چھوٹی بولی
پھر کیسے کھیلتے ہیں اسکو
تو مہروں کی تفصیل کچھ ان کی زبانی:
بادشاہ اور وزیر جو ہیں وہ ماں باپ ہیں۔
(انہیں تو اس نے بورڈ پر بھی نہیں رکھنے دیا۔۔ احتجاجی صدا۔ میرا اشارہ۔ خاموش۔۔ سننے دو بھئی)
ہاں ماں باپ وہ باہر کھڑے دیکھ رہے ہیں
اچھا پھر کیا ہوتا ہے۔
کچھ نہیں۔ بس سارے پیادے لڑکیاں ہیں۔ (ہمم) انکے لمبے ڈریسز(ہممم) تو وہ بیلے ڈانس کرتی ہیں فلور پر
سارے دوسرے مہرے لڑکے ہیں(ہاہا) وہ ڈانس نہیں کرتے۔
تو کیا کرتے ہیں
وہ فٹبال کھیلتے ہیں۔

گیم ختم کیسے ہوتی ہے۔
جب لڑکیاں ڈانس کرکے تھک جائیں گی۔ لڑکے فٹبال کھیلتے کھیلتے بورڈ کی دوسری سمت چلے جائیں گے۔ ان کے ماں باپ انکو بلا لیں گے تو ۔۔۔
(یا اگر قسمت اچھی ہو تو کھانے کا وقت ہو جائے گا۔۔۔ احتجاجی صدا)

گیم کے اصول تو جلد یا بدیر اسکو ازبر ہو جائیں گے لیکن پرانے کھیل کا نیا پن روز روز کہاں ملے گا۔

1 تبصرہ: