12/25/2011

سگنل تھیوری

اگر ایک مثالی مشین عمومی حالات میں مثالی کارکردگی کی حامل ہو سکتی تو شائد ایک عمومی سگنل بھی لامحدود طور پر فضا میں موجود رہتا۔ آسان الفاظ میں جو ہم کل بولتے اس کو آج بھی سن سکتے۔۔ کیونکہ آواز کی لہریں مسلسل چلتی رہتیں اور کبھی ختم نہ ہوتیں۔ لیکن حرحرکی قوانین نے ابدیت کے مثالی تصورات کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ ہر طرح کے عوامل کی موجودگی میں سگنل طول میں تو بڑھ گئے ہیں لیکن ان کی عمر میں کچھ خاص اضافہ نہیں ہو پایا۔ ورنہ میمو کا مسئلہ اتنا لمبا نہ جاتا۔

کتنا آسان ہوتا کوئی ایک سر پھرا ایک مخصوص فریکوینسی نشر کرتا اور ہم اپنے اپنے ریڈیو اس پر ٹیون کرکے براہ راست سب بات چیت اپنے اپنے کانوں یا سماعتی آلوں سے صاف صاف سن لیتے پھر حقدار کو اس کا حق رسید کرتے اور کسی اور کو موقع دیتے۔۔ کہ آو اور اپنی دنیا سنوارو۔ لیکن کیا کیا جائے دنیائے سائینس انسانی ضرورتوں سے ابھی بہت ہی پیچھے ہے۔ ابھی تک ہم ریکارڈنگ اور ٹیکسٹ ہسٹری وغیرہ پر تکیہ کرتے ہیں جو بیک وقت بڑوں کے ثبوت اور بچوں کا کھیل ہیں۔ اور بچوں کا کھیل سے میری مراد وہ سپائی واچ ہے جس کو وہ چپکے سے میرے کمرے میں سرکانے کے بارے میں کھسر پھسر کر رہے ہیں تاکہ باقی چھٹیون کا پلان جان سکیں۔

لیکن آواز کی لہروں کا طویل العمر ہونا واقعی ایک اہم ضرورت ہے۔ کیونکہ اس سے بہت سے ابہامات کا خاتمہ ممکن ہے۔ کس نے کس وقت کیا کہا تھا اس پر لڑنے کی قطعا ضرورت نہیں پڑے گی۔ کیونکہ سب کا کہا ہوا بالکل سامنے کی بات ہوگی۔ اور اگر فوٹو بھی مل جائے تو یہ ویڈیو کیمرہ وغیرہ کا مسئلہ ہی ختم ہوجائے بس آرام سے کل کی، پچھلے سال کی، دس سال پیچھے کی وغیرہ وغیرہ ساری باتیں اور فوٹوز دیکھتے رہیں۔ بلکہ میں تو سوچتی ہوں تاریخ کی کتابوں کی بہت سی ارادی ۔۔ اور غیر ارادی غلطیوں کا خاتمہ ممکن ہے۔ جنگوں کے اسباب پر ہر ایک اپنی ذاتی روشنی ڈال سکتا ہے اور خوب تفصیل سے دیکھ سکتا ہے کون کیا کر رہا تھا اور کیا کہ رہا تھا۔

اور پھر یہاں پر رکنے کی کیا ضرورت ہے۔ ایک دفعہ صحیح فریکوینسی کی تلاش اور اشاعت کی ضرورت ہوگی پھر جن جن کے پاس مخصوص آلات (میری ترجیح تو ریڈیو ہی ہے۔ لیکن اگر واقعی سائینس نے زیادہ کمال دکھانے کی سوچی اور ماضی کی لائیو ویڈیو دیکھنے کا سلسلہ بن ہی گیا تو ریڈیو کام نہیں دے گا) ہوں گے وہ دو ایک کیا پوری چودہ صدیاں۔۔ یا دو ہزار سال پیچھے جا سکتےہیں۔ کیو ٹی وی والے براہ راست نشریات کا آغاز کرسکتے ہیں۔ اگر ڈزنی والوں نے ماضی کو ری کاسٹ کرنے کے تمام حقوق پہلے ہی سے محفوظ کر لیے تو اس پر بحث شروع کی جا سکے گی کہ کچھ ویڈیوز صحیح ہیں کچھ باطل۔ پھر کچھ ویڈیوز جلانی پڑیں گی۔ کچھ کو عوام کی پہنچ سے دور رکھا جائے گا تاکہ انہیں صحیح غلط کا کچھ معلوم نہ ہو سکے۔ الغرض تحقیق اور کاروبار کی ایک واضح نئی راہ سامنے ہوگی۔ پھر کس کس کی دکان چمکے گی اور کس کس کی بند ہوگی یہ بعد کی بحث ہے۔

ذاتی طور پر میری اولین ترجیح ان چیدہ مواقع کا مطالعہ ہوگا جہاں اس نے بندے سے خود پوچھا۔ لن ترانی سے میں واقف ہوں۔ اور یہ بھی نہیں کہ مجھے عربی یا عبرانی وغیرہ سے کچھ واقفیت ہے۔ سو بات تو مجھے سمجھ نہیں آئے گی (کم از کم جب تک ٹرانسلیٹر کی سہولت ساتھ نہیں آئے گی اور وہ پہلے ورژن میں یقینا نہیں ہوگی) لیکن بہرحال آواز سننا بھی شرف ہے۔ کافی خصوصی شرف۔ لیکن پھر ایسا ہی لگتا ہے کہ اگر یہ شرف عوامی ہوتا تو آواز کی لہروں میں کچھ تو پائیداری ہوتی۔ لیکن مایوسی کی کوئی بات نہیں۔ علاج تنگی داماں پر غور کریں۔ خلائے بسیط بہت وسیع ہے۔

خلا میں فریکشن کی کمی کی وجہ سے کوئی بھی لہر ہمیشگی کی حامل ہو سکتی ہے۔ اور بھلا ہو اوزون کو برباد کرنے والوں کا۔ کئی زمینی آوازیں اور فریکوینسیز ادھر ادھربھٹکتی مل جائیں گی۔ اور خلا میں موجود آوازوں پر تحقیق تو ہو ہی رہی ہے۔ صرف نا موجود تھا تو میڈیم۔ اینٹی میٹر نے وہ کمی بھی دور کر دی۔ اب جہاں کچھ نہیں ہوگا تو ہوگا۔ میرا مطلب ہے جہاں مادہ نہیں ہوگا ضد مادہ ہوگا۔ ویسے سایئنسدان کافی خوش تدبیر ہوتے ہیں۔ اپنی دوربین سے گیسوں کےاخراج اور روشنی کے مخصوص پیٹرن کے ڈوپلر امیجز کا مطالعہ کرکے گھر بیٹھے سونگ اف سن بلکہ اکثر سیاروں کی آوازوں کی ریکارڈنگ مہیا کرچکے۔ کوانٹم تھیوری کے مطابق اگر وہ کچھ اور ہمت کریں تو اینٹی میٹر میں ان کو کافی سننے کو ملے گا۔ لیکن اس کی ایک حد ہے۔۔

وہ عالم بالا کی باتیں نہیں سن سکتے اور ان پر ہر طرف سے (انگارے) پھینکے جاتے ہیں۔ اُن کو بھگانے کے لئے اور اُن کے لئے دائمی عذاب ہے۔ الا یہ کہ کوئی اچک لے اڑتی ہوئی کوئی بات (جو ایسا کرتا ہے) تو پیچھا کرتا ہے اس کا چمکتا ہوا انگارہ۔

11/27/2011

کوہان تو ہوگا۔۔۔

چائے پکنے میں کچھ ہی لمحے ہیں۔ ایسی پارٹیز میں عموما چائے خوب گاڑھی، تیز دودھ پتی پسند کی جاتی ہے۔ میں آنکھ جمائے کھڑی ہوں۔ آج میں کوئی بھی غلطی نہیں کرنا چاہتی تھی لیکن پھر بھی کچھ نہ کچھ غلط ہوتا ہی جارہا ہے۔ "میں کچھ سوچنا نہیں چاہتی۔ کچھ لکھنا نہیں چاہتی، کچھ بولنا نہیں چاہتی۔۔" میں منہ ہی منہ میں خود کو مسلسل یاد دہانی کراتی جا رہی ہوں۔ بیٹھک سے روانی سےایک کے بعد ایک تازہ ترین خبروں کو آنکا جا رہا ہے۔۔ گول کمرے میں ڈرامے، کپڑے اور لوگ زیر بحث ہیں۔ لیکن میں دور ہی دور سے مسکرا کر اپنے شامل ہونے کا یقین دلا رہی ہوں۔۔" میں کچھ سوچنا نہیں چاہتی۔۔" میں نے دہرایا۔

بچے جرابوں کے بل پر ادھر سے ادھر پھسل رہے ہیں۔ اوپر نیچے دوڑ رہے ہیں۔ میں نے چند لمحے پہلے تشدد کی زیادتی کا بہانہ بنا کر سٹاروارز بند کردی تھی جس نے مختلف عمروں کے بچوں کو ایک ہی کمرے میں باندھا ہوا تھا۔ شور سے گھبرا کر میں نے دوبارہ ٹی وی آن کرکے کارٹون چینل میں ٹام اینڈ جیری لگا دیا۔ صرف کردار بدلے ہیں۔

چائے کی خوشبو اچھی لگ رہی ہے۔ لیکن یہ لپٹن نہیں ہے۔ میں دو کوس دور جا کر دو پیسے زیادہ دے کر پاکستانی یا مسلمان دکان سے سودا لانے کی کوشش کرتی ہوں لیکن وہ دو پیسے کبھی پاکستانی یا مسلمان کا نفع نہیں بنتے۔ میرے جانے پہچانے برانڈ وہاں ہوتے ہی نہیں۔ "ان کی مارکیٹ نہیں ہے۔۔" اکثر معلوم ہوتا ہے۔ "لیکن یہ برانڈ۔۔ "میں حلیم کے لیے دال ہاتھ میں لے کر بحث کرنے کا وقت نہ ہوتے ہوئے بھی سوال کر گئی تھی۔۔ "ارے بھئی دال تو دال ہے ، برانڈ جو بھی ہو۔" وہ کافی سیانی دوکاندار ہیں ۔۔ یہی دلیل انہوں نے پچھلی بار اردو کے مختلف نام کے بھی دی تھی۔۔"اردو تو اردو ہی رہے گی خواہ کوئی اسے ریختہ کہے یا ہندی۔۔" میں نظر چرا گئی تھی۔۔

سوال اب عمرانی یا سماجی نہیں رہا۔۔ اس محاذ پر فتح کا جھنڈا لہرائے تو کم و بیش تین عشرے بیت چکے ہیں۔ سوال اب خالص معاشیات کا ہے۔ سوال غربت کی اس انتہائی لکیر کا ہے جو ہمارے ملک میں اب بھی موجود نہیں۔ سوال سستے مزدوروں کا ہے۔ لیکن سوال کرنے کا میرے پاس وقت نہیں ہے یا حق ۔ اس پر میں ابھی نہیں سوچ سکتی۔۔

میں اس راستے سے بہت دور ہوں جہاں لوگ اپنی آپشنز اوپن ہونے پر خوش ہیں۔ ان کے سینما اب فنون لطیفہ کے نئے رنگین افق کی جانب نظر جمائے کھڑے ہیں اور کپڑوں، ڈراموں کی نئی کھیپ کی تیاری بھی سامنے ہوگی۔ لیکن مجھے نہ جانے کیوں لگتا ہے کہ اس خوشحالی سے راستوں کو کبھی فائدہ نہیں ہوتا۔ راستے تو بس راندہ، درماندہ اور پائمال ہوتے ہیں۔ راستے منزل نہٰں بنتے۔ ہاں سڑکوں کے ساتھ ساتھ بنے ایک رات کے موٹل، سفری بیت الخلاء اور چائے خانے، ٹرکوں کی سروس کے اڈے ایسے کاروبار پھلنے پھولنے کی ایک امید بھی ہے۔ اگر میکڈونلڈ والوں نے اس کا ٹھیکا پہلے سے نہ لے لیا۔۔ افوہ چائے ابلنے کو تھی۔۔ بچت ہو گئی

"ارے تم نے کچھ بات وات نہیں کی آج ۔۔" انہوں نے شفقت سے ہاتھ میرے کندھے پر دھرا۔۔ "کچھ بولو تم بھی اس بارے میں۔۔"

"میں ۔۔ میں بھلا کیا بولوں؟؟" میں نے دل ہی دل میں دہرایا۔۔ کچھ نہیں بولنا ، کچھ نہیں سوچنا۔۔
"کچھ تو بولو۔ تبدیلی کے بارے میں کچھ کہو۔۔"
"میں کچھ کہوں تو مگر۔۔۔"
"مگر کیا؟؟؟"
"وہ ۔۔کوہان کا ڈر ہے۔۔"
ان کی شفقت بھری آواز اچانک بارعب ہوگئی۔۔ "کوہان کا ڈر ہے؟؟دو ہزار سال کی لکھی اور کئی ہزار سال کی زبانی تاریخ نے بولنے والوں کو ایک بات ازبر کرادی ہے۔۔ اپنے حق کے لیے تم جب بھی بولو گے۔۔ کوہان تو ہوگا۔"

11/01/2011

اکتوبر میں برف باری

ویسے تو جون میں اولے بھی پڑتے ہیں۔ اور پاؤ بھر کے اولے گاڑی کی باڈی میں پانچ منٹ میں ان گنت نشان ڈال سکتے ہیں۔ اور تجربے سے ہم نے سیکھا ہے کہ ایسے غیر موسمی اور نامعقول حادثات کے بارے میں تمام معلومات پہلے سے رکھنی چاہییں تاکہ گاڑی کو وقت پر اندر رکھنے اور ایسے ہی کچھ دوسرے ضمنی مسائل کو دھیان میں رکھا جائے۔ لیکن اکتوبر میں برف باری نے پھر ہمیں اور ہمارے لینڈ سکیپ کو بے خبری میں جالیا۔

چار دن پہلے سے بچے "برف گرے گی" کا شور تو مچا رہے تھے بلکہ ایک دن تو کچھ تولہ بھر پڑی بھی تھی۔ گمان غالب تھا کہ کچھ ایسا ہی دوبارہ ہونے والا ہے تو مزید تفصیلات پر غور کرنے کی بجائے پوری تندہی سے عید کے اتوار یا پیر پر ہونے کے بارے میں غور جاری رکھا۔ اور اس کے جلو میں آنے والے کچھ دوسرے زمینی مسائل۔ ۔۔ہفتے کے روز دوپہر میں باہر گھومتے برف گرنی شروع ہوئی تو ہم نے سودا لینے کا ارادہ ترک کر کے گھر کی راہ لی کہ کل دوبارہ آ جائیں گے۔ واپسی پر گھر کے داہنی سمت کے سرخ رنگ کے ہودے پر برف کی ہلکی سی تہ جمی تھی۔۔ "اوہ تو یہ کہ رہے تھے۔ ہاو کیوٹ۔۔ فوٹو لیتے ہیں۔۔ عید کارڈ کے کام آئے گی۔

 لیکن اس بار وہ "بہت خراب موسم" اور آنکھیں پھیلا پھیلا کر کہا گیا "برف باری" واقعی بہت خراب موسم نکلا اور برف باری بھی کیوٹ نہیں بلکہ بارہ انچ سے اٹھائس انچ کے درمیان کہیں تھی۔ سرخ پودا برف باری کے بعد ایسا دکھتا تھا۔ شدید خراب موسم سے بائیس لاکھ سے زیادہ گھرانے متاثر ہوئے سو ہم اکیلے نہیں تھے جن کی چار روز تک بجلی نہیں تھی۔ اور بجلی جانا بھی کون سی نیوز ہے لیکن بس اتنی کہ گھر کا ہر کام بجلی ہی سے ہوتا ہے۔ بجلی کے چولہے، بجلی کے کلاک، بجلی کے فون(اب اس سب کو کون مس کرتا ہے۔۔ خصوصا چولہے کو) لیکن جب درجہ حرارت گرتا ہے تو پانی کے جمنے کا چانس ہوتا ہے۔ تقریبا فروزن پانی سے تیمم بھی کر ہی لیا لیکن اگر پانی سچ میں جم جائے تو گھروں میں پائپ پھٹ جاتے ہیں جس کو دوبارہ بنوانے کے بعد فطرت کے لاابالی پن کو سراہنے کی حس متاثر ہوتی ہے۔

خیر وہ حس تو پانچ ڈگری پر ٹھٹھرنے سے اور مسلسل بازار کی چائے پینے سے بھی متاثر ہوتی ہے۔ اس لیے احسن نے اپنی سائینسی حس کے استعمال سے دوسرے دن صبح سب سے پہلے گاڑی سے بجلی پیدا کی (اس کا طریقہ کار کافی سادہ ہے۔۔ گاڑی کی بیٹری سے انورٹر کو جوڑا اور گاڑی کو سٹارٹ رکھا۔ اور انورٹر سے ایک لمبی تار لگا کر گھر میں لائے اور اس سے پیٹر اور ایک لیمپ آن کر دیا۔ یہ آسان سا طریقہ ہے جو ہمیں پتہ لگا ہے لیکن امید ہے کہ آپ اب یہ نہیں پوچھیں گے کہ گاڑی میں بیٹری کس جگہ ہوتی ہے۔ اور انورٹر کی کونسی سائیڈ بیٹری کی طرف کرنی ہے اور کونسی گھر کی طرف یا مزید یہ کہ ایک مخصوص انورٹر کتنے ایمپس پیدا کرتا ہے اور اس کو کس طرح مختلف چیزوں پر سوئچ کرنا ہے کہ حاصل جمع برابر ہو ان مخصوص ایمپس کے اور اگر نیٹ ان ہوگا تو بلب بند اور اگر واٹر پمپ ان ہوگا تو انٹرنیٹ بند اور وغیرہ وغیرہ۔۔۔۔ احسن کا میتھ ہمیشہ سے اچھا ہے۔۔ ؛ )

ہمیں اس دوران بہت سی اہم معلومات حاصل ہوئیں۔ مثلا

اس علاقے میں اکتوبر میں برف باری تیس سال سے نہیں ہوئی۔ اور اتنی زیادہ تو شائد اس سے بھی زیادہ عرصے سے۔

برف بھی ہلکی اور بھاری ہوتی ہے۔ ویٹ یا گیلی برف کا بوجھ زیادہ ہوتا ہے۔

اکتوبر میں برف فطرت کے اپنے پلان کے بھی خلاف ہے کیونکہ ابھی درختوں کے پتے نہیں گرے تھے۔۔ خصوصا” میرے درختوں کے جو اس لین میں سب سے آخر میں گرتے ہیں۔ اور گیلی بھاری برف پتوں کی موجودگی سے زیادہ سے زیادہ درختوں پر جمتی ہے اور یہ بوجھ درختوں کو چیر کر رکھ دیتا ہے۔ جگہ جگہ بجلی کے تار اور گھروں پر درخت گرنے سے نقصان کی شدت زیادہ ہے۔ اور ریکوری کا وقت بھی۔  لیکن آج بجلی واپس ہو گئی ہے سڑکیں صاف کی جارہی ہیں۔

کرائسس کے وقت لوگ اکثر اوور ری ایکٹ کرتے ہیں اسی لیے میرے بچے بھی معمول سے زیادہ بور تھے۔ اور ان کو ناشتہ بھی باہر سے چاہیے تھا حلانکہ ٹھنڈے دودھ میں سیریل ڈال کر کھانے میں بجلی کی ضرورت کہاں پڑتی ہے۔ ہاں ہم کو باہر جانا تھا کیونکہ چائے کے لیے بجلی چاہیے۔

خراب موسم میں فاسٹ فوڈ میں چائے لینے والوں کی قظاریں بہت لمبی ہوتی ہیں۔ سو اگر اس والے کیفے میں زیادہ لوگ ہیں تو اگلے والے میں بھی لوگ زیادہ ہی ہوں گے۔

پہلے لوگ ایک دوسرے کو فون کرتے ہیں کہ کس کے گھر بجلی ہے تاکہ وہاں جا سکیں۔ اس کے بعد فون کرتے ہیں کہ ہماری بجلی آگئی ہے چاہیں تو ادھر آجائیں۔

اگر آپ نے پہلے سے جنریٹر نہیں لے کر رکھا تو خراب موسم کے کرائیسس پر بھی کوشش نہ کریں۔ پہلے تو اس کی ذخیرہ اندوزی ہو چکی ہوگی۔ اور نہیں ملے گا۔ اگر ملا تو بہت مہنگا ہوگا۔ بلکہ ایسی کسی بھی چیز ۔۔ لکڑی کا کوئلے کا آتش دان، کیروسین کا چولہا وغیرہ ۔۔کو خریدنے کی کوشش بےکار ہے۔ کیونکہ لوگ پہلے ہی سب خرید چکے ہیں۔ ہاں اگر ایک آخری انورٹر ملے تو جلدی کریں یہ بہت کام کی چیز ہے اور سستی بھی۔

موم بتیوں کی بجائے ری چارچ ایبل ٹارچ بچوں کے لیے زیادہ محفوظ ہے۔ لیکن اس کو وہ ایک دوسرے کی آنکھوں میں ڈالنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔ اس کو دھیان میں رکھنا چاہیے اور اگر ان کو ری چارج کرنے کی جگہ نہیں تو فائر سٹیشن کوشش کی جا سکتی ہے یا پھر سینت سینت کر خرچ کیا جائے۔

باربی کیو گرل پر چائے بن جاتی ہے ۔۔ لیکن اس کے لیے پتی ضروری ہے۔ سو اسے خریدنا ضروری ہے۔ اور جب پتی خریدنے جائیں تو کچھ دیسی کھانا بھی خرید لیں کیونکہ ہو سکتا ہے بچوں کا چیز پزا اتنے مزے کا نا ہو۔ اور چائے بننے کے دوران اسی گرل پر کھانا بھی گرم ہو جاتا ہے۔  ہیٹر کے سامنے بیٹھ کر باہر کا گرم گرم کھانا کھاتے ہوئے ہم عموما سوچتے ہیں ہوٹل کا کرایہ بچا کر بھی ویکیشن کتنی مہنگی ہوتی ہیں۔۔۔

جہاں تک لینڈ سکیپ کا تعلق ہے تو ہمارے گھر کے سامنے کچھ درخت لگے ہیں۔ ان میں سے تین کہ چیری بلاسم کے ہیں۔ بہار میں بہت خوبصورت پھول لاتے اور ان کو دیکھ دیکھ کر آنکھوں میں تازگی بھرتی۔ پرسوں تک ان کے پتے نہیں جھڑے تھے اور وہ اتنے سبز تھے کہ خزاں یا جاڑے کی رمق تک ان میں نہ ملتی تھی۔ کتنا الگ سماں ہے۔ حیران کن۔ اور قدرت نے یہ بے مثال درخت شائد صرف اس آنگن کے لیے اگائے ہیں ( یہ الفاظ تو نہیں لیکن کچھ ایسا ہی تاثر تھا شائد۔۔ : ))) اور ہم نے ماشاءاللہ نہیں کہا کہ تمام شان اللہ ہی کی ہے اور وہ آفات میں گھر گئے اور زمین بوس ہوئے۔ اگلے دن ہم ان کو آنکھ مل مل کر دیکھتے تھے مگر وہاں ان ٹوٹی پھوٹی شاخوں کے سوا کچھ بھی نہ تھا۔ ۔ اول مالک آخر مالک۔

10/21/2011

فئیر ویدر۔۔

چھوٹی کو سکول لے کر جانے کے دو راستے ہیں۔ چار بار ایک ہی راستے سے گزرنے کے عمل کی تکرار اور بوریت کو کم کرنے کے لیے میں انہی دو راستوں کو بدل بدل کر استعمال کرتی ہوں۔ پہلا راستہ چھ منٹ کی ڈرائیو، چار سگنل اور ٹریفک ملا جلا کر دس منٹ تک سکول تک پہنچاتا ہے۔ اندر کا راستہ بھی دس ہی منٹ تک پہنچاتا ہےلیکن اس میں سگنل نہیں ہیں۔ اکثر وہ سڑکیں بالکل خالی ہوتی ہیں۔ میرا مطلب ہے تقریبا ً بالکل خالی۔ اگر ہم جگہ جگہ رکے مختلف قسم کے ٹرکوں ، ڈاک کی آہستہ خرام گاڑیوں اور سڑک کی اطراف میں پیدل چلتے لوگوں کو نظر انداز کر دیں جن سے بچ کر چلنے کے لیے مجھے اپنی رفتار کو کافی کم کرنا پڑتا ہے۔


لیکن میری دوسرے راستے سے دوستی ہو گئی ہے۔ باہر کی سیدھی سڑک کے برعکس یہ ایک پرپیچ راستہ ہے۔ اپنی دریافت کے شروع میں غائب الدماغی کے باعث کئی بار میں غلط موڑ مڑ گئی۔ وہ ایک اچھا تجربہ نہیں تھا۔ اس لیے میں اب ہمیشہ اپنا برقی نقشہ سامنے رکھتی ہوں۔ بہرحال درمیان میں چھ منٹ کی ایک حصہ ہے۔ بالکل خالی۔ میرا مطلب ہے واقعی خالی۔ یہ ایک کم چوڑی سڑک ہے۔ جہاں دو گاڑیاں پہلو بہ پہلو چلیں تو اپنی رفتار احتیاطاً بالکل کم کر لیتی ہیں۔ لیکن نوے فیصد وہاں دو گاڑیاں پہلو بہ پہلو نہیں ہوتیں۔

وہاں ایک خاموشی اور خوبصورتی ہے۔ بند گاڑی میں اونچی آواز میں سی ڈی آن ہونے کے باوجود وہ خاموشی میرے وجود میں اتر جاتی ہے۔ وہ خوبصورتی مجھے اندر کہیں چھو لیتی ہے۔ چھوٹے چھوٹے رنگ برنگے پرندے اکثر چھوٹی ڈالوں پر چہچہاتے نظر آتے ہیں۔ گلہریاں اتنی بے فکری سے پھدکتی راستے ایک سرے سے دوسرے سرے تک جاتی ہیں جیسے وہاں خطرے کا کبھی گذر نہ ہوا ہو۔ کچھ روز پہلے تک وہ راستہ ایک سرے سے دوسرے سرے تک سبز تھا۔ لیکن سپاٹ سبز رنگ کی طرح نہیں۔ بلکہ سبز کا ہر ممکن شیڈ مختلف درختوں، پودوں اور جھاڑیوں کی صورت میں دونوں طرف سے سڑک پر جھک آیا تھا۔ اور ستمبر کی تیز چمکیلی دھوپ ایسے پتوں سے چھن چھن کرسڑک پراترتی جیسے سایوں کوچھپن چھپائی کھیلنے پر اکسا رہی ہو۔

لیکن آپکو اس راستے کو بارش میں بھی دیکھنا چاہیے۔ ہلکی پھوار ہر سبز کو ایک دوسرا سبز بنا دیتی ہے۔ زمردی۔نکھرے پتے اور جھاڑیاں ایک تاثر بناتے ہیں۔ لمبے اونچے درختوں کا کاہی اور سفید سے مل کر ایک تاثر بناتے ہیں۔ میرے دونوں طرف چھاوں کیے درختوں میں ایک تروتازہ سا اندھیرا ہو جاتاہے۔ اور پورا ماحول ہرے رنگ کی گیلی گیلی پینٹنگ بن جاتا ہے جسے فطرت نے سوکھنے کے لیے ٹانگا ہو۔ ایسی بہت سی تصویریں ہم ویب پر دیکھتے ہیں۔ لیکن وہ صرف ایک تصویر نہیں ہے وہ ایک کیفیت ہے اسی لیے میں نے کیمرے کی بجائے لفظوں میں اسے پکڑنے کی کوشش کی ہے۔

اس ماہ کے شروع میں خزا ں نے سب رنگ بدل دیے تھے۔ خوبصورتی میں کئی گنا اضافے کے ساتھ زمردی آرائیشیں سرخ، پیلے اور بھورے رنگوں میں ڈھل گئی ہیں۔ کچھ درختوں سے باریک باریک پیلے تنکے گر گر راستے کے دونوں جانب زرد وز حاشیہ بن گیا ہے۔ ہوا اپنے تیز اور ہلکے ہلکوروں میں پتوں کو ادھر سے گذرنے والوں پر برساتی ہے۔ یا وارتی ہے۔ ہوا کا جو بھی مفہوم ہے، دلپذیر ہے۔ قدم روک لینے والا۔ سانس روک دینے والا۔

مجھے لگتا کئی بار میری آنکھ جھپک جاتی ، گاڑی اور میں کہیں دور رہ جاتے ۔ اور میں اس ماحول میں مدغم ہوکر اس خاموشی اور خوبصورتی کا ایک حصہ بن جاتی ، لیکن میں جتنا بھی آہستہ چلوں چھ منٹ ختم ہو جاتے جہاں سے مجھے سب کچھ پیچھے چھوڑ کراگلا موڑ مڑنا ہوتا ۔ میں دوبارہ ادھر ہی سے گزروں گی، میں خود کو بہلا لیتی۔

اب درختوں سے پتے گر گر کر آسمان کے جھانکنے کے لیےراہ بنا رہے ہیں۔ درختوں کی سوکھی شاخیں ایک نیا رنگ پکڑ رہی ہیں۔ خاکستری، بھورا اور سلیٹی۔ تصویر کا نیا رخ نئے انداز سے لبھاتا ہے۔ لیکن اب بارشوں کا زور ہے۔ وہ اونچی نیچی سڑک اور آڑے ترچھے موڑ پھسلن زدہ ہو جاتے ہیں۔ بادل زیادہ گہرے ہوں تو وہاں بالکل اندھیرا ہوجاتا ہے۔موسم طوفانی ہو تو کسی کمزور شاخ کا سڑک پر گرے ہونے کا بھی امکان ہے۔ ایسی مشکل میں مدد ملنے کے امکانات سیدھی بڑی سڑک کی نسبت نوے فیصد کم ہیں۔ ہر بار ادھر مڑنے سے پہلے میں رسک انیلسز کرتی ہوں۔ برقی نقشہ بند کرتی ہوں اور بڑی سڑک پر مڑ جاتی ہوں۔

9/22/2011

ڈیٹا ریکووری

میری ساری فوٹوز کو وائرس کھآآآ گیا ہے۔
اہم ہم میرا مطلب ہے۔۔ بہت ساری فوٹوز کے آئیکن تو ہیں۔ لیکن فائل نہیں کھلتی۔ سینکڑوں فوٹو برباد ہوگئیں ہیں
ہممم۔۔ اگر آئیکن ہیں تو ریکور ہو جائے گا
کیسے، کیسییے؟؟؟ ہمم میرا مطلب ہے۔۔ وہ کیسے؟
وہ ایسے کہ ڈیٹا وہیں ہییے۔ سوفٹ وئیر اس کو ریڈ نہیں کر پا رہا۔
لیکن کیوں۔۔ کیا مشکل ہے
کبھی کبھی فارمیشن ٹیبل کی الائنمٹ خراب ہو جاتی ہے تو سوفٹ وئر ہے ایک وہ اسے ریڈ کرکے ری الائن کر دے گا۔ اگر وائرس نہ ہوا تو واپس ہو جائے گا۔
ہو سکتا ہے جب دوسرے کمپیوٹر سے اس پر کاپی کیا تھا تو ایریز ہوگیا ہو۔ پھر تو ضائع ہی ہو گیا نا۔۔ ہاں۔۔
پہلی بات تو یہ کہ ڈیٹا کبھی ایریز ہوتا ہی نہیں۔
ہائیں! تو پھر وہ ہر ماہ ٹوٹل فارمیٹ اور فریش ونڈوز انسٹال کرنے کا کیا ٹنٹا تھا؟
فارمیشن ٹیبل نیا بن جاتا ہے تو نئے سرے سے ہارڈ ڈسک پر لکھا جاتا ہے۔ اور پرانا وائرس اس کو ایکسس نہیں کر سکتا۔
ہمم۔ جیسے ہم ہررر دفعہ پرانے پینٹ پر نیا کوٹ پینٹ کر دیں۔
 آہ ہ ہ ۔ کچھ ایسے ہی۔
تو پہلی لیر پینٹ کے نیچے دوسری لیر پھر سوآن۔ ڈیٹا وہیں رہتا ہے۔ تو وہ جو لوگ جو ڈیٹا ریکوری کے لیے ہزاروں خرچ کرتے ہیں وہ اصل میں وہیں ہوتا ہے۔
وہیں۔ اچھا یہ ایک میموری ڈمپ تھا۔۔
توکیسے ملتا ہے؟
ابتدائی فائل سسٹمز میں سیکٹر زیرو اور فور پر پورا فارمیشن ٹیبل ہوتا تھا۔۔ زیرو پر کرپٹ ہو جائے تو فور سے کاپی کر دیتے تھے۔ ونڈوز دوبارہ انسٹال کرکے واپس۔۔ اب بہت اچھے ٹولزآ گئے ہیں۔
اتنا آسان۔۔ اس کے اتنے پیسے؟
اگر کسی کو نہیں معلوم تو اس کے لیے آسان نہیں ہے۔ اچھا میں ذرا سا کام۔
تو ڈیٹا ڈیلیٹ کرنے سے بھی ڈیلیٹ نہیں ہوتا۔۔ کیا سی ڈیز پر بھی ایسے ہی ٹیبل اور سیکٹر بنتے ہیں۔۔ 
ایسے ہی بنتے ہیں۔ یہ خالی سی ڈی ہے۔ اس کی سطح بالکل شفاف ہے اور یہ برنڈ ہے اس پر ٹریک بنے ہوئے ہیں۔۔
ہممم۔ پہلے کبھی غور نہیں کیا یہ تو واقعی یہیں ہیں۔ سو ٹیبل، سیکٹر، ٹریک یہ سب کبھی ایریز نہیں ہوتے؟ ڈیلیٹ کرنے سے بھی نہیں؟؟
نہیں۔ اچھا یہ انیلسس مجھے اگلے آدھ گھنٹے میں چاہیے تو میں ۔۔ 
تو ڈیٹا کیسے ختم ہوتا ہے۔ اگر کوئی سنجیدگی سے کسی چیز سے چھٹکارا پانا چاہے۔۔
بسسس۔۔ یہ ہی کیچ ہے اس سارے چکر میں۔ ہم آفس میں ہم کریمنگ کرتے ہیں جس ہارڈ ڈرائیو کو ڈس کارڈ کرنا ہوتا ہے۔
یعنی جلا کر راکھ کرنے سے جان چھٹ جاتی ہے۔۔مگر وہ نئی ٹیکنالوجی۔۔ اب تو جلے ہوئے سے بھی کچھ نہ کچھ حاصل ہوجاتا ہے
اس میں ابھی بہت پانی ڈل سکتا ہے۔۔
پتا ہے؟؟ جیسے سی ڈی پر لکھا جاتا ہے گول گھوم گھوم کر۔۔ لینس کے نیچے۔۔۔ایسے ہی زمین بھی گھوم رہی ہے گول دائرے میں۔۔اور ڈیٹا سٹور ہوتا جارہا ہے۔۔
 سوری۔۔ ابھی نہیں۔
ہاں ہاں کوئی بات نہیں۔۔  میں تو بس یہ سوچ رہی تھی ایک دفعہ جو بول دیا۔۔ کر دیا۔۔ لکھا گیا۔ اب اس کو ختم نہیں کیا جا سکتا۔۔ اور کچھ لوگ خود کو آگ میں جلوا کر سمجھ رہے ہونگے جان چھٹ جائے گی۔ اور کچھ سمجھتے ہیں رات گئی بات گئی۔۔ لیکن ڈیٹا ری کووری سیٹ اپ سارے سیکٹر، اور ٹیبل وغیرہ کو سنبھالتا جارہا ہے کسی حتمی الائنمنٹ میں۔ توازن و ترتیب سے ۔۔
ہوں۔
بہت سختی ہے بھئی


((
شیش۔۔ آدمی ہمارا کوئی دم تحریر بھی تھا۔۔؟؟
ہممم۔۔ ہمم۔۔ چچا آپ بھی نا۔۔  وہ نہیں سنا کیا۔۔
اور جو کچھ وہ کرتے رہے ہیں۔۔ ان کے ہاتھ ہم سے کہ دیں گے۔ اور ان کے پیر اس کی گواہی دیں گے۔۔
پھر جس کے دل میں ذرہ برابر بھی برائی ہوگی وہ اس کو دیکھ لے گا۔۔ اور جس کے دل میں ذرہ بھر بھی نیکی ہوگی وہ اس کو دیکھ لے گا
اور کس آدمی کی ضرورت ہے اب؟
ہممم))




 او ہاں ری رائیٹ کا طریقہ تو معلوم ہے نا؟؟ فارمیٹ فرسٹ

8/20/2011

بلاگ سپاٹ اردو ڈیزائن

آر ٹی ایل ٹیگ میرے بلاگ کو ہمیشہ تھیم کی آؤٹ لائن سے نکال کر سو فیصد سکرین پر پھیلا دیتا ہے۔ اس وجہ سے میں نے تھیم کو انٹیکٹ رکھتے ہوئے اردو ڈیزائن بنانے کے لیے صرف رائٹ الائن ٹیگ کا استعمال کیا ہے۔

اس استعمال کو سمجھنے سے پہلے ایک بات دھیان میں رکھنا ضروری ہے کہ بلاگ سپاٹ کا اپنا ڈیزائن وقت کے ساتھ بہت تبدیل ہو چکا ہے۔ سمپل یا مینیما جیسے سادہ اور پرانے ٹمپلیٹس جو کسٹمائزیشن کی بنیاد بنائے جاتے تھے اب علیحدہ سیکشن میں دیے جاتے ہیں۔ نئے اپڈیٹڈ ٹمپلیٹس میں رن ٹائم تبدیلیوں کو ممکن بنانے کے لیے ڈیزائن سکرین موجود ہے جو ٹیکسٹ سے لیکر ہیڈر امیج تک کو بہت آسانی سے تبدیل کر دیتی ہے۔

اس کے ساتھ ہی یوزر کی دخل اندازی کا شائد تدارک کرنے کی کوشش کی ہے۔ ڈائینمک ایکس ایم ایل جو نئے ٹمپلیٹس میں متعارف کی گئی ہے وہ اچھے ویب ڈیزائنرز کے لیے بھی کچھ مشکل ہی ہے، میری طرح کہ مبتدی کے لیے اس کو سمجھنا بہت زیادہ وقت کا متقاضی ہے۔



اس کی مثال کوڈز کے ایک چھوٹے سے موازنے سے سامنے آ سکتی ہے

عمومی ٹیمپلیٹ کے ہیڈر کی تفصیل

#header-inner {
background-position:center;
margin-left:auto;
margin-right:auto;
}
#header {
position:absolute;
top:20px;
right:0;
width:450px;
text-align:right;
}
#header h1 {
font:normal 2.5em Georgia, Times, Serif;
line-height:1.3em;
color:#fff;
}
#header .description {
font-family:Arial;
color:#fff;
font-size:15px;
margin-top:-30px;
}
#header img {
margin-left:auto;
margin-right:auto;
}


نئے ٹمپلیٹس کے مطابق ہیڈر کی تفصیل:

.header-outer {
background: $(header.background.color) $(header.background.gradient) repeat-x scroll top left;
_background-image: none;
color: $(header.text.color);
-moz-border-radius: $(header.border.radius);
-webkit-border-radius: $(header.border.radius);
-goog-ms-border-radius: $(header.border.radius);
border-radius: $(header.border.radius);
}

پہلی مثال میں بہت ہی بیسک سی ایس ایس ہے  جس میں ایچ ٹی ایم ایل میں مستعمل اصطلاحات کا استعمال کیا گیا ہے۔ فونٹ فیملی، مارجن اور کلر وغیرہ اور ان کو سادہ طریقہ سے انہی پرانے پکسل اور نمبرز سے ڈیفائن کیا گیا ہے جو ہمیشہ سے ایچ ٹی ایم ایل میں استعمال کیے جاتے ہیں۔

لیکن اس کے برعکس دوسری مثال میں ڈالر سائن کے ساتھ ویری ایبل دیے گئے ہیں جس کا مفہوم یہ ہے کہ جاوا سکرپٹنگ یا دوسری ڈائینمک کوڈنگز کی طرح اب یہ تمام ٹیگس پہلے اوپر ہیڈر میں پری ڈیفائن کرنے پڑیں گے پھر اس کو استعمال کر سکتے ہیں جس کے لیے ایڈوانس سی-ایس- ایس کی معلومات درکار ہونگی۔

بظاہر آن سکرین ٹمپلیٹ ڈیزائنر استعمال کنندہ کو سکرپٹ کو چھوئے بغیر بہت سی تبدیلیاں کرنے کی آسانی دیتا ہے۔ تھیمز کلرز، فونٹس، ہیڈر امیج، کالم کی چوڑائی، ریشو، وجٹ سٹائلز وغیرہ میں بہت متنوع قسم کی آپشنز ہیں۔چند سادہ کلکس سے بلاگ میں ان کا اضافہ و ترمیم کی جا سکتی ہے۔ لیکن اس کی بھی لمٹس ہیں۔ اور ان کو کوڈ لیول پر تبدیل کرنا اس لیے مشکل ہے کہ بہت سے ایلیمنٹس کو ویری ایبل کے ذریعے باہم مربوط کر دیا گیا ہے۔ ایک ایلیمنٹ میں تبدیلی دوسرے کو بھی تبدیل کر دیتی ہے تا آنکہ کہ ہم ہیڈر میں ان کے علیحدہ علیحدہ ویری ایبل وضع کریں۔

سب سے زیادہ مشکل وجٹ پروگرامز کو تبدیل کرنے کے لیے ہوگی جو پہلے سائیڈ بار یا سیکشن بی کے تحت موجود تھے لیکن اب اس کو میکرو ٹیگ سے ظاہر کیا گیا ہے۔

<aside>
<macro:include id='main-column-left-sections' name='sections'>
<macro:param default='0' name='num' value='0'/>
<macro:param default='sidebar-left' name='idPrefix'/>
<macro:param default='sidebar' name='class'/>
<macro:param default='true' name='includeBottom'/>
</macro:include>
</aside>

ایسے میں کوڈ لیول پر کام کرنے کے لیے بہترین بیس یا تو پرانے ٹمپلیٹس ہیں یا ویب پر موجود بے شمار فری تھیمز سے فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے۔ کسی بھی آسان اور عمومی تھیم کو بیس تھیم کے طور پر چن کر اس میں اپنی مرضی کے ہیڈر اور بیک گراؤنڈ امیجز اپلوڈ کیے جا سکتے ہیں۔ اور اردو کے لیے ہمیشہ جہاں بھی فونٹ کی انفو ہو اس کے ساتھ رائٹ الائن ٹیگ اور فونٹ فیمیلی میں اردو فونٹس کا ٹیگ ایڈ کردینے سے بہت آسانی سے ایک اردو تھیم بن جائے گی۔
اس کا طریقہ کار ایسے ہے:

ڈیزائن >> ایڈٹ ایچ ٹی ایم ایل

اس میں ڈاونلوڈ فل ٹیمپلیٹ کرکے بیک اپ فائل لے لیں، یہ ایکس ایم ایل فائل بنے گی۔ اور کسی غلطی کی صورت میں اسے دوبارہ اپلوڈ کرکے موجودہ ڈیزائن واپس لایا جاسکتا ہے (یاد رہے کہ یہ صرف ڈیزائن کا بیک اپ ہے۔ بلاگ کے مندرجات کا نہیں۔ بلاگ کے مندرجات ڈیزائن تبدیل کرتے وقت نہ تو متاثر ہوتے ہیں اور نہ ہی ان کا بیک اپ یہاں سے لیا جاسکتا ہے۔ لیکن سائڈ بار یا وجٹس وغیرہ متاثر ہو سکتے ہیں اس لیے پوچھنے پر ہمیشہ
"keep widgets" کا آپشن استعمال کریں

اب جو کوڈ سامنے نظر آ رہا ہے اس میں
.post
سرچ کریں۔ اور اس میں دیکھیں جہاں ٹیکسٹ کی انفو ہے۔ وہیں
text-align:right کا ٹیگ ڈال دیں آخرمیں سیمی کولن۔

.post {
margin:.5em 0 1.5em;
border-bottom:1px dotted $bordercolor;
padding-bottom:1.5em;
}
.post h3 {
margin:.25em 0 0;
padding:0 0 4px;
font-size:140%;
font-weight:normal;
text-align:right;
line-height:1.4em;
color:$titlecolor;
}

وہیں ایکسپینڈ وجٹ ٹمپلیٹ کا لنک ہے اسے کلک کریں گے تو اس کا کوڈ بھی باقی سارے کوڈ میں نظر آنا شروع ہو جائے گا۔ اس میں بھی ٹیکسٹ الائنمنٹ کی جا سکتی ہے۔ صرف آرکائیو کی الائنمنٹ نہیں ہوتی۔
رائٹ کے علاوہ سنٹر اور جسٹیفائی بھی موجود ہے۔ اپنے ڈیزائن کے حساب سے استعمال کر سکتے ہیں۔ بس جہاں فونٹ کی انفو ہوگی وہیں ایڈ کرنا ہے۔بیک اپ ہمیشہ اپ ٹو ڈیٹ رکھیں اور اوور رائٹ نہیں کریں بلکہ ملٹی پل کاپیز اچھی ہیں۔
الائنمنٹ ٹیگ کے ساتھ ہی فونٹ فیمیلی کا ٹیگ بھی اپڈیٹ کر سکتے ہیں۔ عمومی تھیمز میں تہوما۔ جارجیا یا ایریل فونٹس استعمال کیے جاتے ہیں ان کو ہٹا کر یا پیچھے کر کے اردو فونٹ فیمیلی ایڈ کی جا سکتی ہے۔

#header h1 {
margin:0;
padding:10px 30px 5px;
line-height:1.2em;
font: normal normal 110% Arial, Tahoma;
}
تبدیلی کے بعد

#header h1 {
margin:0;
padding:10px 30px 5px;
line-height:1.2em;
font: normal normal 200% 'Jameel Noori Nastaleeq', 'Alvi Nastaleeq', 'Nafees Web Naskh', 'Urdu Naskh Asiatype', Arial, Tahoma;}

اس کے علاوہ
page element
پر جائیں گے تو اس میں مختلف وجٹس کو کلک کریں اس کا عنوان اردو میں رکھ سکتے ہیں۔ اور باقی تبدیلیاں بھی کر سکتے ہیں۔

بلاگ کی تحاریر کا بیک اپ بھی اپ ٹو ڈیٹ رکھنا ضروری ہے۔ اس کے لیے بلاگ سیٹینگ میں جائیں تو بلاگ کو امپورٹ ایکسپورٹ کرنے کی آپشن ہے جس سے پورا بلاگ ڈاؤنلوڈ ہو جاتا ہے۔ اور بوقت ضرورت یہیں اس فائل کو اپلوڈ کر کے بلاگ ری کوور کیا جا سکتا ہے۔ لیکن زیادہ تر صرف لائن بریک تک ری کوور ہوتا ہے اس لیے اپنی تحاریر کی ایک کاپی کہیں اور ضرور سیو رکھیں۔
آرکائیو اور کمنٹ الائنمنٹ میں ابھی نہیں کر پائی۔ اردو کمنٹ وجٹ کیسے استعمال کرنا ہے اس سلسلہ میں ٹرائل اینڈ ایرر کا سلسلہ بشرط فرصت مستقبل بعید میں شروع ہوگا۔ : ) 

8/09/2011

یوٹوپیا

خیال حقیقت کا پیراہن پہننے سے پہلے کسی ذہن میں پنپتا ہے۔ خواب شرمندہ تعبیر ہونے سے قبل آنکھوں میں بستا ہے۔ اہرام مصر ہو یا دیوار چین، ہر تعمیر چند لکیروں سے اٹھتی ہے۔ ہر عمل کی ایک راہ عمل ہوتی ہے۔ تبدیلی پہلے دلوں میں پنپتی ہے، پھر لفظوں میں نفوذ پذیر ہوتی ہے اور خوشبو کی طرح پھیل جاتی ہے۔

بدلاؤ کی خواہش پہلی کڑی ہے۔ تبدیلی کا خیال ابتدا ہے۔ تبدیلی نہ لا سکنا کسی کی ہار نہیں ہوتی۔ اس کا تصور گم کر دینا اس کا خیال نہ آ سکنا اصل شکست ہے۔ ظالم سے لڑ نہ پانا کمزوری ہے تو ظلم سہتے رہنا اور بچاو کے لیے ہاتھ تک نہ اٹھانا بڑی کمزوری ہے۔ ہاتھ نہ اٹھا پانے کی سکت کھو دینے سے بھی زیادہ خطرناک ہے ظالم سے چھٹکارا پانے کی خواہش سے تہی دست ہو جانا۔

جب تم نہ لڑ سکو۔ نہ ہاتھ اٹھا سکو۔ نہ چیخ سکو تو ایک خواب بن دو۔ اسکو لفظ اوڑھا دو۔ لفظ جب لفظوں سے ملتے ہیں تو ہاتھ بن کر لڑتے ہیں۔ پھر یہ آنکھ در آنکھ پھیلتے ہیں۔ زبان در زبان چیختے ہیں۔ سادہ کاغذ پر لکھا ایک سراب اہم ہے۔۔ ایک بلو پرنٹ۔ جب راہ گم ہو جائے تو سراب میں زندگی جاگتی ہے۔ خواہ چند سانس ہی ہو۔ اور پھر کس کو معلوم منزل چند سانس ہی دور ہو۔

8/02/2011

انسپیریشن

کوئی کوئی دن ہماری زندگی میں ایسے آتا ہے کہ ہمیں دنیا اپنے قدموں کے نیچے محسوس ہوتی ہے۔ روزمرہ کی چیزیں ہمارے ہاتھوں میں کھیل رہی ہوتی ہیں۔ ہم اپنے چھوٹے سے دائرے کے شہنشاہ ہوتے ہیں۔ اور سبھی کچھ دست بستہ ہمارے سامنے کھڑا ہوتا ہے۔  ایسے محسوسات کا مآخذ کیا ہوتا ہے۔۔ کوئی چھوٹی سی پوری ہوئی خواہش، کوئی اچھا سا خواب، کوئی مدھر سا گیت۔ اس کی وجہ کچھ بھی ہو سکتی ہے۔ لیکن یہ بہت کارساز لمحات ہوتے ہیں۔  ہم جیسے چاہیں اس دن کو بنا لیں۔ کچھ بہتر، کچھ اچھا۔ ایسے کسی لمحے کو پکڑ لینا اور ضائع نہ ہونے دینا چاہیے۔

ایسا ہی کچھ لکھاری کے ساتھ ہوتا ہے۔ کبھی کبھی لفظ اور خیالات ہمارے بہت قریب آ جاتے ہیں۔ ایک ہاتھ کے فاصلے پر۔ اور بالکل موم کی طرح ہمارے ہاتھوں، دماغ اور زبان پر بنت کے متلاشی ہوتے ہیں۔ جیسے چاہیں ان کو ڈھال لیں۔ شائد اسی کو انسپیریشن کہتے ہیں۔ لفظ جب ہاتھوں میں پگھلتے ہیں تو موم نہیں رہتے، آب زر بن جاتے ہیں۔ ان لمحوں کی کہانی جب اپنی طرف کھینچتی ہے تو لوٹنے کا کوئی محل نہیں ہوتا۔۔ پر زندگی اپنے موقع محل خود بناتی ہے۔۔ جگہ جگہ رک کر لفظوں کو خیالات کی ڈگڈگی سے تال ملاتے دیکھنے کی اجازت ہی نہیں دیتی۔

6/14/2011

دیوان حافظ، فالنامہ اور ایٹ بال

"اور آپکا پسندیدہ رنگ"
"اور آپ کا پسندیدہ نمبر۔۔"
"اور آپ کا سوال۔۔"
"کیا ہم ویک اینڈ پر زو جائیں گے؟"
"کیا میرا دوست آج کھیلنے آئے گا؟"
"کیا ماما کیک بنائیں گی؟"
"کیا میرا ٹیسٹ اچھا ہوگا؟"
"کیا آج بارش ہوگی؟"

ساری صبح لگا کر بنائے گئے کاغذ کے فورچون ٹیلر سے وہ ہاں/ ناں والے سوالات پوچھ پوچھ کر ہلکان ہو رہے تھے۔
 لیکن بچوں کو ہر طرح کی علتوں سے دور رکھنا، ان کو ہر وقت صحیح غلط کی تمیز دیتے رہنا اور اصلاح کرنے کا کوئی موقع نہ جانے دینا اکثر والدین کی طرح میرا بھی پسندیدہ مشغلہ ہے۔ اس وجہ سے میں نے آج تک انہیں ایٹ بال نہیں لے کر دی۔ لیکن انہوں نے دوسرا رستہ نکال لیا ہے۔ میں نے موقع دیکھ کر دوبارہ شروع ہونے کی کوشش کردی

اس کاغذ پر یہ جوابات آپ نے خود لکھے ہیں۔ اس میں کوئی سائینس ملوث نہیں کیک کا آپ مجھ سے براہ راست پوچھ سکتے ہو اور بارش کا موسم کے حالات میں معلوم ہو جائے گا۔ اسی طرح۔۔"
"ہم صرف تھوڑے سے فن کے لیے کر رہے ہیں ماما۔۔"
انہوں نے مدافعاتی بیزاری سے احتجاج کیا اور سوال پوچھنے والی چہک سرگوشیوں میں ڈھل گئی۔ مجھے ہنسی آ گئی اور میں بظاہر وہاں سے ہٹ گئی۔ مجھے ہلکے کیسری رنگ کا دیوان حافظ مترجم یاد آگیا تھا۔

بچپن میں ہمارے گھر میں متنوع موضوعات پر اردو کی کتابوں کی ایک کثیر تعداد موجود تھی۔ ان دنوں جب اشتیاق احمد کی قوت تحریر ہماری رفتار مطالعہ سے بہت کم تھی، نئے درجوں کی کورس کی ساری کتابوں کی ساری کہانیاں ہفتہ بھر میں ختم ہو جاتی تھیں، ہمیں درجہ بدرجہ الماریوں میں چنی ان کتابوں میں جھانکنے اور کتابیں چھانٹنے کا اتفاق اکثر ہوتا تھا۔

کتابوں کی درجہ بندی کے حقیقی اصولوں سے ناواقفیت کی بنا پر ہمارے دماغوں نے اپنے گمان، خیال اور بڑوں کے مبہم رویوں سے خود سے ایک درجہ بندی کی ہوئی تھی سو عرصہ تک ہم سبھی سمجھتے تھے کہ سب سے اوپر قران پاک کے ساتھ چمکیلی جلدوں والی سبھی کتابوں کو باوضو پڑھا جاتا ہے۔ ان دنوں ہم الرحیق المختوم کے ساتھ رکھا بہشتی زیور بھی صرف رمضان میں ہی مطالعہ کرتے۔

اگلے خانے میں آنے والی کتابیں بھی کچھ تنبیہی نگاہوں کے باعث ان دواؤں کی طرح لگا کرتیں جن پر بچوں کی پہنچ سے دور رکھنے کی خاص احتیاط درج ہوتی ہے۔ سو اکثرگرمیوں کی خاموش دوپہروں میں کرسی رکھ کر ہم بھی خاص احتیاط سے کچھ بھی ہلائے جلائے بغیر ان کو اتارتے اور سمجھنے کی کوشش کرتے کہ کس چیز کو ہماری پہنچ سے دور رکھا جا رہا ہے۔

خیر ان اوپری خانوں میں محفوظ کتابوں کی حقیقی تفصیل اور احوال دگر کبھی آغا کی زبانی سنیے گا۔ مجھے تو فقط یہ یاد ہے کہ اس وقت یہی گتھی حل نہ ہوتی تھی کہ نقش چغتائی، دیوان حافظ، میری لائبیریری کے چھپے ان عالمی شہ پاروں کے تراجم یا میراجی سے مفتی تک کی ایسی ہی دوسری کتابوں میں ایسا کیا تھا جسے ہماری پہنچ سے دور رکھا جانا چاہیے تھا۔ کیونکہ نچلے خانوں میں تاریخی ناولوں اور ڈایجسٹوں میں بہت سلیس الفاظ میں وہی تحریریں اور وہم قبا میں ملبوس وہی تصویریں ہماری دسترس سے قریب تر، قطار در قطار پڑی تھیں۔ شائد بڑوں کے ذہنوں میں ان کتابوں کی چھپائی میں سیاہی کی شدت ان کی خود حفاظتی کی دلیل تھی۔ جو ایک حد تک سچ بھی ہے۔۔ مگر کیا کیا جائے کہ کتاب کا فاقہ بری شے ہے۔۔

سو ایسے ہی ایک دن ہم نے دیوان حافظ دریافت کیا۔ جس کی ابتدا میں حافظ خوانی اور اردو مقدمہ میں تفصیل سے فال نکالنے اور اس کے مصدقہ ہونے وغیرہ وغیرہ کے بارے میں حافظ پر حلف اٹھائے ہوئے تھے۔ گرمیوں کی گرم دوپہروں میں ہم لوگ گھٹنے موڑے، سر جوڑے ایسے ہی آہستہ آہستہ سوالات کرکے حافظ کو شائد ہلکان کر دیا کرتے۔ شروع میں ہم سوالات باآواز بلند کرتے تھے اورایک ساتھ آنکھیں میچ لیتے تاکہ فال کو زیادہ سے زیادہ خالص کیا جا سکے۔

بعد میں سوالات میں ایک پرائیویسی آتی گئی اور ہم ذہن میں جو سوچتے اس کا جواب چاہتے اور باقیوں کو کچھ اور ہی بتاتے۔ اور حاضرین آنکھیں کھلی رکھتے مبادا فال میں کوئی غلطی نہ ہوجائے۔ وہ بچپن کے دن تھے۔ ہر سوال کا جواب عموما صحیح ہوتا۔ اور مقدمہ میں تنبیہہ بھی تو تھی کہ فال بالکل سچ بتاتی ہے۔ اگر کوئی کسر ہے تو ہمارے یقین میں۔ اور یقین میں ہم نے کبھی کمی نہیں رکھی۔

داہنی سمت کے صفحے کا پہلا شعر سوچ کر جب بھی میں نے کلام حافظ کھولا ایک ہی شعر نکلا اور بلاشبہ زندگی کے تمام مسائل کا حل اسی شعر سے ہو جاتا تھا۔۔۔ شعر مجھے یاد نہیں ترجمہ کچھ ایسے تھا کہ صبح دم جب نسیم صبح جنت کی جانب سے آتی ہے تو خوشبوئے دوست لاتی ہے۔ وغیرہ۔۔ معلوم نہیں اس کو میں نے ہر مسئلے پر کیسے فٹ کیا۔ لیکن بہت بعد میں مجھ پر کھلا کیہ کثرت فال سے چند صفحات ڈھیلے ہوچکے تھے اور بار بار مخصوص مقامات سے کھل کھل جاتے ۔۔

بہرحال میری ناسمجھی کے وہ دن گزر گئے ہیں۔ اور اردو میں لکھی کتابیں ہندسوں اور علامات میں لکھی کتابوں سے بہت دور رہ گئی ہیں۔ اب جو کتابیں درجہ بدرجہ میری الماریوں میں چنی ہیں ان کو میں نے کبھی نہیں پڑھا۔ مسلسل دیکھنے سے مجھے ان کے نام زبانی یاد ہو گئے ہیں۔ ایسے ہی۔۔ پائیتھون، سیکیورٹی اسینشلز، راوٹنگ اینڈ سویچنگ۔۔ ان کو کبھی کھولو تو ان میں لفظ کم اور ھندسے زیادہ ہوتے ہیں۔ میپنگ ٹیبلز اور آئی پی ماسکنگ۔۔ سب نیٹس ڈیزائن اور لیرز اف کمیونیکیشن۔۔ کیا میں کچھ سینس بنا رہی ہوں۔۔ شائد نہیں۔ یہ میری ناسمجھی کے نئے دن ہیں۔ ایسے ہی بیٹھے بیٹھے حافظ کے فالنامے کو ایٹ بال سکرپٹ پر منطبق کرنے کی کوشش کی آپ بھی دیکھیں اور لطف اٹھائیں۔

اپنا سوال لکھیے
یاد رہے کلام حافظ کچھ ستم ظریف واقع ہوا ہے۔



جواب




  اگر مزہ نہیں آیا تو یہاں پر روایتی ایٹ۔بال انداز میں کوشش کریں۔

سوال



جواب

اس سکرپٹ کا انتخاب صرف تفریح کی خاطر کیا گیا ہے اور تبدیلی میں کسی قسم کے سنجیدہ مقاصد کو پیش نظر نہیں رکھا گیا۔

5/23/2011

کمیونیکیشن گیپ

ہر چند لمحوں کے بعد میری سانس ایک ثانیہ کو تھوڑی سی رک سی جاتی ہے۔ آنکھیں چوڑی ہوجاتی ہیں۔ میں جہاں ہوتی ہوں، تھم جاتی ہوں پھر خیال کی رو واپس پلٹا کر سانس لینے کی شعوری کوشش کرتی ہوں۔ ویسے تو جس ساحلی علاقے میں میں مقیم ہوں درختوں کی کثرت کی وجہ سے حبس زدہ گرم دنوں میں یہ عام سی بات ہے۔۔ سانس کا لمحے دو لمحے کے لیے رک جانا۔ لیکن بات وہ نہیں ہے کہ گرم دن  ابھی شروع نہیں ہوئے۔ بات اصل میں کیا ہے مجھے ابھی سمجھ ہی نہیں آیا۔

ایک عام سے دن کی عام سی کہانی میں اصل بات ڈھونڈنا اتنا مشکل تو نہیں۔ لیکن مجھے مشکل ہو رہی ہے۔ یہ کل کی کہانی ہے۔ میرے بیٹے کو گولڈ میڈل ملنا تھا۔ یہاں جس جگہ میں رہتی ہوں ہر موقع کو ایک بڑا موقع بنا لیتے ہیں۔ خود ہی سٹیج سجاتے ہیں، ایک دوسرے کی مدد سے انعامات اکھٹے کرتے ہیں اور ایک دوسرے کو بانٹ دیتے ہیں۔ اس سب کو وہ حوصلہ افزائی کہتے ہیں۔۔ کردار سازی کا کام۔ بس ایسی ہی کچھ زندگی ہے یہاں کی۔ ایک بات کی پڑتال کی۔ نتائج اخذ کیے پھر اپنی زندگیوں کو اس کے گرد بن لیا۔ اگر نتائج غلط ثابت ہوں تو اسے پیچھے چھوڑ کر کسی نئے مرکزی خیال کو جینا شروع کر دیا۔ ایسے میں کبھی پلٹ کر وہیں پہنچ جاتے ہیں جہاں سے سفر شروع ہوا تھا۔۔ اپنے تجربے کا نام دے کر۔۔
 

نئی ریسرچ میں معلوم ہوا ہے کہ کتاب نئی نسل کی زندگی سے نکلتی جا رہی ہے اور کتاب کے بغیر سوچنے، سمجھنے اور سیکھنے کا عمل رک جانے کا خدشہ ہے تو کتاب میلے سجانے شروع کیے۔۔ انہی میں سے ایک یہ ہے۔ سال بھر میں ایک سو بیس سے زیادہ کتابیں پڑھنے یا والدین سے سننے پر چھوٹے بچوں کو وہ میڈل کا حقدار قرار دیتے ہیں۔ پھر وہ کانسی کا یا چودہ کیرٹ سونے کا پانی چڑھا تمغہ کاغذ کے ایک ٹکرے کے ساتھ اعزاز کرتے ہیں جو ان ہی کے والدین کے ہاتھ انہیں ملتا ہے۔ کوئی بھی پیچھے نہیں رہنا چاہتا تو بیشتر اوقات  نتیجہ سو فیصد ہوتا ہے۔ یہ عموما والدین اور بچوں کے لیے خوشی کا موقع ہوتا ہے۔ اور سکول کے لیے بھی۔۔ تقریب کا اختتام عموما ساتھ کے کمرے میں بکتی نئی کتابوں کے پاس والدین کے ہاتھ کھینچتے  ہوئے بچوں کی مسلسل ضد، والدین کی چڑھتی تیوری اور گفٹ بکس کے بھرے ڈبوں پر ہوتا ہے۔
تین سو بچوں کے والدین یا دوسرے رشتہ داروں کی موجودگی میں دس بارہ لوگ تو ایسے ضرورہوتے ہیں جن سے آپکی بات چیت ہوتی ہے۔ بچوں کے دوستوں کے والدین۔ ان کے استاد۔ ان کے کوچ۔ لیکن اس میں ایسی کوئی بات نہیں جس کو خاص سمجھا جائے۔ ہاں رینا کا ملنا الگ بات ہے۔ لیکن شائد نہیں۔ اس کا بیٹا میرے بیٹے کا ہم سن ہے۔ وہ کنڈرگارٹن سے ایک دوسرے کے ساتھ ساتھ ہیں۔ اور سیکشن تبدیل ہونے کے باوجود بریک میں ایک دوسرے سے مل کر کھیلنا ان کے ہفتہ واری معمولات میں سے ہے۔ اور وہ مسلم نام والا ایک ہی لڑکا ہے جس سے میرے بیٹے کی تین سالوں میں بات ہوئی ہے۔

ویسے اس علاقے میں مسلمان زیادہ نہیں ہیں۔ اور جو ہیں وہ بھی پبلک سکولوں میں بچوں کو بھیجنا پسند نہیں کرتے ۔ زیادہ تر لوگ اسلامی سکول ہی میں بچوں کو بھیجتے ہیں۔  پبلک سکول میں کسی مسلمان بچے کا ملنا غیر معمولی ہی ہے اسی وجہ سے میں سکول کے علاوہ بھی اسے کبھی کبھی گھر بلا لیتی تھی۔ دونوں بچے دیر تک مل کر کھیلتے رہتے۔ لیکن یہ بہت دن پہلے کی بات ہے۔ دو سال پہلے کی۔ اگلی جماعت میں چڑھنے کے بعد ان کے نئے دوست بنے۔ اور وہ بیسٹ فرینڈز سے ایکس بیسٹ فرینڈز ہو گئے۔ اور اس سے اگلی جماعت میں ان کے سیکشن بھی الگ ہو گئے اور بات صرف دور سے ہاتھ ہلانے پر آ گئی۔

دو سال پہلے ہی میری رینا سے بات چیت کا آغاز ہوا تھا۔ اور اس میں کچھ گرمجوشی آگئی جب اس کے شوہر نے فٹبال کی کوچنگ شروع کی تو میرے بیٹے کا نام بھی اسی ٹیم میں آگیا تھا۔ اور وہ دونوں بچوں کے بیسٹ فرینڈ ہونے کے دن تھے۔ بظاہر رینا کے اور میرے حلیے، خیالات اور انداز گفتگو اور زندگیوں میں فرق ہونے کے باوجود ہمارا تعلق تھوڑا سا بڑھ گیا۔۔ میرے فونوں میں اسکے فونوں کے نمبر اور مائی سپیس یا فیس بک میں دوستوں کی فہرست میں ایک دوسرے کے نام۔ وہ ایک اطالوی ریسٹورنٹ میں فوڈ سپیشلسٹ کا کام کرتی ہے۔ فٹبال کھیلنا چھوڑنے کے بعد فیلڈ میں ہونے والی اتفاقیہ ملاقاتیں کم ہو گئیں۔ اور پچھلے سال تو بالکل ہی چھٹ گئی۔

اس کے شوہر سے میری سلام دعا سے زیادہ کبھی بات نہیں ہوئی لیکن رینا کی بات چیت سے ہی مجھے اس کے کچھ عرصہ بیمار رہنے کا معلوم ہوا۔ ایسے ہی جیسے اور بہت سی چھوٹی چھوٹی باتیں جو عورتیں عموما ایک دوسرے سے کرتی ہیں۔۔  بیماری کی وجہ سے اس کے کتنے روزے چھٹ گئے۔ انہوں نے عید کس جگہ کی۔ یا یہ کہ اس نے رینا کو کبھی مذہب بدلنے کے لیے نہیں کہا۔ لیکن وہ اس پر سوچ رہی ہے۔ مجھے لگتا تھا کہ اتنا کافی ہے کہ وہ زندگی کے ہر سلسلہ میں اس رستے سے جڑی ہوئی جو اسے نجات کی جانب لے جائے گا جب نجات دہندہ کی مرضی ہوگی۔ میں نے کہا تھا میں اس کی کسی بھی قسم کی مدد کے لیے حاضر ہوں۔

اور پھر میں بہت دن غیر حاضر رہی۔ کل ملنے سے پہلے میں بہت سے دن اس سے نہیں ملی۔ غیر متوقع ملنے کی خوشی میں اس کے گلے لگتے لگتے میں کیسی ہو کہاں ہو جیسے سوال پوچھ گئی۔ اور بھی بہت سے فقرے جو عورتیں ملنے پر ایک دوسرے کو خوش کرنے کے لیے بولتی ہیں۔ جو اب میں اچھی طرح سیکھ چکی ہوں اور روانی سے سوچے سمجھے بغیر بول سکتی ہوں۔۔

ہاں۔۔ ایسا ہی ایک فقرہ جو سہیلی کے چہرے پر مسکراہٹ لا سکتا ہے۔۔"ارے تم نے کتنا خوب وزن کم کر لیا ہے"۔ بھی ہے۔ سامنے سٹیج پر لوگ اپنے اپنے بچوں کو تمغے پہنا رہے تھے۔ وہ مسکرائے بنا میرے کان میں جھک کر بولی۔" میرا شوہر گزر گیا ہے۔" میں نے اپنے رسمی فقروں سے تہی دامن ہو کر اس کی گلابی ہوتی آنکھوں میں دیکھا۔ میں کچھ بھی نہیں کہ سکی۔ ایک لفظ تسلی کا نہ تشفی کا۔ "کیسے۔۔ کیا۔۔ کب" کے علاوہ میں کچھ بھی نہ سوچ سکی۔
"بس بیمار تھا نا وہ۔ تو کرسمس کے پاس۔ لوگ وغیرہ ادھر ادھر گئے ہوتے ہیں۔۔ مشکل ہوئی بہت ۔۔ کچھ سمجھ نہیں آیا"
"بہت افسوس ہوا۔۔ تم نے کچھ نہیں کہا۔۔ کچھ بتایا۔۔ اطلاع ۔۔"
وہ کچھ نہیں بولی۔ میں بھی کچھ نہیں بولی۔
پھر میں کچھ بولتی رہی۔
کچھ پوچھتی رہی۔ بچے کیسے رہے۔ سب نے کیسے لیا۔ اور بہت سے رسمی فقرے جو میں اب سیکھ چکی ہوں اور اٹکے بنا بول سکتی ہوں۔ لیکن میں اندر سے سن تھی۔ اس کی سٹیج پر جانے باری آئی تو وہ آگے چلی گئی۔

مجھے نہیں لگتا کہ میرا سانس اس وجہ سے اٹک رہا ہے کہ مجھے اس کے شوہر کے گزر جانے کا چار ماہ کے بعد کیوں علم ہوا۔۔ موت تو سب سے بڑی حقیقت ہے نا زندگی کی۔ یہ اس آٹھ سالہ بچے کے غم میں بھی نہیں ہوسکتا جو اپنے فٹبال کھیلنے والے باپ سے بہت قریب تھا۔ اور اس سے الٹی سیدھی کتنی ضدیں منواتا ہوگا۔۔ کتنے بچے اکیلے رہ جاتے ہیں نا زندگی میں۔ اور پھر جینا سیکھ جاتے ہیں۔ ایسے جیسے اس کی ماں نے اسے سٹیج پر گلے لگایا تھا۔۔ بہت سہارے ہو جاتے ہیں۔۔

نہ ہی سٹیج سے آنسو ضبط کرتی اترتی وہ عورت اس کی وجہ ہو سکتی ہے۔ گو وہ ایک کونے میں مڑ گئی تھی اور کافی دیر رونے کے بعد واپس اپنی سیٹ پر آئی۔ لیکن وہ بہادر عورت ہے۔ اس میں بہت برداشت آ جائے گی۔
بات یہ بھی نہیں کہ فیس بک اور مائی سپیس میں دوستوں کی تعداد کو خاطر خواہ بڑھانے کو ہم نے ایک دوسرے کو ایڈ کیا تھا۔ لیکن میں نے کل پہلی بار اس کے نام پر کلک کیا۔ پچھلے پانچ ماہ میں اسکے لکھے ہوئے سارے سٹیٹس میسجز میرا منہ چڑھا رہے تھے۔ جب اس نے سمجھا ہوگا میں وہاں ہوں۔۔ میں نہیں تھی۔

کرسمس کے قریب۔۔ میں نے یاد کیا وہ حج کا موسم تھا۔ قریب کے مسلم اکثریت والے شہر میں بیس لوگوں کو حج کی سعادت حاصل ہوئی تھی۔ ان کے جاننے والوں نے ان کی فردا فردا دعوت کے علاوہ ایک مشترکہ دعوت بھی کی تھی۔ جس میں پیسے جمع کرکے بہت مشہور ریستوران سے کھانا منگوایا تھا۔ ہر حاجی خاندان کو پھولوں کا ایک گلدستہ دیا گیا تھا کہ ہاروں کا انتظام ممکن نہیں ہو رہا تھا۔ کسی کو معلوم ہی نہیں ہوا کہ پچھلی صفوں میں بیٹھنے والا وہ خاموش سا افریقی مسلمان کچھ عرصہ سے بیمار تھا۔ اور ان دنوں وہ مر گیا۔

لیکن ایسا ہوتا ہے نا دنیا میں۔ لوگ خاموشی سے مر جاتے ہیں۔ اور پھر ان کو دفنا دیا جاتا ہے اور پھر ان کی بخشش کی دعا کی جاتی ہے۔ کیا ایسا ہوا ہوگا۔۔ معلوم نہیں۔ رینا اور اس کا خاندان تو عیسائی ہیں۔ کیا اسے سفید کفن ملا ہوگا یا سیاہ سوٹ۔۔ کیا اس کا منہ قبلہ رخ ہوگا۔۔ یا اس پر مقدس پانی چھڑکا گیا ہوگا۔۔ اس کے بھائی بہن بہت راسخ العقیدہ ہیں۔ اور اس علاقے کے آس پاس تین مسجدیں ہیں۔ مسلماں مل کر اپنا قبرستان اور جنازگاہ بھی بنا چکے ہیں۔ سب ٹھیک ہوگیا ہوگا۔

میں سانس لینے کی کوشش کرتی ہوں۔ ایسا ہوتا رہتا ہے۔۔ میرے وطن کے لوگ تو دھماکوں میں مر رہے ہیں وہاں تو اعضاء تک بکھر جاتے ہیں انسان کے۔ میں تسلی دینے کی ایک اور کوشش میں سوچتی ہوں اور بھی تو کتنے لوگ ہوں گے ان کے جاننے والے۔۔ دوسرے مسلمان۔ لیکن بات یہ نہیں ہے۔ مجھے معلوم ہے بات یہ بھی نہیں کہ میرا گھر اس کے گھر سے صرف چھ منٹ پر ہے۔ ساتویں پر سکول ہے جہاں میرا بیٹا روز اس کے بیٹے کو دیکھ کر ہاتھ ہلاتا ہے اور اسے اب بھی معلوم نہیں کہ اس کا کوچ اب نہیں رہا۔

بس مجھ سمجھ نہیں آ رہی مجھے اصل میں کس بات کا دکھ ہے۔ اور میری سانس کیوں رکی جا رہی ہے۔

3/22/2011

ایک اور کہانی۔۔

میری لڑکی سکول میں کچھ لکھنے کی اسائنمنٹ کرے تو میرے لیے ایک ایکسٹرا کاپی پرنٹ کرتی ہے کہ مجھے ان کا لکھا پڑھنے میں مزہ آتا ہے۔ گو کہ جماعت کی مشق میں پرومپٹس اور سٹائل کی گائیڈلاینز کا بہت ہاتھ ہوتا ہے اور مجھے اورجنلیٹی جانچنے میں مشکل ہوتی ہے لیکن پھر بھی لطف آتا ہے۔ آج کی کہانی نے چونکا دیا۔



Help

It was 5: 30 pm. I was watching tv.
I watched...
I laughed...
I stopped

"cough.. cough.. cough.."
"cough.."
I ran to my mom. I knew she would be alright, but I was worried.
I ran..
I told..

My mom and dad came. They tried. But it was too late. She already swallowed something. They called the doctor... told them every thing. They went to the after-hour help right away.


It was my little sister. She seemed alright. But I didn't think she was.. She acted like she was alright. But my throat was really dry.


I felt bad inside. I knew she was my responsibility. Shouldn't i have kept an eye on her? She was only 3 years old. I was worried even more, when we got there.

I watched..
I observed..


There was something fishy. She swallowed something but was acting like nothing ever happened. It was raining so we ran inside. We were not sure which floor to go in after-hour.. Its been a year we came to that building. so we tried all..
floor 1..no
2.. no

why we always forget to read the signs.
 it was 4


We came out of the elevator and went to the waiting lounge.

We waited.. and waited..


Finally the doctor started with the usual checkup. Then he had to take and x ray. My dad told us, me and my brother, to wait right there in lounge. My mom was reading a magazine.. I knew she was worried inside.. she was not smiling or talking. I was worried too.


we waited. and waited..


I read a few books. and waited some more.

"Was she alright?"
"What was taking so long."
then what seem like ages. my dad came out..
"Finally" i said under my breath. 
"What is it.. what happened?"


We saw the x-ray back in doctor's office on the computer... "a ray on the doom's day" i called it in my heart.. the piece of gold chain.. it was not in throat or in the pipe under it.. it was in stomach.
Doctor and my mom and dad conferenced.


Talk, talk, talk...


Doctor said she will be OK. We have to give her some liquids. And may be some medicine. But mostly she was alright. I was relieved.

We came back home. It was time for bed. Before bed i said to myself.. "It could be worse..  I am glad its not. I m glad its over." I let go of all the worries and slept.


the end.

یہ شائد دو ماہ قبل چھوٹی کی ایک شام کا ایڈوینچر تھا جو بہن کی مالا سے کھیلتے کھیلتے اسے نگلنے کا تھا۔۔ جس کا نتیجہ اس شام دو گھنٹے کا ایمرجنسی وزٹ تھا۔۔ دو دن کی انتہائی نگہداشت و نگرانی بھی۔ اور ہاں یہ تحریر بھی۔  اتنی مکمل تحریر کی مجھے امید نہیں تھی۔

3/19/2011

چودھویں کا چاند

کل شام کو جب سب نکلے تو میرا دماغ حسب عادت سب کچھ ساتھ ہی اٹھا لایا۔ وہی رات کے کھانے کا مینو، پڑوسن سے کرنے والی گفتگو، سالانہ امتحانات کی ورک شیٹس کی فکر، سیلوں کی تاریخیں، چھٹیوں کا نقشہ۔۔۔ گاڑی کے باہر کے مناظر سے بے نیاز اور گاڑی کے اندر ( اپنے اور دوست کے) بچوں کے مناظر سے بےزار میں کچھ غیر حاضر سی تھی جب چھوٹی کی بڑی سی آواز نے مجھے چونکا دیا۔۔ ماما ۔۔ ۔کتنا بڑا چاند۔۔۔



 شام پانچ بجے مجھے چاند کے بھدے پھیکے پن کے علاوہ کسی چیز کی توقع نہیں تھی۔ سو حسب عادت دیکھے بغیر ہی واہ واہ کا نعرہ بلند کر دیا۔ پھر واہ واہ کی بازگشت دو ایک مرتبہ اور بلند ہوئی تو میں نے سرسری نظر داہنی طرف ماری۔ چاند واقعی بڑا اور ضرورت سے زیادہ اجلا تھا۔

سورج غروب ہونے سے بھی پہلے ایسا چاند۔۔ میں تھوڑی حیران تھی
چاند بہت قریب ہے۔ اور تمہیں حیرانی ہوگی کہ کل سال کا سب سے بڑا پورا چاند ہے۔ احسن ہمیشہ کی طرح حیرانی کو ایک درجہ آگے لے گئے۔
کیا واقعی۔ اب میں نے ذرا غور کیا۔ اور بہت دنوں بعد اس کی خوبصورتی کو ٓنکھ بھر کر دیکھا۔ بلکہ باقی رستہ میں نے چاند ہی کو کھوجتے گزارا۔

گھر آ کر ویب پر چیک کیا تو معلوم ہوا یہ واقعی سال کا بلکہ دس سال کا سب سے بڑا پورا چاند ہے جو آج تین سے چھے پاکستانی رات تین ۔۔ نارتھ امیریکہ میں دیکھائی دے گا۔ جب چاند اپنے مدار میں زمین کے قریب ترین ہوتا ہے تو اپنے معمول کی جسامت سے کچھ دس فیصد زیادہ بڑا دکھتا ہے جسے ہم عمومی آنکھ سے اکثر نہیں دیکھ پاتے۔

ویسے تو چاند کو دیکھنے کی بھی ایک لگن اور عمر ہوتی ہے۔ لیکن کیا واقعی زندگی گزارتے گزارتے ہم ان چھوٹی چھوٹی خوبصورتیوں کو یونہی بےکار سمجھ کر نظر انداز کرنا سیکھ جاتے ہیں۔ بچوں کا ساتھ مجھے مالک کی طرف سے دنیا دیکھنے کا ایک چھوٹا سا ریفریشر کورس لگتا ہے جس میں ہماری آنکھ اور دل تازہ دم ہو کر نئے سرے سے محسوس کرنا شروع کرتے ہیں۔

3/08/2011

شطرنج اور ایک صورت خرابی کی

چھوٹی کا تتلاتا لہجہ صاف ہوتا جا رہا ہے۔ قد نکالنے کے ساتھ ساتھ اس کی انا بھی سر اٹھا رہی ہے سو ہار ماننا اب اس کے لیے مشکل ہو جاتا ہے۔ اسے معلوم ہے سب اس سے زیادہ جانتے ہیں لیکن اس کا سب سے آسان حل تو یہی ہے کہ نہ اپنی کم علمی کا اعتراف کیا جائے اور نہ ہی کسی اور کو جیتنے دیا جائے۔ سو پچھلی شب بہنا اور بھائی کو شطرنج کھیلتا دیکھ کر بہت شدت سے اپنے نظر انداز ہونے کا غم ہوا۔ جس کو غلط کرنے کے لیے مجھے بیچ میں دخل دینا پڑا۔ تو بھائی نے جب پڑھنے کے لیے چھوٹی سی بریک لی تو شطرنج کا بورڈ، بہنا دونوں ان کے رحم و کرم پر آگئے۔ 

 
اب جو نئی گیم انہوں نے بنائی ہے اگر میں ان کی ہم سنی کا شرف رکھتی تو ضرور پیٹنٹ کے لیے اپلائی کر دیتی۔ 
تو کون جیتا آخری گیم میں، میں نے رات کے کھانے پر موضوع نکالا۔ 
جیتا۔۔!! بہنا کی بڑبڑاہٹ۔ ہم نے ہار جیت کے بغیر کھیلا ہے۔۔

ہاں ماما۔ اس میں کوئی نہیں جیتتا۔۔ چھوٹی بولی
پھر کیسے کھیلتے ہیں اسکو
تو مہروں کی تفصیل کچھ ان کی زبانی:
بادشاہ اور وزیر جو ہیں وہ ماں باپ ہیں۔
(انہیں تو اس نے بورڈ پر بھی نہیں رکھنے دیا۔۔ احتجاجی صدا۔ میرا اشارہ۔ خاموش۔۔ سننے دو بھئی)
ہاں ماں باپ وہ باہر کھڑے دیکھ رہے ہیں
اچھا پھر کیا ہوتا ہے۔
کچھ نہیں۔ بس سارے پیادے لڑکیاں ہیں۔ (ہمم) انکے لمبے ڈریسز(ہممم) تو وہ بیلے ڈانس کرتی ہیں فلور پر
سارے دوسرے مہرے لڑکے ہیں(ہاہا) وہ ڈانس نہیں کرتے۔
تو کیا کرتے ہیں
وہ فٹبال کھیلتے ہیں۔

گیم ختم کیسے ہوتی ہے۔
جب لڑکیاں ڈانس کرکے تھک جائیں گی۔ لڑکے فٹبال کھیلتے کھیلتے بورڈ کی دوسری سمت چلے جائیں گے۔ ان کے ماں باپ انکو بلا لیں گے تو ۔۔۔
(یا اگر قسمت اچھی ہو تو کھانے کا وقت ہو جائے گا۔۔۔ احتجاجی صدا)

گیم کے اصول تو جلد یا بدیر اسکو ازبر ہو جائیں گے لیکن پرانے کھیل کا نیا پن روز روز کہاں ملے گا۔

2/18/2011

محبت


قدیم یونانی مفکروں نے محبت کو سمجھنے کے لیے چار حصوں میں بانٹ دیا تھا۔
Erosمحبت جو خواہش سے وابستہ ہے
Phileoدوستی کی محبت
Storage خاندان اور رشتہ داری کی محبت
agape خواہش سے عاری افلاطونی عشق ، دیوانگی
وقت اور حالات کے تحت اس ازلی جذبہ نےبہت سی ارتقائی شکلیں اختیار کیں۔ کہیں اسے عشق حقیقی اور مجازی کی تفریق دی گئی کہیں محض ہارمونز کا اتار چڑھاؤ کہ کر برطرف کر دیا گیا۔ کہیں کسی مصور کا فن پارہ بنا تو کہیں کسی شاعر کی نوا۔ لیکن اسرار خودی کی طرح محبت کے اسرار گہرائی میں جانے سے گہرے ہوتے جاتے ہیں۔

گو یہ ایک جذبہ ہے اور دوسرے جذبوں کی طرح اس کا بھی دورانیہ ہوتا ہے۔ دنیا کے ہر خطہ میں محبت کے اس جذبے پر اتنی بحث ہو چکی، ہر ادب میں اس پر اتنا لکھا جا چکا کہ اسے سیدھے سبھاؤ بیان کرنا بذات خود ایک جوئے شیر لانے کے مترادف ہے۔ لیکن اتنا وثوق سے کہا جا سکتا ہے کہ اس کی حقیقت جنس مخالف کی وقتی کشش سے کچھ زیادہ ہی ہے۔

بچپن میں مجھے محبت سے بہت محبت تھی۔ لگتا تھا دینا کی ہر شے ایک دوسری سے بندھی ہے اور یہ محبت کا شاخسانہ ہے۔ کشش ثقل زمیں کی اختیاری قوت ہے جو ہمیں خود میں سمائے ہوئے ہے۔ ستارے اور سیارے ایک دوسرے کے گرد ایک ازلی چاہ میں بندھے گھومتے ہیں۔ ستر ماؤں سے زیادہ چاہنے والا خدا محبت میں لپٹ کر کریم تر ہے۔ بچے اور والدین، ہمسائے اور جانور، راہوں میں چلتے لوگ، ، دوسری قومیں، انجانے ملک۔ زمیں میں دبا لاوا۔ زندگی، موت اور موت کے بعد کی زندگی۔۔۔ محبت ہر روپ میں دلکش تھی اور میری ذات اس سب کا ایک حصہ۔ محبت میرے ارد گرد میلوں پر پھیلی تھی۔ اور قرنوں پر۔ محبت کا متضاد نفرت نہیں تھی۔ بس کم محبت تھی اور زیادہ محبت۔

جب بڑی ہوئی تو سب کی طرح مجھے ارد گرد کھنچی لکیریں نظر آنے لگیں جو تقسیم کرتی ہیں۔ بہت سی حدود۔۔ جو ہمیں بانٹ دیتی ہیں۔ سرحدی حدود، مذہبی، سماجی اور ذہنی حدود۔۔ قدیم، جامد اور بے لوچ۔ ایسی حدود جن میں ہم خود کو محفوظ سمجھتے ہیں۔ جن کو ہم مقدس گردانتے ہیں۔ جن کو ہم پھاند نہیں سکتے۔ جن میں ہم بھٹک نہیں پاتے۔ جن میں ہم محصور ہو جاتے ہیں اور وہیں بس جاتے ہیں۔ اسی میں ہماری معاشرتی اکائیوں کی بقا کا تصور بنایا گیا ہے۔ سوال اٹھا: کیا محبت ایک غیرضروری، بری شے ہے؟ جواب ملا۔ محبت کی تشریح پر منحصر ہے۔ یہ درد دل یا لب پہ آتی کوئی دعا ہو تو صدقہ جاریہ ہے اور اگر ایکسٹرا میریٹل ہو تو عزت سادات تو جائے گی، سر بھی نہیں بچے گا۔

زندگی کو پڑھنے کے بعد معلوم ہوا ہے کہ محبت سوز دل ہے جو جلاتی نہیں، جلا دیتی ہے۔ شکستگی کی یہ تابداری پھر جو بھی روپ دھارتی ہے وہ وقت کی دھند سے آگے نکل جاتا ہے، اپنے نشان پیچھے چھوڑ جاتا ہے۔ انسانوں میں محسنین کی ریت ڈالتا ہے۔ مگر اس کی بہت صورتیں اور رنگ ہیں۔ اتنے کہ گننا چاہو تو نہ گن سکو۔ شائد یہ اس جذبے کی ہمہ گیری اور خوبصورتی ہی ہے جو اسے آفاقی سمجھا جاتا ہے۔ محبت کے موضوع پر لکھتے ہوئے اقتباسات کی کوئی کمی درپیش نہیں ہوتی کہ ہر شخص اس پر کچھ نہ کچھ کہ چکا ہے لیکن نوک قلم پہ کچھ سطور ہیں

۔(محبت) ۔۔ آب جو ہے
جو دلوں کے درمیان بہتی ہے
خوشبو ہے
کبھی پلکوں پہ لہرائے تو آنکھیں ہنسنے لگتی ہیں
جو آنکھوں میں اتر جائے
تو منظر اور پس منظر میں شمعیں جلنے لگتی ہیں
کسی بھی رنگ کو چھو لے
وہی دل کو گوارا ہے
کسی مٹی میں گھل جائے
وہی مٹی ستارہ ہے

محبت جوڑتی ہے۔ انسان کو انسان سے، زمین کو باسیوں سے، بندے کو رب سے، پودے کو مٹی سے، پرندوں کو ڈار سے۔ تو یہ ایک ناطہ ہے، ایک تعلق ہے جو کسی مابعد طبیعاتی فلسفے میں، کسی سائنس میں، کسی ادبی تحریر میں مکمل نہیں بیان ہو پاتا لیکن کسی ایک لمحے میں جیسے اس کا پورا ادراک سما جاتا ہے۔ پھر باقی تفصیلات اضافی ہو جاتی ہیں۔

مشاہدہ یہ کہتا ہے، اپنی آفاقیت سے قطع نظر محبت وہ واحد شے نہیں ہے جو کائینات کے ارتقاء، ترقی اور تبدیلی کی ضامن ہے۔ کیونکہ فطرت کا تسلسل اور وجود اور توازن متضادات کے اصول پر کاربند ہے۔ مرکزمائل اور مرکزگریز قوتیں باہم مل کر چیزوں کو ایک مرکب صورت دیتی ہیں۔ تو محبت کا متضاد کیا ہے۔ نفرت؟؟ نہیں نفرت اصل میں اس مرکز گریز قوت کا حاصل نفع ہے۔ محبت پھیل کر چیزوں کو گھیراؤ میں لے لیتی ہے تو کوئی ایسی شے جو پھیلاؤ نہ ہونے دے۔ جو بند کردے۔ جو بڑھنے نہ دے۔ جوحد بن جائے وہی محبت کا متضاد ہے۔

مجھے لگتا ہے ‘میں’ وہ شے ہے جو میں اور تو کا فرق مٹانے نہیں دیتی۔ ‘میں’ وہ شے ہے جو محبت کو حد سے آگے جانے نہیں دیتی۔ جو راستہ روک دیتی ہے۔ کہکشاؤں کو ایک دوسرے میں گرنے نہیں دیتی۔ ستاروں کو رستہ بھتکنے نہیں دیتی۔ سمندر کو بے کنار ہونے سے روکتی ہے۔ فرد کو ملت میں مدغم نہیں ہونے دیتی۔ میں ذات کو مستحکم کرتی ہے۔ ذات کی یہ بندش ایک طرف ارتقاء کو مکمل کرنے میں محبت کا ساتھ دیتی ہے۔ تو دوسری جانب فرد کو تنہائی اور اکیلے پن کا تحفہ دیتی ہے۔

محبت کو سمجھنے کے لیے ہم اکثر داستانوں اور استعاروں کا سہارا لیتے ہیں۔ لیکن اس کے متضاد کو سمجھنے کے لیے اتنا ہی کافی ہے کہ جو کچھ بھی ہے یہ محبت نہیں ہے۔ تو محبت اپنے مرکزگریز کے مساوی ہونے کے باوجود زیادہ اہمیت و حیثیت کی حامل ہے۔ بنیادی حوالہ ہے۔ سوال اٹھے گا، ہم محبت کے اس ایک جذبے کو باقی بنیادی جذبوں بھوک، خوف، درد وغیرہ سے زیادہ اہمیت کیوں دیتے ہیں۔ اس پر اتنی بحث کیوں کرتے ہیں۔ اس کو اتنا اختیار دے کر خود بے اختیار کیوں بن جاتے ہیں۔ اس پر فخر کیوں کرتے ہیں۔

شائد اس لیے کہ یہ جذبہ ہمیں جھوٹی، سچی امیدوں سے گزار کرمحرک رکھتا ہے۔ شائد اس لیے کہ باقی جذبوں سے کہیں زیادہ اس کا تعلق خوشی سے ہے، جو محبت کے ہونے کے خیال سے ہی ہمارا اندر اور باہر روشن کر دیتی ہے۔ یہی جذبہ سب سے زیادہ ہم مالک سے شئیر کرتے ہیں۔ اس نے ہی تو بتایا کہ خوب جان لو ۔۔۔۔ پھر ایسوں سے میں محبت نہیں کرتا۔۔۔ اب اور کیا کہیں کہ ادا کیا ہے۔ یہاں پیازی اشکوں والے رقیب اور عشق ازل گیر کے مقابلے کا کوئی مقام نہیں لیکن حقیقت ہے کہ خوشی صرف ہمیں نہیں ملتی، اپنی تمام تر بےنیازی کے باوجود کسی کے اس کی طرف لوٹ آنے پر مالک بھی خوش ہوتا ہے۔ توبے اختیاری سرشت میں ڈل چکی ہے اس سے لڑنا ناممکن ہے۔ خوشی اور محبت کا بندھن بہت اٹوٹ ہے۔ درد بعد میں آتا ہے۔ جب مرکز مائل کا مرکز گریز سے ٹکراؤ شروع ہوتا ہے۔ یہاں حسن توازن بگڑتا ہے۔

جی ہاں، محبت کا توازن بگڑے تو اس کی شکل بھی بگڑ جاتی ہے۔ محبت اپنی پہلی انتہا میں سپردگی اور قبولیت ہے۔ اور دوسری انتہا میں غلبہ اور تسلط ۔ ۔ کبھی کبھی یہیں پر اجتماعی ارتقاء بے معنی ہوجاتا ہے۔ اور کبھی کبھی ان دونوں انتہاؤں میں کچھ خاص فرق نہیں رہتا۔ کیا، کیوں اورکیسے کے سوالات ختم ہو جاتے ہیں۔ دشت اور استخوان سے آپ سوال کریں گے بھی کیا۔ سو محبت میں کچھ شرطوں اور توازن کی جگہ ضرور رکھنی چاہیے۔ ارے۔۔ بھول گئے دل کےساتھ ساتھ پاسبان عقل بھی توہے توشہ خاص میں ۔۔