10/25/2010

گڑیا رانی، بٹیا رانی


ویسے تو وہ شہزادی ہیں اپنی راجدھانی کی اور ان کے نام بھی کئی ہیں۔ لیکن اگر انہیں گڑیا رانی، بٹیا رانی بلایا جائے تو کچھ چمک سی جاتی ہیں۔ چمکتی تو یوں بھی رہتی ہیں کہ دن میں دس بار دھلتی ہیں۔ دس بار ہاتھ پیر لوشن سے لیپ لپا کر مطمعن ہوتی ہیں کہ کچھ پہلے سے بہتری ہے۔ صاف کپڑے بھی میلے کپڑوں کی طرح بدلتی ہیں۔۔ بار بار۔ تن و توش کا کچھ یقین سے نہیں کہ سکتے۔ کبھی تو بھاری بھرکم اور کبھی ایک تنکا سی جان۔ جس میں کچھ کردار تیل کی شیشی کا بھی ہے جو ہاتھ لگ جائے تو سر پر انڈیل کر چھوڑتی ہیں۔۔ اپنے بھی اور دوسروں کے بھی۔ چپڑی شکل کے بال اور آنکھیں گہری بھوری ہیں۔


بہت بارعب ہیں۔ انکی آنکھ کے اشارے پر دنیا کے کام چلتے ہیں۔۔ یا نہیں چلتے۔ یوں ہے تو نہیں، لیکن وہ چاہتی ہیں کہ یوں ہو جائے۔ لیکن زیادہ زور بس اپنے بہن بھائی پر ہی چلتا ہے۔ ان کی جو چیز چاہیں اٹھا لے جاتی ہیں۔ وہ بیچارے اپنی چیزیں چھپاتے پھرتے ہیں۔ ان کے کپڑوں پر بھی انکا حق پہلا ہے۔ خصوصا جن کے بارے میں شک ہوجائے کہ پہلے سے چھوٹے لگ رہے ہیں اور بھائی بہن کے کام کے نہیں رہے۔ خواہ ابھی پرائس ٹیگ لگے ہوئے ہوں۔ کسی کی مجال نہیں کہ چوں کر سکے۔۔۔ ان کے پاس ایک بھونپو ہے جو کسی بھی وقت، کوئی بھی راگ اونچے سروں میں ایک آدھ گھنٹے آرام سے آلاپ سکتا ہے۔۔ اب ہر کوئی موسیقی کا اتنا شوقین بھی نہیں ہوتا۔

ہر وقت، ہر کام میں اپنی ٹانگ پھنسائے رکھتی ہیں۔ رسمی تعلیم تو ابھی کچھ خاص نہیں لیکن سیکھنے کا اتنا شدید شوق ہے کہ ہتھوڑے سے لیکر بیلن اور کمپیوٹر سے لیکر پینٹ کے برش تک ہر چیز پر ہنر آزما چکیں ہیں اور ابھی بھی تسلی نہیں ہوئی۔ یعنی ہنر مسلسل آزمایا جارہا ہے۔ شادی کے نام پر شرماتی نہیں ہیں۔ اگر کہیں مذاق میں بارات کا مینو معلوم کرنے بیٹھیں تو میٹھے تک کا نام بتا دیں گی۔

اپنی حد تک آزادی عمل کی بہت قائل ہیں۔ یہاں تک کہ اپنے لڑکا اور لڑکی ہونے کے بارے میں روز نئے سرے سے فیصلہ کرتی ہیں۔ جس کا تعلق جنس سے کم اور کپڑوں کے رنگ اور قسم سے زیادہ ہے۔ ابھی دو دن پہلے جب بالوں کو آنکھوں سے ہٹا کر بینڈ لگانے کا سنا تو تمکنت سے بولیں۔۔۔" ادھر دیکھیں۔۔" دیکھنے والوں کی سوالیہ نگاہیں سمجھ کر شفقت اور بے نیازی کے عجب امتزاج سے بولیں۔۔۔ "آج میں نے لڑکوں والی ٹی شرٹ پہنی ہے۔۔۔۔ آج میں لڑکا ہوں۔ لڑکیوں والے کاموں کی توقع نہ کی جائے مجھ سے۔" اور پھر گاڑیوں، ٹرکوں اور جہازوں کی معمول کی نقل و حمل کا وہ دور چلا کہ الاماں۔

لیکن لڑکی ہونے والا دن بھی کچھ آسان نہیں ہوتا۔۔ جب ہر چیز کا رنگ گلابی یا اسی کے مضافات میں سے ہوتا ہے۔ جب وہ گلابی دودھ(سٹرابری فلیور)، گلابی نلکی سے نزاکت سے سٹکتی ہیں۔ باربی کی مووی دیکھتی ہیں۔ اپنی مالا اتنی بار کھول بند کرکے پہنتی ہیں کہ سودے کی فہرست میں ہر ہفتے نئی مالا لکھی جاتی ہے۔ ذرا فرصت ہو تو ہاتھوں پیروں کے ناخن بچھا کر بیٹھ جائیں گی کہ انہیں رنگ دیا جائے۔ ویسے نیل پالش کا کام مارکرز سے بھی لے لیتی ہیں۔ بالوں میں چار چار بینڈ ایکساتھ ڈال کر، ہاتھ کمر پر رکھ کر کچھ ایسے زاویے سے لچکیں گی کہ تھوڑا میٹیریل ناکس ہوتا تو چٹک کر ٹوٹ جاتیں۔ پھر بیچارے بھائی سے رعب سے پوچھیں گی۔۔۔" بھائی (ابے کی ٹون میں )میں کیسی لگ رہی ہوں"۔ بھائی بیچارہ جو اپنے گاڑیاں، جہاز اور ٹرک توڑنے، بنانے اور نہ جانے کہاں لے جانے میں انتہا سے زیادہ مصروف ہوتا ہے، منہ اوپر کیے بغیر ہی بولے گا۔۔ "واہ، بہت اچھی۔۔" خوشی کی انتہا پر پہنچ کر وہ ایک دفعہ پھر سنگھار میز پر چڑھ کر، مسکرا کر خود کو دیکھیں گی، جیسے بزبان خاموشی کہ رہی ہوں۔۔ "ہوں ۔۔۔صحیح کہ رہا ہے بیچارہ، میں تو ہوں ہی اتنی اچھی۔ "

اوپر تلے کے ہونے کی وجہ سے بھائی اور بھائی لوگوں سے خاص انسیت محسوس کرتی ہیں۔ لیکن اب ہر کوئی بھائی کے سے حوصلے تو نہیں رکھتا۔ آخری بار جن صاحب کو دست شفقت رسید کیے تھے، سنا ہے انہیں لڑکیوں کے نام سے چڑ ہوگئی ہے۔ آج بھی ان کو دیکھ کر ممی کے پیچھے چھپ جاتے ہیں۔ دوستی میں بھی زیادہ تعلقات کسی سے نہیں بڑھاتیں۔ حتی کہ ویلنٹائین کارڈ بھی صرف اماں ابا کے لیے بناتی ہیں۔

کبھی کبھی دنیا کی بے ثباتی سے اکتا بھی جاتی ہیں۔ اکیلا رہنا چاہتی ہیں۔ کچھ ہی دن پہلے بولیں۔ اتنے بڑے گھر میں دل نہیں لگتا۔ ہمارا تو بس دامن میں کوہ کے اک چھوٹا سا جھونپڑا ہو۔۔۔ تفصیل پوچھی تو تین فٹ سے کوئی ہاتھ بھر اوپر۔۔۔۔ دونوں ہاتھ سر سے اٹھا کر بولیں "بس کچھ اتنا۔۔۔ جس میں ہم اور ہماری فیملی آرام سے رہ سکے۔" اور ان کی فیملی کونسی کچھ بڑی ہے۔ چار گڑیا، دو بھالو، ایک بلی اور چار ڈائینوسار۔" خاموشی سے کونے والے میز پر بڑی چادر ڈال کر عارضی خیمہ تیار کر دیا۔ سو جب کہیں نہ ہوں، فیملی کےساتھ وہیں چائے پیتی پائی جائیں گی۔

لفظ، محاورے اور ترکیبات انکے گھر کی لونڈی ہیں۔ جیسے چاہتی ہیں استعمال کرتی ہیں۔ آج ہی فاسٹ اسلیپ کو کچھ ایسے انداز سے استعمال کیا کہ لمحہ بھر کو سبھی ششدر رہ گئے۔ گرم بستر سے اٹھیں اور گرگابی پہنے بنا ٹھنڈے فرش پر پاؤں رکھ دیے۔ تھوڑی دیر بعد سب کو بتا رہی تھیں۔۔ پاؤں بہت دکھ رہے ہیں۔ لگتا ہے آج بہت فاسٹ سلیپ کی میں نے۔

ایک بار جو سیکھ لیں اسے ہاتھ سے جانے نہیں دیتیں۔ جیسے معلوم ہوا کہ مائیکرو ویو میں سب کچھ گرم (وارم) ہو جاتا ہے۔ سو پچھلی دفعہ گرم گرم اوون سے نکلا کیک "ویری ہاٹ" سے "وارم" کرنے کے لیے بار بار مشورہ دے رہی تھیں ۔۔۔ مائیکرویو کیوں نہیں کر لیتے۔۔۔ ہم نے فریزر کا جوابی مشورہ دیا تو سنجیدگی سے بولیں وہ تو کولڈ کرنے کے لیے ہے۔۔ اور مجھے کیک کو صرف وارم کرنا ہے۔

رنگوں سے کچھ زیادہ ہی متاثر ہیں آجکل۔ ہر شے کا مخصوص رنگ ان کے لیے خاص معانی رکھتا ہے۔ خصوصا” کھانے پینے کی اشیاء میں۔ تو سالن سرخ لیتی ہیں، کیک براؤن، لالی پاپ گلابی اور جوس جس بھی رنگ میں مل جائے انکو پیارا ہے۔ اس کے علاوہ بس ایک سفید چاول۔۔۔ باقی چیزوں سے دور ہی رہتی ہیں۔

آج کل موسیقی سے بھی شوق فرماتی ہیں۔ اور فی البدیہہ گانے بناتی اور گاتی چلی جاتی ہیں۔ ایک دن انہیں سے پوچھا ذرا آسان الفاظ میں ترنم کے بغیر تو بتاہیے گا۔۔۔ تیار ہوگئیں۔۔۔
کچھ ایسے
"بیلونز آر اپ، بیلونز آر ڈاؤن
بیلونز آر ایوری ویر
بیلونز آر ییلو، گرین اینڈ براؤن
رین بو بیلونز آر ہیر

منہ سے بمشکل واہ واہ نکلی۔۔۔ اور مزید کی فرمائش کی۔۔ پھر جیسے سامع دیکھ کر ہر بڑا فنکار کرتا ہے۔ بولیں عرض ہے

فلاورز آر ریڈ
آئی ایم ان بیڈ
مائی فیس از ڈ

آں آں ۔۔۔ جلدی سے ٹوکنا پڑا

سلیپ ان یور بیڈ
شب بخیر۔۔۔

اگرچہ جن کے ہم اگلے سامع تھے وہ بھی انڈیانا جونز اور کرسٹل سکل وغیرہ کا اخترائی (امپرووازیڈ) ناٹک ہی دکھانے والے تھے، لیکن ایک تیں فٹی شہزادی کا ریڈ فلاورز، جانے کیوں اسوقت کچھ برا شگن لگا۔ وہ بھی نیند میں تھیں شائد، تکرار نہیں کی۔ ویسے کافی مترنم لگتے ہیں ان کے باآواز بلند گائے گانے بس ہیوی میٹل میوزک ساتھ نہ ہو۔

رقیق القلب بھی بہت ہیں۔ کسی کو روتا بسورتا دیکھیں، جو انہی کی بدولت اکثر ہوتا ہے، جھٹ آنسو پونچھنے پہنچ جاتی ہیں۔ گلے لگا کر وہ تسلی دلاسے دیں گی کہ رونے والا حیران ہوکر چپ بھی کر جائے گا، اور وہ جاری رہیں گی۔ اگر گلے تک رسائی نہ ہو تو ہاتھ پر ہی ہاتھ پھیر پھیر کر چپ کرواتی رہیں گی۔ تالیف قلب ہو نہ ہو ہاتھ پر گدگدی ضرور شروع ہو جائے گی۔

داستان بنانا ان کا خاص فن ہے۔ غضب یہ ہے کہ اسی شد ومد سے وہ خود بھی اسپر یقین لے آتی ہیں۔ جس روز سے سنایا ہے کہ پیچھے درختوں میں ایک بہت بڑا ڈائینو سار رہتا ہے جو دراصل انہی نے اپنے جادو سے ایک دن ایک مینڈک سے بنا دیا تھا۔۔۔ اور اب وہ ان کو ڈھونڈ رہا ہے تاکہ اپنا انتقام لے سکے۔۔۔ کسی کو اس طرف اکیلا نہیں جانے دیتیں۔ اگر کوئی زیادہ ضد کرے تو اپنی جادو کی چھڑی لےکر جلدی جلدی ساتھ چلتی ہیں۔ کیونکہ اس سے خوب نمٹنا تو صرف انہیں ہی آتا ہے۔

یوں تو اکثر چیزوں سے ان کی وابستگی جلدی ہو جاتی ہے، لیکن گلابی کمبل جس میں لپٹ لپٹا کر گھر آئیں تھیں ان کی جان ہے۔ آج تک ان کے ساتھ لٹکا پھرتا ہے۔ کبھی اس پر گڑیا کیساتھ پکنک ہو رہی ہے تو کبھی بھالو کو لپیٹ کر ڈاکڑ کے پاس لے جایا جا رہا ہے۔ کبھی یہ سپر مین والا کیپ ہے تو کبھی دوشالہ۔ اور کبھی اسی کے کونے کو ہاتھ میں تھام کر نیند کو بلایا جاتا ہے۔ کمبل کی شکل کچھ کچھ پہچان میں نہیں آتی۔ لیکن وہ بھی کہاں حسن صورت کی قائل ہیں۔

اپنی خودی کو بلند رکھنے کے لیے ان کے پاس ایک بغچہ ہے۔ اس بغچے میں ایک تھیلی ہے۔ اور اس تھیلی میں وہ سب چیزیں ہیں جن کی ایک بلند نظر شہزادی کو ضرورت پڑ سکتی ہے۔ جیسے ایک کاسنی کیمرہ، گلابی آئینہ، آتشی کنگھا، پیازی چشمہ، فیروزی سیل فون اور عنابی جادو کی چھڑی۔ کیمرہ بوقت ضرورت انہیں بتاتا ہے، "یو آر پریٹی ایز پرنسس" آئینہ چلاتا ہے، "فیرسٹ آف آل۔" کنگھا ان کی زلفیں سنوارتا ہے، سیل فون تو ان کی تعریف میں زمیں آسمان کے وہ قلابے ملاتا ہے کہ کیا ہی کوئی عاشق صادق کرے گا۔ ان کے پیازی چشمے کے رنگین شیشوں سے دنیا بہت ہی البیلی لگتی ہے، اپنی اپنی سی۔ اور جادو کی چھڑی بس جادو کی چھڑی ہے۔ جو پسند نہیں آنا فانا دھوئیں میں بدل دیتی ہے۔ اور بٹیا رانی کروفر سے وہاں سے چل دیتی ہیں۔


ہماری گڑیا رانی کو ابھی دنیا کی دھوپ نہیں لگی، اور ان کا دھوپ کا چشمہ اندیکھی دھوپ کو بھی پھولوں سے بدل دیتا ہے۔ لیکن دنیا تو دھوپ چھاؤں کی کہانی ہے۔ پرسوں تک وہ اپنے گلابی کمبل میں لپٹی تھیں۔ کل الٹے سیدھے جوتے پہنے "ٹہرو، رکو، ویٹ فار می۔۔" کہتی ہاتھ بھر انگلی تھامے رکے رکے قدم اٹھاتی تھیں۔ آج انہیں جوتے پہننا آ گئے ہیں، اور وہ سب سے آگے، بہت تیز دوڑ رہی ہیں۔ ہم اپنی انگلی اپنے ہاتھ میں تھامے، گلابی موہنی کو آنکھوں میں بسائے دور پیچھے کھڑے سوچ رہے ہیں۔ "کس قدر جلد بدل جاتے ہیں انساں جاناں"

-----------------

ہم نے یہ خاکہ ایک خاص گڑیا پر لکھا ہے، لیکن چونکہ تمام تین فٹے حسن اتفاق سے ایک جیسے ہوتے ہیں اس لیے کوئی بھی مشابہت محض اتفاقی ہوگی۔
-----------------

گڑیا رانی جیسے کہ آپ سمجھ گئے ہیں میری نٹ کھٹ تین سالہ بیٹی ہے۔ یہ سب کچھ جو میں نے لکھا ہے اس کا آدھا جو میں نے رف ڈرافٹ کیا تھا اسے ہفتہ بھر آبزرو کرکے۔ لیکن بچے کچھ اس تیزی سے بڑھتے ہیں کہ ابھی میرا ڈرافٹ پورا لکھا بھی نہیں گیا تھا کہ اس نے تتلانا کم کر کے آف کورس اور پراببلی استعمال کرنا شروع کر دیا۔۔۔ میں نے آدھا ہی فائینل کر دیا کہ کہیں وہ شخصیت پوری ہی نہ بدل جائے جس پہ میں لکھنے کا سوچ رہی ہوں۔